جمعہ ۱۲ اگست ۲۰۲۲ برابر ۱۴ محرّم ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سبق کا متن
 
سبق ۱ باب ۲

حدیث ۹

رَوَى ابْنُ قَانِعٍ [ت۳۵۱هـ] فِي «مُعْجَمِ الصَّحَابَةِ»[۱]، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:

لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

ترجمہ:

ابن قانع [م:۳۵۱ھ] نے کتاب «معجم الصحابۃ» میں نقل کیا ہے، (اس طرح سے) وہ کہتے ہیں: ابراہیم ابن ہیثم بلدی نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) محمّد ابن کثیر مصیصی نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے قتادۃ سے، انہوں نے انس ابن مالک سے سنا کہ وہ کہتے ہیں: پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا:

میری امت میں سے کچھ ہمیشہ، قیامت تک کامیابی کے ساتھ حق کے لئے لڑیں گے۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: اخْتَلَفُوا فِي مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيِّ، فَمِنْهُمْ مَنْ وَثَّقَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَعَّفَهُ، وَقِيلَ: إِنَّهُ وَهِمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ[۲]، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَنْفَرِدْ بِهِ:

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمّد ابن کثیر مصیصی کے متعلق اختلاف رکھتے ہیں، بعض انہیں مورد ثقہ مانتے ہیں اور بعض انہیں ضعیف سمجھتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس سند میں اشتباہ کیا ہے، لیکن وہ اس حدیث کی روایت میں تنہا نہیں ہیں:

شاہد ۱

رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ [ت۴۳۰هـ] فِي «أَخْبَارِ أَصْبَهَانَ»[۳]، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ».

ترجمہ:

ابو نعیم [م:۴۳۰ھ] نے کتاب «اخبار اصبہان» میں نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حسن ابن عبد اللہ ابن سعید نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں): ابو بکر ابن ابی داوود نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) احمد ابن محمّد ابن یونس نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) عبد الرحیم ابن ربیع ابن سلیمان یمامی نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) میرے والد نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے یحیی ابن ابی کثیر سے، انہوں نے قتادۃ سے، انہوں نے انس ابن مالک سے کہ وہ کہتے ہیں: رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا: «میری امت سے کچھ ہمیشہ حق کے لئے جنگ کریں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی»۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: فِي رِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ زِيَادَةٌ غَيْرُ صَحِيحَةٍ، وَهِي «وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ»، وَلَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَلَيْسَتْ مِنَ الْحَدِيثِ، وَهُوَ قَوْلُهُ: «حَدَّثَنِي قَتَادَةُ هَذَا الْحَدِيثَ وَزَعَمَ أَنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ»[۴]، وَهَكَذَا كُلُّ مَا يُوجَدُ بِهَذَا الْمَعْنَى فِي ذَيْلِ رِوَايَاتِ الْبَابِ مِمَّا يُوهِمُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ تَأْوِيلًا لِلْحَدِيثِ، وَقَدْ لَبَّسُوهُ عَلَى النَّاسِ لِتَحْرِيضِهِمْ عَلَى طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ وَبَسْطِ الْفُتُوحَاتِ عَلَى عَهْدِ بَنِي أُمَيَّةَ، وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ تَصْرِيحٌ بِأَنَّهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهَا مَدْسُوسَةٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مَسَّتْهُ أَيْدِي الشَّامِيِّينَ، فَتَبَصَّرْ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ.

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اوزاعی کی روایت میں زیادتی ہے کہ جو صحیح نہیں ہے اور وہ زیادتی یہ ہے: «اور اپنے ہاتھوں سے شام کی طرف اشارہ کیا» اور یہ یحیی ابن ابی کثیر کی روایت میں موجود نہیں ہے اور اوزاعی سے ایسی چیزیں حاصل ہوئی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ قتادۃ کا کلام ہے اور یہ حدیث میں سے نہیں ہے اور وہ یہ ہے: «قتادۃ نے اس حدیث کو میرے لئے روایت کیا ہے اور یہ سوچا کہ وہ شام کے رہنے والے ہیں»۔ لہذا، اس معنی میں اگر کوئی دوسری چیز باب روایات کے ذیل میں پائی جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا کلام ہے در اصل بعض راویوں کا کلام تاویل حدیث میں ہے کہ جسے لوگوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے تاکہ وہ بنی امیہ کے دور میں لوگوں کو امیروں کی اطاعت اور فتوحات کی گسترش کا شوق دلا سکیں اور بعض روایتوں میں صراحتا بیان ہوا ہے کہ یہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا کلام ہے، لیکن ان سب میں تحریف واقع ہوئ ہے اور شامیوں نے اس حدیث میں تصرف کیا ہے، لہذا بصیرت سے کام لو اور جاہل نہ بنو۔

↑[۱] . معجم الصحابة لابن قانع، ج۱، ص۱۴
↑[۲] . دیکھۓ: العلل الكبير للترمذي، ص۳۲۴؛ تاريخ دمشق لابن عساكر، ج۱، ص۲۶۰.
↑[۳] . أخبار أصبهان لأبي نعيم الأصبهاني، ج۱، ص۱۲۴
↑[۴] . تاريخ دمشق لابن عساكر، ج۱، ص۲۶۰
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]