جمعہ ۱۲ اگست ۲۰۲۲ برابر ۱۴ محرّم ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سبق کا متن
 
سبق ۱ باب ۲

حدیث ۶

رَوَى الْحَاكِمُ النَّيْسَابُورِيُّ [ت۴۰۵هـ] فِي «الْمُسْتَدْرَكِ عَلَى الصَّحِيحَيْنِ»[۱]، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ، وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ، هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، لَا يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ مَسْلَمَةُ: يَا عُقْبَةُ، اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ! فَقَالَ عُقْبَةُ: هُوَ أَعْلَمُ، أَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

«لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ قَاهِرِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ».

فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَجَلْ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا رِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ وَمَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ، فَلَا تَتْرُكُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا قَبَضَتْهُ، ثُمَّ يَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ.

ترجمہ:

حاکم نیشاپوری [م:۴۰۵ھ] نے کتاب «المستدرک علی الصحیحین» میں روایت نقل کی ہے، (اس طرح سے) وہ کہتے ہیں: ابو العباس محمّد ابن یعقوب نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) بحر ابن نصر خولانی نے ہم سے بیان فرمایا، (وہ کہتے ہیں:) عبد اللہ ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) عمرو ابن حارث نے مجھے خبر دی کہ یزید ابن ابی حبیب نے ان سے بیان کیا کہ عبد الرحمان ابن شماسۃ نے ان سے بیان کیا کہ وہ مسلمۃ ابن مخلد کے پاس تھے، جب کہ عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص اس کے پاس حاضر تھے، پس عبد اللہ نے کہا: قیامت بدترین مخلوق کے سوا کسی پر برپا نہیں ہوگی، وہ لوگ اہل جاہلیت سے بھی بدتر ہیں، وہ خدا سے کچھ نہیں مانگتے مگر یہ کہ وہ اسے رد کر دیتا ہے۔ پس اسی وقت عقبۃ ابن عامر راستے سے پہنچا، پس مسلمۃ نے کہا: اے عقبۃ! دیکھو عبد اللہ کیا کہ رہے ہیں! پس عقبۃ نے کہا: وہ خود جانتے ہیں، لیکن میں نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

«میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ امر خداوند کے لئے جنگ کریں گے، جبکہ وہ دشمن پر کامیاب ہونگے اور جو انکے مخالف ہیں وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے، یہاں تک کہ قیامت ان پر آن پڑے جبکہ وہ اسی حال میں ہیں»۔

پس عبد اللہ نے کہا: ہاں، پھر اسکے بعد خدا ایک ہوا بھیجے گا جس میں مشک جیسی مہک ہوگی اور اسکی لطافت ریشم جیسی لطیف ہوگی، پس جس کے بھی دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا وہ اسے باقی نہیں چھوڑے گی اور اسے مار دے گی۔ اس وقت صرف بدترین لوگ باقی بچیں گے اور قیامت ان پر برپا ہوگی۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ[۲] مِنْ طَرِيقِ ‌أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، وَقَدْ ضُعِّفَ، وَطَرِيقُ الْحَاكِمِ طَرِيقٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ آخَرُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ كَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا لَا يَعْرِفُونَ، فَيَنْبَغِي الْإِعْرَاضُ عَمَّا تَفَرَّدَ بِهِ، خَاصَّةً إِذَا لَمْ يُسْنِدْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ قَوْلُهُ أَنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ، وَ«الْقِتَالُ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ» فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْقِتَالُ عَلَى أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَلَا يَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ الْأَمِيرُ خَلِيفَتَهُ فِي الْأَرْضِ دُونَ سَائِرِ النَّاسِ، وَلَا تَجِدُ عِصَابَةَ الْحَقِّ إِلَّا مُقَاتِلِينَ أَوْ مُسْتَعِدِّينَ لِلْقِتَالِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مُقَاتِلًا وَلَا مُسْتَعِدًّا لِلْقِتَالِ فَلَيْسَ مِنْهُمْ، وَالْمُسْتَعِدُّ لِلْقِتَالِ كَالْمُقَاتِلِ.

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالی نے فرمایا: مسلم نے اپنی صحیح میں اسے احمد ابن عبد الرحمان ابن وہب کے واسطے سے روایت نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے اور وہ حدیث جو حاکم کے واسطے سے ہے وہ واسطہ صحیح ہے اور یہ، دوسری حدیث ہے جو دلالت کرتی ہے کہ عبد اللہ ابن عمر و ابن عاص لوگوں کو وہ حدیثیں بتاتا تھا کہ جسے لوگ نہیں جانتے تھے؛ لہذا سزاوار ہے کہ ہر وہ حدیث جسے اس نے اکیلے روایت کی ہے اس سے بچا جائے، خصوصاً وہ حدیث جو پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی طرف نسبت نہ دی گئی ہو اور انکی یہ بات کہ قیامت بدترین لوگوں پر برپا ہوگی، یہ ان باتوں میں سے نہیں ہے کہ جسے اس نے تنہا بیان کی ہو اور «امر خداوند کے لئے جنگ کرنا» پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی حدیث میں، جنگ صرف ان چیزوں کے لئے ہے جس میں امر صرف خدا کے لئے ہو اور ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ امیر، زمین پر اسکا خلیفہ ہو، نہ یہ کہ تمام لوگ اور تمام گروہ حق نہیں پاتے ہیں مگر صرف جنگ میں یا جنگ کی آمادگی میں اور جو بھی جنگ کی حالت میں یا جنگ کی آمادگی کی حالت میں نہ ہو، یہ ان میں سے نہیں ہے اور جو جنگ کے لئے امادہ ہوتا ہے یہ اس جیسا ہے جیسے اس نے جنگ کی ہو۔

↑[۱] . المستدرك على الصحيحين للحاكم، ج۴، ص۵۰۳
↑[۲] . صحيح مسلم، ج۶، ص۵۴
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]