جمعرات ۳۰ جون ۲۰۲۲ برابر ۳۰ ذو القعدہ ۱۴۴۳ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سبق کا متن
 
سبق ۱ باب ۱

آیت ۱۳

قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:

﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ[۱]

ترجمہ:

خداوند متعال کا ارشاد گرامی ہے:

«اور کافر کہتے ہیں: کہ آپ رسول نہیں ہیں، کہدیجئے: میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں»۔

ملاحظات

۱ . أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَتْلَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، فَقَالَ: شَهَادَةُ اللَّهِ كِتَابُهُ، وَإِنَّ بَيْنَ الرَّسُولِ وَأُمَّتِهِ شَهِيدَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، وَهُوَ خَلِيفَةُ اللَّهِ فِيهِمْ بَعْدَ الرَّسُولِ، وَلَا تَعْدِمُهُمَا أُمَّتُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، قُلْتُ: جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، فَقَدْ أَظْهَرْتَ لِي مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا يُخْفُونَهُ! قَالَ: لَا يُخْفُونَهُ، وَلَكِنْ لَا يَتَدَبَّرُونَهُ، أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا! فَأَخَذَنِي الْبُكَاءُ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟! قُلْتُ: آسَفُ عَلَى النَّاسِ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَسْمَعُوا قَوْلَكَ، وَإِنَّهُ الْحِكْمَةُ وَفَصْلُ الْخِطَابِ، وَلَوْ سَمِعُوهُ لَاهْتَدَوْا، فَقَالَ: لَا تَأْسَفْ عَلَيْهِمْ، ﴿وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ[۲]!

ترجمہ:

یونس بن عبداللہ ختلانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس کلام کے متعلق سوال کیا، اسکا فرمان ہے: «اور کافر کہتے ہیں: کہ آپ رسول نہیں ہیں، کہدیجئے: میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں»، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی گواہی اس کی کتاب ہے اور یقیناً پیغمبر اور ان کی امت کے درمیان دو گواہ موجود ہوتے ہیں: جن میں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے وہ جن کے پاس کتاب کا علم ہے اور وہی انکے درمیان پیغمبر کے بعد خدا کے خلیفہ ہیں اور انکی امت ان دونوں سے کبھی خالی نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ قیامت آجائے گی ، میں نےکہا: خدا مجھے آپ پر قربان کر دے؛ کیونکہ خدا کی کتاب میں سے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں آپ نے مجھ پر آشکار کر دیا! انہوں نے فرمایا: وہ اسے چھپاتے نہیں ہیں ، بلکہ وہ اس میں غور نہیں کرتے ہیں، یا انکے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں[۳]! اس وقت میں رونے لگا ، تو انہوں نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟! میں نے کہا: مجھے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے؛کیونکہ انہوں نے آپ کی بات نہیں سنی ہے ، جبکہ یہ حکمت اور فصل الخطاب ہے اور اگر وہ ان باتوں کو سن لیں تو ہدایت پا جائیں گے، آپ نے فرمایا: ان پر افسوس نہ کرو؛ «اور اگر اللہ ان میں بھلائی کا مادہ دیکھ لیتا تو انہیں سننے کی توفیق دیتا اور اگر انہیں سنوا دیتا تو وہ بے رخی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے»!

۲ . أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْقَاسِمِ وَوَلِيدُ بْنُ مَحْمُودٍ وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: كُنَّا جَمَاعَةً عِنْدَ الْمَنْصُورِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا وَقَالَ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ شَهِيدَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، وَلَا يَكْفِيهِمْ أَحَدُهُمَا دُونَ الْآخَرِ، وَهَذَا قَوْلُ اللَّهِ: ﴿قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَيَّنْتُ؟! فَدَاخَلَنَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ لَمَّا قَالَ هَذَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا وَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، لِيَكُونَا شَهِيدَيْنِ بَيْنَ الرَّسُولِ وَأُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَةِ الرَّسُولِ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهَذَا قَوْلُهُ: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ نَظْرَةً أُخْرَى فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ وَفَّيْتُ؟! فَأَخَذْنَا نَرْتَعِدُ مِنْ هَيْبَتِهِ لَمَّا قَالَ هَذَا كَأَنَّهُ لَيْسَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا!

ترجمہ:

حسن بن قاسم، ولید بن محمود، صالح بن محمد اور دوسرے لوگوں نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہم کچھ لوگ منصور کے پاس تھے، تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: بے شک اللہ کے لیے لوگوں پر دو گواہ ہیں: ایک کتاب خدا اور دوسرے وہ جنکے پاس کتاب کا علم ہے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک انہیں دوسرے سے بے نیاز نہیں کرتا اور یہ خدا کا ہی قول ہے اس نے فرمایا: «کہدیجئے: میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں»، پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: خدایا! کیا میں نے سمجھا دیا؟! خوفِ الٰہی کے بعد ہمارے پاس کوئی ایسی چیز وارد ہوئی کہ خدا ہی جانتا ہے کہ جب انہوں نے یہ کہا ، تو پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک زمین خدا کی کتاب سے اور ان سے جنکے پاس کتاب کا علم ہے ، خالی نہیں رہے گی ، جب تک کہ نبی اور ان کی امت کے درمیان قیامت تک کے لئے دو گواہ ہوں اور جنکے پاس کتاب کا علم ہے وہ پیغمبر کی عترت اور اہل بیت میں سے ہیں اور یہ انہیں کا کلام ہے ، آپ نے یہ فرمایا: «میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک خدا کی کتاب اور دوسرے میرے اہل بیت، اگر تم نے ان سے تمسک اختیار کیا تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض پر مجھ سے آملیں گے»، پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: خدایا! کیا میں نے پوری ادائیگی کی؟! جب انہوں نے یہ فرمایا ان کی ہیبت سے ہم کانپنے لگے، گویا وہ اس دنیا میں نہیں تھے!

↑[۱] . الرعد/ ۴۳
↑[۲] . الانفال/ ۲۳
↑[۳] . خدا کے کلام کی طرف اشارہ ہے، کہ جسمیں خدا نے فرمایا: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد/ ۲۴)؛ «کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا دلوں پر تالے ہیں؟!»۔
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]