جمعہ ۱۲ اگست ۲۰۲۲ برابر ۱۴ محرّم ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سبق کا متن
 
سبق ۱ باب ۲

حدیث ۵

رَوَى أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ [ت۲۰۴هـ] فِي «مُسْنَدِهِ»[۱]، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: لَقِينَا عُمَرَ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ ‌عُمَرُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَخَطَبَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ترجمہ:

ابو داوود طیالسی [م:۲۰۴ھ] نے اپنی «مسند» میں نقل کیا ہے، (اس طرح سے) کہ وہ کہتے ہیں: ھمام نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے قتادۃ سے، انہوں نے عبد اللہ ابن بریدۃ سے، انہوں نے سلیمان ابن ربیع عدوی سے، وہ کہتے ہیں: ہم نے عمر سے ملاقات کی، تو ہم نے ان سے کہا کہ عبد اللہ بن عمرو نے ہم سے اس طرح بیان کیا ہے، تو عمر نے کہا: عبد اللہ بن عمرو جس چیز کو کہتے ہیں اسکے متعلق زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے تین بار یہ کہا، پھر نماز کے لئے بلایا گیا، تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، تو عمر نے ان کے لئے خطبہ پڑھا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو فرماتے ہوئے سنا:

میری امت کے کچھ لوگ حق پر قائم رہیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر نہ آجائے۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَعَلَّ هَذَا كَانَ الْحَدِيثَ، حَتَّى ظَهَرَ أَهْلُ الشَّامِ فَزَادُوا عَلَيْهِ: «ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ»، أَوْ «ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ»، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ مِنْهُ لَكَانَ مَعْنَاهُ مَا قُلْنَا مِنْ ظُهُورِهِمْ بِالْحُجَّةِ، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَدْ حَذَفَهُ أَبُو دَاوُدَ اخْتِصَارًا، وَذَكَرَهُ غَيْرُهُ:

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالی نے فرمایا: شاید حدیث وہی تھی یہاں تک کہ اہل شام غالب آگئے، چنانچہ انہوں نے اس میں اضافہ کیا: «وہ ان لوگوں پر غالب آئیں گے جو ان سے دشمنی رکھتے ہیں» یا «وہ لوگوں پر غالب آئیں گے» اور اگر یہ حدیث ہو بھی، تب بھی اس کا معنی وہی ہیں جو ہم نے کہا کہ انکا غالب ہونا دلیلوں پر مبنی ہے، لیکن عبد اللہ بن عمرو کے الفاظ کو ابو داؤد نے اختصار کی بنا پر حذف کر دیا ہے اور دوسروں نے اسے ذکر کیا ہے۔

شاہد ۱

رَوَى الْبَيْهَقِيُّ [ت۴۵۸هـ] فِي «الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ»[۲]، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ فِي رِجَالٍ نُسَّاكٍ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَقَالَ: يُوشِكُ بَنُو قَنْطُورَاءَ بْنِ كَرْكَرَ أَنْ يَسُوقُوا أَهْلَ خُرَاسَانَ وَأَهْلَ سَجِسْتَانَ سَوْقًا عَنِيفًا، ثُمَّ يَرْبِطُوا خُيُولَهُمْ بِنَخْلِ شَطِّ دِجْلَةَ، ثُمَّ قَالَ: كَمْ بُعْدُ الْأُبُلَّةِ مِنَ الْبَصْرَةِ؟ قُلْنَا: أَرْبَعُ فَرَاسِخَ، قَالَ: فَيَجِيئُونَ فَيَنْزِلُونَ بِهَا، ثُمَّ يَبْعَثُونَ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ: إِمَّا أَنْ تُخْلُوا لَنَا أَرْضَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ نَسِيرَ إِلَيْكُمْ، فَيَتَفَرَّقُونَ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ: فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَلْحَقُونَ بِالْبَادِيَةِ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَلْحَقُونَ بِالْكُوفَةِ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَلْحَقُونَ بِهِمْ، قَالَ: ثُمَّ يَمْكُثُونَ سَنَةً، فَيَبْعَثُونَ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ: إِمَّا أَنْ تُخْلُوا لَنَا أَرْضَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ نَسِيرَ إِلَيْكُمْ، قَالَ: فَيَتَفَرَّقُونَ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ: فَتَلْحَقُ فِرْقَةٌ بِالشَّامِ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْبَادِيَةِ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِهِمْ. قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ، فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، ثُمَّ نُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، قَالَ: فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ»، قَالَ: قُلْنَا: هَذَا خِلَافُ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ عُمَرُ، فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ جَاءَ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ، قَالَ: فَقُلْنَا: مَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ.

ترجمہ:

بیہقی [م:۴۵۸ھ] نے کتاب «البعث و النشور» میں نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابو الحسن علی ابن محمّد مقرئ نے ہم سے کہا، (وہ کہتے ہیں:) حسن ابن محمّد ابن اسحاق نے ہم سے کہا، (وہ کہتے ہیں:) یوسف ابن یعقوب نے ہم سے کہا، (وہ کہتے ہیں:) عمرو ابن مرزوق نے ہم سے کہا، (وہ کہتے ہیں:) ھمام نے ہم سے کہا، انہوں نے قتادۃ سے، انہوں نے عبد اللہ ابن بریدۃ سے، انہوں نے سلیمان ابن ربیع عدوی سے سنا کہ وہ کہتے ہیں: ہم حج پر جانے والے لوگوں کے ساتھ بصرہ سے روانہ ہوئے، پھر ہم مکہ پہنچے، پھر عبد اللہ بن عمرو سے ملاقات ہوئی، پھر انہوں نے ہم سے کہا: عنقریب بنی قنطورا ء ابن کرکر (یعنی مغولان) خراسان اور سجستان کے لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔ پھر وہ اپنے گھوڑوں کو دجلہ کے ساحل پر کھجور کے درختوں سے باندھ دیں گے، پھر فرمایا: ابلہ اور بصرہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: چار فرسخ، اس نے کہا: وہ آئیں گے اور اس جگہ پرقیام کریں گے، پھر وہ اہل بصرہ کو پیغام بھیجیں گے کہ یا تو تم اپنا شہر ہمارے لئے خالی کر دو یا تو پھر ہم تمہارے پاس آئیں گے، پھر وہ (یعنی بصرہ کے لوگ) تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے: کچھ صحرا ء کی طرف جائیں گے اور کچھ کوفہ میں شامل ہوں گے اور کچھ ان (یعنی مغولان) کے ساتھ مل جائیں گے، پھر (مغولان) ایک سال کی تاخیر کریں گے اور پھر اسکے بعد اہل کوفہ کو پیغام دیں گے کہ یا تو اپنا شہر ہمارے لئے خالی کر دیں یا پھر ہم تمہارے پاس آئیں گے، تو وہ (یعنی اہل کوفہ) تین گروہوں میں بٹ جائیں گے: کچھ شام کو جائیں گے، اور کچھ صحراؤں میں شامل ہوں گے، اور کچھ ان (مغولان) سے مل جائیں گے۔ (سلیمان بن ربیع) کہتے ہیں: پس ہم عمر کے پاس آئے اور جو کچھ ہم نے عبد اللہ بن عمرو سے سنا انکے سامنے بیان کیا، تو وہ کہتے ہیں: عبد اللہ بن عمرو جو کچھ کہتے ہیں اسکے متعلق زیادہ جانتے ہیں، پھر لوگوں میں نماز کے لئے آواز لگائی گئی چنانچہ عمر نے لوگوں کے لئے خطبہ پڑھا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «میری امت میں سے کچھ ہمیشہ ایسے ہوں گے جو اللہ کا حکم آنے تک حق پر رہیں گے»، ہم نے کہا: یہ تو عبد اللہ ابن عمرو کی حدیث کے خلاف ہے، پھر ہم عبد اللہ ابن عمر سے ملاقات کے لئے آئے اور عمر نے جو کچھ ہم سے کہا تھا، ہم نے انہیں بتایا، پھر کہا: ہاں جب خدا کا امر آئے گا تو وہی ہوگا جو میں نے تم سے کہا تھا، تو ہم نے کہا: ہم اس کے سوا کچھ نہیں مانتے کہ آپ نے سچ کہا ہے۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: قَتَادَةُ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَ، لَكِنَّهُ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ ابْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: «قَالَ ابْنُ عَيَّاشٍ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ مِنْ نُسَّاكِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ»[۳]، كَذَلِكَ سَمَّاهُ، وَتَابَعَهُ حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ الْمُعَلِّمُ قَالَ: «حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ الْعَنَزِيَّ حَدَّثَهُ»[۴]، كَذَلِكَ سَمَّاهُ، وَسُلَيْمَانُ هَذَا لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، وَلَكِنْ يَظْهَرُ مِنْ قَوْلِ الْبُخَارِيِّ وَأَبِي حَاتَمٍ أَنَّهُ كَانَ مَعْرُوفًا، فَقَدْ قَالَا: «يُقَالُ: سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَحُجَيْرُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَحُرَيْثُ بْنُ الرَّبِيعِ إِخْوَةٌ»[۵]، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: «هُمْ إِخْوَةٌ أَرْبَعَةٌ: حُجَيْرٌ وَحُرَيْثٌ وَيَعْقُوبُ وَسُلَيْمَانُ بَنُو الرَّبِيعِ»[۶]، وَذَكَرَهُ فِي الثِّقَاتِ[۷]، وَلَمْ يَنْفَرِدْ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ، بَلْ تَابَعَهُ أَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ:

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قتادۃ اہل تدلیس میں سے ہیں اور (یہاں) انہوں نے عنعنہ کیا ہے (یعنی لفظ «عن» کے ساتھ روایت کی ہے جو حدیث سننے میں صراحت نہیں رکھتی)، لیکن ابن حماد کی روایت میں انہوں نے سننے کی تصریح کی ہے؛ (ابن حماد) نے کہا: «ابن عیاش نے کہا: ہم سے نافع اور سعید بن ابی عروبہ دونوں نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، وہ کہتے ہیں: ہم سے عبد اللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن ربیعہ سے جو اہل بصرہ کے حجاج میں سے تھے»، اس طرح سے اسکا نام لیا اور حسین بن ذکوان معلم نے اسکی ہمراہی کی، وہ کہتے ہیں: «ہم سے عبیداللہ بن بریدہ اسلمی نے بیان کیا کہ انہیں سلیمان بن ربیعۃ عنزی نے بیان کیا»، اس طرح ان کا نام لیا گیا، اور اس سلیمان سے صرف عبد اللہ بن بریدہ نے روایت کی، لیکن بخاری اور ابو حاتم کے قول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک معروف شخص رہا ہے؛ کیونکہ ان دونوں نے کہا ہے: «وہ کہتے ہیں: سلیمان بن ربیع اور حجر بن ربیع اور حارث بن ربیع بھائی تھے» اور ابن حبان نے کہا ہے: «وہ چار بھائی تھے: حجیر، حوریث، یعقوب اور سلیمان، ربیع کے بیٹے» اور وہ ان کو ثقہ لوگوں میں یاد کیا ہے اور (تاہم،) اس حدیث کو بیان کرنے میں وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ ابو الأسود دؤلی نے ان کی ہمراہی کی ہے:

شاہد ۲

رَوَى الطَّبَرِيُّ [ت۳۱۰هـ] فِي «تَهْذِيبِ الْآثَارِ» [۸]، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَقَتَادَةُ بْنُ سَعْدِ بْنِ قَتَادَةَ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَزُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ مَعَ الْأَشْعَرِيِّ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَجَلَسْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَ زُرْعَةُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: يُوشِكُ أَلَّا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَجَمِ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا قَتِيلٌ أَوْ أَسِيرٌ يُحْكَمُ فِي دَمِهِ، فَقَالَ لَهُ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ: أَيَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ؟! قَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَتَدَافَعَ مَنَاكِبُ نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ، وَثَنٍ كَانَ يُسَمَّى فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَذَكَرْنَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَلَاثَ مِرَارٍ: عَبْدُ اللَّهِ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، قَالَ: فَخَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورَةً حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ». قَالَ: فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ، إِذَا جَاءَ ذَاكَ كَانَ الَّذِي قُلْتُ.

ترجمہ:

طبری [م:۳۱۰ھ] نے کتاب «تہذیب الآثار» میں روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: محمّد ابن بشار اور قتادۃ ابن سعد ابن قتادۃ سدوسی نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: معاذ ابن ہشام نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) میرے والد نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے قتادۃ سے، انہوں نے ابو الأسود دؤلی سے سنا کہ وہ کہتے ہیں: میں اور زرعۃ ابن ضمرۃ، اشعری کے ہمراہ عمر ابن خطاب کے پاس گئے، تو ہمارا سامنا عبد اللہ ابن عمرو سے ہوا، پس میں انکے دائیں طرف بیٹھا اور زرعہ انکے بائیں طرف بیٹھ گیا، پس عبد اللہ ابن عمرو نے کہا: بہت جلد سرزمین عجم میں کوئی عرب نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ مارا گیا ہو یا اسیر ہو کہ جسکے مرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہو، پس زرعۃ ابن ضمرۃ نے اس سے کہا: یعنی مشرکان مسلمانوں پر غلبہ حاصل کر لیں گے؟! انہوں نے کہا: تم تو ہو؟ اس نے کہا: میں بنی عامر ابن صعصعۃ سے ہوں، کہا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ زنان بنی عامر صعصعہۃ، ذی الخلصۃ (وہ بت کہ جو زمانہ جاہلیت میں تھا) کے ساتھ ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ چلیں پس ہم نے عبد اللہ ابن عمر کی ان باتوں کو عمر ابن خطاب سے بیان کیا، پس عمر ابن خطاب نے تین مرتبہ کہا: عبد اللہ جو کہتا ہے اس کے متعلق زیادہ جانتا ہے، پھر اس کے بعد عمر ابن خطاب نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور کہا: بیشک پیغمبر خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا فرمان ہے: «میری امت میں سے کچھ کامیابی کے ساتھ ہمیشہ حق پر رہیں گے یہاں تک کہ خدا کا امر آجائے»، پھر ہم لوگوں نے عمر کی ان باتوں کو عبد اللہ ابن عمرو سے بیان کیا، اس نے کہا: پیغمبر خدا نے درست فرمایا ہے۔ جب بھی وہ آئے، تو جو میں نے تم سے کہا ہے وہی انجام پائے گا۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مَا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَقْصُودُ مِنْ «أَمْرِ اللَّهِ» فِي الْحَدِيثِ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، وَالْمُسْتَفَادُ مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ أَيْضًا كَانَ مَعَ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ وَزُرْعَةِ بْنِ ضَمْرَةَ وَالْأَشْعَرِيِّ حِينَ لَقَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَلَمْ يَذْكُرْهُ أَبُو الْأَسْوَدِ لِنِسْيَانٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، إِنْ لَمْ يَكُنِ الْأَشْعَرِيُّ تَصْحِيفًا لِاسْمِهِ، كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ: «خَرَجْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ فِي رِجَالٍ نُسَّاكٍ»، وَكَانَ أَبُو الْأَسْوَدِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ.

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عبد اللہ ابن عمر نے بنی اسرائیل سے ان باتوں کو بیان کیا ہے کہ جسے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے نہیں سنا تھا اور حدیث میں «امر خداوند» سے مقصود روز قیامت ہے اور سلیمان ابن ربیع عدوی کی روایت سے سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی عبد اللہ ابن عمرو سے دیدار کے وقت ابو ا لأسود دؤلی و زرعۃ بن ضمرۃ اور اشعری کے ہمراہ تھے، پس ابو الأسود نے فراموشی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے انکا ذکر نہیں کیا ہے، اگر اشعری اسکا تصحیف شدہ نام نہ ہو؛ جیسا کہ سلیمان نے کہا ہے: «جو لوگ عازم حج تھے ہم انکے ساتھ بصرہ سے باہر آئے» اور ابو الأسود بھی بصرہ کے ہی رہنے والے ہیں[۹]۔

↑[۱] . مسند أبي داود الطيالسي، ج۱، ص۴۲
↑[۲] . البعث والنشور للبيهقي، ص۸۱
↑[۳] . الفتن لابن حمّاد، ج۲، ص۶۷۷
↑[۴] . المستدرك على الصحيحين للحاكم، ج۴، ص۵۷۷
↑[۵] . التاريخ الكبير للبخاري، ج۴، ص۱۲؛ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ج۴، ص۱۱۷
↑[۶] . الثقات لابن حبان، ج۴، ص۱۸۷
↑[۷] . الثقات لابن حبان، ج۴، ص۳۰۹
↑[۸] . تهذيب الآثار للطبري (مسند عمر)، ج۲، ص۸۱۴
↑[۹] . شواہد اور ملاحظات کا مزید مطالعہ فرمانے کے لئے عربی ویب سائٹ کی طرف مراجعہ فرمائیں۔
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]