جمعہ ۲۰ مئ ۲۰۲۲ برابر ۱۹ شوّال ۱۴۴۳ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سبق کا متن
 
سبق ۱ باب ۱
قرآن کی آیات جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔

آیت ۱

قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:

﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً[۱]

ترجمہ:

خداوند متعال فرماتا ہے:

«میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں»۔

[ملاحظات]

۱ . أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ الْهَاشِمِيَّ الْخُرَاسَانِيَّ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، فَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ خَلِيفَةٍ اللَّهُ جَاعِلُهُ، وَلَوْ خَلَتْ لَسَاخَتْ بِأَهْلِهَا، وَمَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ هَذَا الْخَلِيفَةَ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ يَجْعَلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً مُنْذُ قَالَهُ، وَلَوْ قَالَ: «إِنِّي أَجْعَلُ» لَكَانَ مِنْهُ جَعْلٌ وَاحِدٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ، وَالْجَاعِلُ مَنْ يَسْتَمِرُّ مِنْهُ الْجَعْلُ، وَكُلُّ خَلِيفَةٍ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ مَهْدِيٌّ إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا لِيَضَعَهُ حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَهْتَدِ إِلَى مَهْدِيِّ زَمَانِهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا.

ترجمہ:

احمد ابن عبد الرحمٰن طالقانی نے ہمیں خبر دی، وہ بیان فرماتے ہیں: منصور ہاشمی خراسانی سے میں نے خداوند متعال کی اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ جس میں وہ فرماتا ہے: «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں» پس جناب نے فرمایا: کسی بھی وقت زمین خدا کے مقرر کردہ خلیفہ سے خالی نہیں رہ سکتی، زمین اگر خدا کے خلیفہ سے خالی رہے گی تو زمین اپنے اہل کو اپنے اندر سمو لے گی جو بھی اپنے اس خلیفہ کو پہچانے بغیر مر جائے، گویا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔ پھر چند لمحے آپ نے سکوت اختیار کیا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے درمیان سے اٹھنے کا ارادہ کیا، آپ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: جب سے خدا نے اس آیت کو بیان فرمایا ہے تب سے اس نے مسلسل اس زمین پر اپنے خلیفہ کو بھیجا ہےاگر خدا یہ کہتا «میں بھیجونگا» ممکن تھا ایک مرتبہ بھیج دیتا اور بات تمام ہو جاتی، لیکن اس نے فرمایا: «بھیجنے والا ہوں» لہذا بھیجنے والا وہ ہے کہ جو مسلسل بھیجتا رہے گا اور ہر خلیفہ زمین پر خدا کے لئے، ان چیزوں کو کہ جسے خدا نے اسکے اندر خلق فرمایا ہے یا جو وہ اس سے ہداہت پایا ہے اسے وہاں تک پہنچائے گا کہ جہاں تک خدا نے اسے پہچانے کا ارادہ کیا ہے جو کوئی بھی اپنے زمانے کے مہدی کے لئے راہ ہموار نہ کرے، وہ ہر لحظہ گمراہ اور ان سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

۲ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: سَأَلَ الْمَنْصُورَ رَجُلٌ وَأَنَا حَاضِرٌ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، فَقَالَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ جَاعِلًا فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً مُنْذُ وَعَدَهُ، إِمَّا ظَاهِرًا مَشْهُورًا وَإِمَّا خَائِفًا مَغْمُورًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّهُمْ قَدْ جَعَلُوا فِي الْعِرَاقِ خَلِيفَةً وَلَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنَّهُ الْخَلِيفَةُ! قَالَ: كَذَبُوا أَعْدَاءُ اللَّهِ، مَا قَالَ اللَّهُ لَهُمْ: «إِنَّكُمْ جَاعِلُونَ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً»، وَلَكِنْ قَالَ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ، فَلَوْ جَعَلُوا فِيهَا خَلِيفَةً دُونَ الْخَلِيفَةِ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ فِيهَا لَكَانُوا بِذَلِكَ مُشْرِكِينَ، قَالَ الرَّجُلُ: وَمَنْ هَذَا الْخَلِيفَةُ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ فِيهَا؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ.

ترجمہ:

عبد اللہ ابن محمد بلخی نے ہمیں خبر دی، وہ فرماتے ہیں: منصور سے ایک شخص نے خدا کی اس آیت کے متعلق سوال کیا «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں» جب کہ میں وہیں پر حاضر تھا، جناب نے جواب میں فرمایا: خدا نے جب سے وعدہ کیا ہے تب سے اس نے مسلسل زمین پر اپنا خلیفہ بھیجا ہے، اب چاہے وہ خلیفہ ظاہر اور مشہور رہا ہو یا چاہے گمنام خدا کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔ اس مرد نے کہا: انہوں نے عراق میں ایک خلیفہ کو مقرر کیا ہے اور وہ لوگ بھی اسے خلیفہ کے سوا کچھ اور نہیں مانتے ہیں[۲]! آپ نے فرمایا: دشمنان خدا جھوٹ بولتے ہیں! خدا نے ان سے یہ نہیں کہا ہے کہ تم زمین پر خلیفہ مقرر کروگے، بلکہ اس نے فرمایا ہے: «میں خلیفہ بنانے والا ہوں» پس زمین پر اگر خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کے علاوہ اگر وہ لوگ خود خلیفہ بنائیں، وہ لوگ مشرک ہو جائیں گے۔ اس مرد نے کہا: وہ خلیفہ کہ جسے خدا نے مقرر فرمایا ہے وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: نسل فاطمی سے ایک مرد کہ جسکا نام مہدی ہے۔

۳ . أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُودَ الْفَيْض‌آبَادِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: ﴿سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا[۳]، وَعَدَ أَنْ يَجْعَلَ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، قُلْتُ: إِنَّهُمْ يُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ! قَالَ: إِنَّهُ فِيهَا وَإِنْ أَنْكَرَهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّهُمْ جَعَلُوا فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قُلْتُ: نَعَمْ، وَسَفَكُوا لَهُ الدِّمَاءَ، قَالَ: هُوَ خَلِيفَةُ الَّذِينَ ظَلَمُوا، وَخَلِيفَةُ اللَّهِ هُوَ الْمَهْدِيُّ.

ترجمہ:

علی ابن داوود فیض آبادی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ منصور فرماتے ہیں: «ہمارا خدا پاک ومنزہ ہے، بے شک ہمارے خدا کا وعدہ عملی ہوا»، اس نے وعدہ کیا کہ زمین پر ایک خلیفہ مقرر کریگا، میں نے کہا: وہ لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ زمین پر خدا کی طرف سے کوئی خلیفہ ہو! آپ نے فرمایا: اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اگر چہ تمام اہل زمین اسکا انکار کریں، پھر آپ نے فرمایا: میں نے یہ خبر دے دی ہے کہ وہ لوگ اہل عراق میں سے ایک کو زمین پر خلیفہ مقرر کریں گے[۴]، میں نے کہا: جی ہاں! اس کے لئے انہوں نے خون تک بہائے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ انکا خلیفہ ہے کہ جس نے ظلم کیا ہے اور خدا کا خلیفہ صرف مہدی ہے۔

۴ . أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ الْمَلَائِكَةِ إِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُمْ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ، فَقَالَ اللَّهُ لَهُمْ: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ، قَالَ: لَا يَكُونُ مَنْ يُفْسِدُ فِي الْأَرْضِ وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ خَلِيفَةً، وَلَكِنَّ الْخَلِيفَةَ مَنْ يَعْدِلُ، فَمَكَثَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الْبَغْدَادِيَّ يُفْسِدُ فِي الْأَرْضِ وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ.

ترجمہ:

عیسی ابن عبد الحمید جوزجانی نے ہمیں خبر دی، انھوں نے کہا: فرشتوں کی باتوں کے متعلق میں نے منصور سے دریافت کیا کہ جب خدا نے ان سے فرمایا: «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو اسے خلیفہ بنائے گا جو زمین پر فساد کرتے ہیں اور خون بہاتے ہیں؟» پس خداوند نے ان سے فرمایا: «میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ہو» منصور نے فرمایا: جو زمین پر فساد پھیلائے اور خون بہائے وہ خلیفہ نہیں ہے، بلکہ خلیفہ وہ ہےجو عدالت سے کام لے۔ پھر منصور تھوڑی دیر خاموش ہوئے اور پھر فرمایا: ابو بکر بغدادی چاہے جتنا زمین پر فساد کر لے یا خون بہا لے۔

۵ . أَخْبَرَنَا جُبَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُجَنْدِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ[۵] مَا كَانَتْ تِلْكَ الْأَسْمَاءُ؟ فَقَالَ: كَانَتْ أَسْمَاءَ خُلَفَاءِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِأَنَّهُ لَمَّا قَالَ لِلْمَلَائِكَةِ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ[۶]، فَعَلَّمَ آدَمَ أَسْمَاءَ خُلَفَائِهِ فِي الْأَرْضِ كُلَّهَا لِيُنْبِأَ الْمَلَائِكَةَ فَيَعْلَمُوا أَنَّهُ لَا يَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ خَلِيفَةً وَلَكِنْ يَجْعَلُ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءَ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا! ﴿فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ[۷] وَكَانَ الْمَهْدِيُّ وَاللَّهِ مِنْ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ!

ترجمہ:

جبیر ابن عطاء خجندی نے ہمیں خبر دی، فرمایا: منصور سے میں نے خدا کے اس کلام کے متعلق سوال کیا: خدا فرماتا ہے: «اور اللہ نے تمام نام آدم کو سکھا دئے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیاپھر فرمایا: اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ» وہ کیا نام تھے؟ پھر فرمایا: زمین پر خدا کے خلفاء کے نام تھے؛ کیونکہ جب اس نے فرشتوں سے کہا: «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، تو فرشتوں نے فرمایا: کیا تو اسے خلیفہ بنائے گا جو تباہی مچائیں گےاور خون بہائیں گے؟» پس اس نے زمین پر موجود تمام خلفاء کے نام آدم کو سکھائے تاکہ وہ فرشتوں کو بتا سکیں، اور تا کہ وہ لوگ جان سکیں کہ تباہی کرنے والوں کو اور خون بہانے والوں کو کبھی خلیفہ نہیں بنائے گا بلکہ وہ پیغمبروں، صدیقوں اور صالح افراد کو خلیفہ بنائے گااور وہی لوگ سچے رفیق ہیں! «پس جب آدم نے انہیں ان کے نام بتا دئے تو اللہ نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہوں نیز جس چیز کا تم اظھار کرتے ہو اور جو کچھ تم پوشیدہ رکھتے ہو وہ سب جانتا ہے؟!» خدا کی قسم مہدی ان ناموں مے سے ایک نام تھا!

۶ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقَيُّومِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْمَنْصُورِ: إِنَّ لِي جَارًا عَلَّامَةً قَدْ حَفِظَ أَلْفَ حَدِيثٍ بِإِسْنَادِهِ، وَلَا تَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا وَيُخْبِرُكَ بِهِ، وَيَعْلَمُ الْفِقْهَ وَاللُّغَةَ وَالتَّفْسِيرَ! فَقَالَ: أَيَعْلَمُ أَنَّ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ مِنَ الْجَاهِلِينَ!

ترجمہ:

عبد السلام ابن عبد القیوم نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے کہا: میرا پڑوسی بڑا پڑھا لکھا ہے اسے ایک ہزار حدیثیں اسکے سند کے ساتھ حفظ ہیں، آپ اس سے قرآن کے متعلق کچھ بھی سوال کر لیں وہ اسکا جواب دیگا وہ فقہ، لغت اور علم تفسیر سے بھی آشنا ہے! آپ نے فرمایا: کیا اسے یہ پتہ ہے کہ زمین پر خدا کا خلیفہ موجود ہے؟! میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پس وہ جاہلوں میں سے ہے!

۷ . أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهِرَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِالْخَلِيفَةِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَمْ يَجْعَلْ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِ، قَالَ: كَذَبُوا، فَمَنِ الْقَائِلُ لِدَاوُودَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى[۸]؟! قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: كَانَ ذَلِكَ فِي الْأُمَمِ السَّابِقَةِ، وَلَمْ يَجْعَلْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيفَةً كَآدَمَ وَدَاوُودَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ: كَذَبُوا، فَمَنِ الْقَائِلُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ[۹]؟! قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا أَرَادَ الَّذِينَ مَلَكُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، كَبَنِي أُمَيَّةَ وَبَنِي عَبَّاسٍ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ، قَالَ: كَذَبُوا، فَهَلْ مَلَكَ مِنْهُمْ إِلَّا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ؟! إِنَّ اللَّهَ وَعَدَ أَنْ يَسْتَخْلِفَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، فَمَنْ أَشْرَكَ فِي إِيمَانِهِ أَوْ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ فَلَيْسَ مِمَّنِ اسْتَخْلَفَهُ اللَّهُ وَإِنْ مَلَكَ وَتَسَمَّى بِخَلِيفَةٍ! قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يَسْتَخْلِفُهُمْ بِتَغَلُّبٍ أَوِ اخْتِيَارٍ مِنْ أَهْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ، قَالَ: كَذَبُوا، بَلْ يَسْتَخْلِفُهُمْ ﴿كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَمْثَالَ آدَمَ وَدَاوُودَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَمَا اسْتَخْلَفَهُمْ بِتَغَلُّبٍ وَلَا اخْتِيَارٍ مِنْ أَهْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ، وَلَكِنِ اسْتَخْلَفَهُمْ بِوَحْيٍ مِنْهُ، كَمَا أَوْحَى: ﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ، ﴿وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ[۱۰]، فَأَخَذَنِي الْبُكَاءُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟! قُلْتُ: عِلْمُكَ بِالْكِتَابِ وَجَهْلُهُمْ بِكَ! قَالَ: لَا يُبْكِيَنَّكَ ذَلِكَ، فَمَنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُعَلِّمَهُ الْكِتَابَ لَأَعْلَمَهُ بِي، وَإِنْ كَانَ فِي مَغَارَةٍ!

ترجمہ:

محمد ابن عبد الرحمٰن ہروی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتا ہے: منصور سے میں نے خدا کے کلام کے متعلق سوال کیا وہ فرماتا ہے: «میں زمین میں ایک خلیفہ بھیجنے والا ہوں» پس میں نے کہا: وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت سے مراد تنہا خلیفہ آدم علیہ السلام تھے اور انکے بعد کسی اور کو خدا نے اپنا خلیفہ زمین پر نہیں بنایا ہے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، پس کس نے داوود علیہ السلام سے فرمایا ہے: «میں نے آپ کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں کے درمیان حق بیانی کرواور اپنے ھوائے نفس کی پیروی نہ کرو؟!» میں نے کہا: وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خلیفہ گذشتہ امتوں کے لئے تھے اور اس امت میں آدم اور داوود علیہم السلام جیسا کوئی خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، پس کس نے اس امت سے فرمایا ہے: «تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلے کو جانشین بنایا»؟! میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ مسلمان ہیں کہ جنہیں حکومت ہاتھ لگی، مثلا بنی امیہ، بنی عباس اور وہ لوگ کہ جو انکے بعد آئے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، کیا ان میں سے صرف جابر اور سرکش افراد کے ہاتھ حکومت آئی؟! جبکہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ لوگ کہ جو ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیتے ہیں وہ انہیں خلیفہ بنائے گا، پس وہ لوگ جو مشرک ہوئے یا کوئی برے کام انجام دئے ہوں یہ لوگ ان میں سے نہیں ہیں کہ جنہیں خدا نے خلیفہ بنانے کا وعدہ کیا ہے، اگر چہ کہ وہ حکومت حاصل کر لیں یا خلیفہ کہلائے جائیں۔ میں نے کہا: وہ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں طاقت پر یا اہل حل و عقد[۱۱] کہ ذریعہ سے خلیفہ بنایا گیا ہے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، اور انہیں خلیفہ بھی قبول کیا جاتا تھا «بالکل اسی طرح جس طرح سے انکے پہلے والوں کو خلیفہ کہا جاتا تھا» آدم اور داوود علیہم السلام جیسوں کو طاقت کے زور پر یا اہل حل عقد کی بنا پر خلیفہ نہیں چنا گیا، بلکہ یہ لوگ خدا کی طرف سے نازل کردہ وحی کے ذریعہ سے خلیفہ بنائے گئے ہیں؛ جیسا کہ ارشاد خداوند ہے: «ائے داوود! ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے»، «اور ان کے پیغمبر وں نے انسے کہا خدا نے طالوت کو تم پر حاکم بنایا ہے»۔ اس وقت میرے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں رلایا؟! میں نے کہا: آپ کا قرآن کے متعلق علم اور انکے آپ کے متعلق جہل نے!آپ نے فرمایا: اس وجہ سے گریہ نہ کرو؛ کیونکہ جسے چاہے خدا کتاب کا علم عطا کر دے، اس نے مجھے اس کا علم عطا کیا ہےاگر چہ کہ اسکے اندر غار ہو!

↑[۱] . البقرہ/ ۳۰
↑[۲] . ابو بکر بغدادی کا مطلب داعش کا ایک خلیفہ ہے۔
↑[۳] . الاسراء/ ۱۰۸
↑[۴] . ابو بکر بغدادی کا مطلب داعش کا ایک خلیفہ ہے۔
↑[۵] . البقرہ/ ۳۱
↑[۶] . البقرہ/ ۳۰
↑[۷] . البقرہ/ ۳۳
↑[۸] . ص/ ۲۶
↑[۹] . النور/ ۵۵
↑[۱۰] . البقرہ/ ۲۴۷
↑[۱۱] . بزرگان کی کونسل، ماہرین کی کونسل
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]