جمعہ ۲ دسمبر ۲۰۲۲ برابر ۷ جمادی الاوّل ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سبق
 
آنجناب کا ایک سبق اس بارے میں کہ زمین ایک عالم مرد سے ان تمام ادیان میں جن میں پروردگار عالم نے خلیفہ، امام اور رہنما اپنے حکم سے مقرّر کیا ہے، خالی نہیں رہتی۔
پیغمبر کی صحیح احادیث جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔

حدیث ۱۰

رَوَى يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَسَوِيُّ [ت۲۷۷هـ] فِي «الْمَعْرِفَةِ وَالتَّارِيخِ»[۱]، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْوِيهِ -يَعْنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- قَالَ:

لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، لَا يُبَالُونَ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ.

قَالَ أَبُو عَمْرٍو: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةَ، فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ أُولَئِكَ إِلَّا أَهْلَ الشَّامِ.

ترجمہ:

یعقوب ابن سفیان فسوی [م:۲۷۷ھ] نے کتاب «المعرفۃ و التاریخ» میں نقل کیا ہے، (اس طرح سے) وہ کہتے ہیں: صفوان ابن صالح نے مجھ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ولید یعنی ابن مسلم نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ابو عمرو یعنی اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے یحیی ابن ابی کثیر سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے، یعنی رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا:

میری امت میں سے کچھ ہمیشہ حق پر استوار اور لوگوں پر غالب رہیں گے اور جو بھی انکی مخالفت کرے انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہو جائیں۔

ابو عمرو نے کہا: اس حدیث کو میں نے قتادۃ کے لئے نقل کیا ہے، پس وہ کہتے ہیں: میں انکو شام کا رہنے والا نہیں سمجھتا ہوں۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: ضَلَّ قَتَادَةُ فِي تَأْوِيلِهِ ضَلَالًا مُبِينًا، فَإِنَّ أَهْلَ الشَّامِ لَمْ يَكُونُوا عَلَى الْحَقِّ دَائِمًا، وَلَمْ يَكُونُوا ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ دَائِمًا، وَكَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَكْثَرُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ مِمَّنْ خَالَفَهُمْ مُنْذُ بُويِعَ عَلِيٌّ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ فَضْلٌ إِنْ كَانُوا لَا يُبَالُونَ مَنْ خَالَفَهُمْ، بَلْ كَانَ ذَلِكَ شَرًّا لَهُمْ، وَإِنِّي لَأَتَعَجَّبُ مِنْ قَوْمٍ مَسَخَ اللَّهُ عُقُولَهُمْ حَتَّى حَسِبُوا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي لَا تَزَالُ عَلَى الْحَقِّ أَهْلُ الشَّامِ!

ثُمَّ قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ مُدَلِّسٌ، وَقِيلَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَلَعَلَّهُ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؛ لِأَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَلْقَمَةَ رَوَاهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ[۲]، وَأَبُو سَلَمَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوفٍ ثِقَةٌ عِنْدَهُمْ، وَالْحَدِيثُ ثَابِتٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ لَا نَعْتَدُّ بِحَدِيثِهِ إِلَّا إِذَا تُوبِعَ.

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قتادہ اپنی تاویل میں واضح طور پر گمراہی کا شکار ہو چکا ہے؛ کیونکہ اہل شام ہمیشہ حق پر نہیں تھے اور ہمیشہ لوگوں پر غلبہ نہیں رکھتے تھے اور اہل بیت اور اکثر مہاجرین و انصار علی کی بیعت کے وقت سے ان کے مخالف تھے، اس لئے یہ ان کے لئے کوئی فضیلت نہیں ہے اگر وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کون ان کی مخالفت کرتا ہے، بلکہ یہ ان کے لئے برا تھا اور میں ان لوگوں پر حیران ہوں جن کے ذہنوں کو اللہ تعالیٰ نے اس حد تک بگاڑ دیا ہے، کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض لوگ جو ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں وہ شام سے ہیں!

پھر منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر اہل تدلیس میں سے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی صحابی سے حدیث نہیں سنی ہے۔ اس لئے، ممکن ہے اس نے یہ حدیث ابو سلمہ سے سنی ہو گی؛ کیونکہ عقبہ بن علقمہ نے اسے اوزاعی سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابو سلمہ سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے اور ابو سلمہ عبد اللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف ان کے نزدیک ثقہ ہیں اور یہ حدیث ابو ہریرہ سے ثابت ہے اور وہ ان میں سے ہیں کہ ہم ان کی حدیث کو شمار نہیں کرسکتے، سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی اور ہو۔

شاہد ۱

رَوَى ابْنُ مَاجَهْ [ت۲۷۳هـ] فِي «سُنَنِهِ»[۳]، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «‌لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، لَا يَضُرُّهَا مَنْ خَالَفَهَا».

ترجمہ:

ابن ماجہ [م:۲۷۳ھ] نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہشام ابن عمار نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: یحیی ابن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ابو علقمہ نصر ابن علقمہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے عمیر ابن اسود سے اور کثیر ابن مرۃ حضرمی سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا: «میری امت میں سے کچھ ہمیشہ امر خداوند کے لئے قیام کرنے والے ہونگے اور جو انکی مخالفت کرےگا تو وہ انکا کوئی نقصان نہیں کریں گے»۔

شاہد ۲

وَرَوَى أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ [ت۲۹۲هـ] فِي «مُسْنَدِهِ»[۴]، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «‌لَا يَزَالُ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي، لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ».

ترجمہ:

نیز، احمد ابن عمرو بزار [م:۲۹۲ھ] نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: زہیر ابن محمّد نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: عبد اللہ ابن یزید نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: سعید ابن ابی ایوب نے ہم سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: محمّد ابن عجلان نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے قعقاع ابن حکیم سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے، انہوں نے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے کہ آپ نے فرمایا: «اس معاملے میں میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت انہیں نقصان نہیں پہنچائے گی، یہاں تک کہ خدا کا کام ان کے پاس آجائے»۔

شاہد ۳

وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الرِّبْعِيُّ [ت۴۴۴هـ] فِي «فَضَائِلِ الشَّامِ وَدِمَشْقَ»[۵]، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ فَاتِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُزَاحِمِيُّ بِصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَاهِرٍ بِصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدُوسٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَسِيمٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ بُزَيْعٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهَا، وَعَلَى أَبْوَابِ أَنْطَاكِيَةَ وَمَا حَوْلَهَا، وَعَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهَا، وَعَلَى أَبْوَابِ الطَّالَقَانِ وَمَا حَوْلَهَا، ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ، حَتَّى يُخْرِجَ اللَّهُ كَنْزَهُ مِنَ الطَّالَقَانِ، فَيُحْيِي بِهِ دِينَهُ كَمَا أُمِيتَ مِنْ قَبْلُ».

ترجمہ:

نیز، علی ابن محمّد ربعی [م:۴۴۴ھ] نے کتاب «فضائل الشام و دمشق» میں روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابو الحسن فاتک ابن عبد اللہ ابن مزاحمی صور میں (لبنان کا ایک شہر) ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) ابو القاسم علی ابن محمّد ابن طاہر نے صور میں ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) ابو عبد الملک محمّد ابن احمد ابن عبد الواحد ابن جریر ابن عبدوس نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) موسیٰ ابن ایوب نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) عبد اللہ ابن قسیم نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے سری ابن بزیع سے، انہوں نے سری ابن یحیی سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے، انہوں نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے کہ آپ نے فرمایا: «یروشلم کے دروازوں پر اور اس کے اطراف پر، انطاکیہ کے دروازوں پر اور اس کے اطراف پر، دمشق کے دروازے پر اور اس کے اطراف پر، اور طالقان کے دروازوں پر اور اس کے اطراف پر میری امت کے کچھ لوگ ہمیشہ جنگ کرتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ حق پر استوار ہیں، ان کی کون مدد نہیں کرتا اور کون کرتا ہے، انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ طالقان سے خزانہ نکال لے، پھر اس کے ذریعے اپنے دین کو اسی طرح زندہ کردے جیسا کہ اسے پہلے مارا گیا تھا»۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: هَذَا تَأْوِيلٌ مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ، وَقَدْ أَدْخَلُوهُ فِي الْحَدِيثِ تَقْوِيَةً لِأَهْلِ الثُّغُورِ، وَمُرَادُهُمْ بِكَنْزِ اللَّهِ الَّذِي يُخْرِجُهُ اللَّهُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَيُحْيِي بِهِ دِينَهُ كَمَا أُمِيتَ مِنْ قَبْلُ هُوَ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ مَعَ رَايَاتٍ سُودٍ فَيُوَطِّئُ لِلْمَهْدِيِّ سُلْطَانَهُ، وَالطَّالَقَانُ مَدِينَةٌ قَدِيمَةٌ فِي خُرَاسَانَ، فَتَحَهَا الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ فِي سَنَةِ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ، وَخَرَجَ مِنْهَا رِجَالٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ آمِلِينَ أَنْ يَكُونُوا ذَلِكَ الْكَنْزَ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى شُهْرَةِ الْحَدِيثِ فِي الْقُرُونِ الْأُولَى، وَأَصْلُهُ مَا رَوَاهُ ابْنُ أَعْثَمَ [ت۳۱۴هـ] فِي كِتَابِ «الْفُتُوحِ» عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ وَصَفَ لِعُمَرَ بِلَادَ خُرَاسَانَ تَرْغِيبًا لَهُ فِي فَتْحِهَا، فَوَصَفَ لَهُ مَرْوَ وَخَوارَزْمَ وَبُخَارَا وَسَمَرْقَنْدَ وَالشَّاشَ وَفَرْغَانَةَ وَأَسْفِيجَابَ، ثُمَّ قَالَ: «وَيْحًا لِلطَّالَقَانِ، فَإِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا كُنُوزًا لَيْسَتْ مِنْ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ، وَلَكِنْ بِهَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ عَرَفُوا اللَّهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ، وَهُمْ أَنْصَارُ الْمَهْدِيِّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ»، فَرَغِبَ عُمَرُ فِي فَتْحِهَا[۶]، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ بعض راویوں کی تاویل ہے جنہوں نے سرحدی محافظوں کو تقویت دینے کے لئے اسے حدیث میں شامل کیا ہے اور خدا کا خزانہ سے انکی مراد کہ جو آخر زمانے میں نکالے گا، چنانچہ وہ اس کے ذریعہ سے اپنے دین کو زندہ کرتا ہے جیسا کہ پہلے مارا گیا تھا۔ خراسان کا کوئی ہے جسنے سیاہ پرچم کے ساتھ خروج کیا ہے اور جو مہدی کی حکومت کیلئے زمینہ فراہم کرتا ہے۔ لیکن طالقان خراسان کا ایک قدیم شہر ہے جسے احنف ابن قیس نے سنہ بتیس ہجری میں فتح کیا تھا اور بنی ہاشم کے لوگ مذکورہ خزانہ ہونے کی امید میں وہاں سے چلے گئے تھے اور اس سے پہلی صدیوں میں حدیث کی شہرت کی نشاندہی ہوتی ہے اور اصل حدیث وہ ہے جو ابن اعثم [م:۳۱۴ھ] نے کتاب «الفتوح» میں علی علیہ السلام سے نقل کی ہے، (اس طرح سے بیان کیا ہے کہ:) آنحضرت نے خراسان کے شہروں کو عمر کو اسکی فتح کی ترغیب کے لئے وصف کیا، چنانچہ اس نے مرو، خوارزم، بخارا، سمرقند، تاشکند، فرغانہ اور اسپیجاب اس کے سامنے بیان کیے، پھر فرمایا: «طالقان پر حیرت ہے! اس میں خدا کے لئے ہمیشہ خزانہ ہے کہ جو سونے اور چاندی میں سے نہیں ہے، بلکہ وہ مومن مرد ہیں جنہوں نے خدا کو اس کا مستحق جانا ہے اور وہ آخری وقت میں مہدی کے ساتھی ہوں گے»، یہ (اس ترتیب کے ساتھ) عمر اسکی فتح کا مشتاق ہوا بے تاب ہوا واللہ اعلم۔

شاہد ۴

وَرَوَى ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ [ت۲۸۷هـ] فِي «الْآحَادِ وَالْمَثَانِي»[۷]، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ قَالَا: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابْنَ السِّمْطِ كَانَا يَقُولَانِ: لَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُونَ فِي الْأَرْضِ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، تُقَاتِلُ أَعْدَاءَهَا، كُلَّمَا ذَهَبَ حَرْبُ قَوْمٍ تَسْتَحْرِبُ قَوْمَ أُخْرَى، يَرْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ قَوْمٍ لِيَرْزُقَهُمْ مِنْهُ، حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ كَأَنَّهَا قِطَعُ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ.

ترجمہ:

اسی طرح، ابن ابی عاصم [م:۲۸۷ھ] کتاب «الآحاد و المثانی» میں نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہشام ابن عمار نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) یحیی ابن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، (وہ کہتے ہیں:) ابو علقمہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے عمیر ابن اسود اور کثیر ابن مرۃ سے کہ وہ کہتے ہیں: ابو ہریرہ اور ابن سمط نے کہا: مؤمنین قیامت تک زمین پر ہمیشہ رہیں گے اور یہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا ہے: میری امت میں ہمیشہ کچھ لوگ امر خداوند پر قائم رہیں گے، جو ان سے مخالفت کرتا ہے تو وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتے ہیں، جب بھی انکا کسی گروہ سے جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے گروہ سے جنگ کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں، خدا ایک گروہ کے دلوں کو انکے ضد میں کھڑا کر دیگا تا کہ وہ انہیں، ان سے رزق دلائے، یہاں تک کہ ان پر اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح قیامت آجائے۔

ملاحظہ

قَالَ الْمَنْصُورُ حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَمْ يَنْفَرِدْ بِهِ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، بَلْ تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، وَابْنُ السِّمْطِ هُوَ شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ الْكِنْدِيُّ مِنْ طُغَاةِ أَهْلِ الشَّامِ، شَهِدَ صِفِّينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، وَلَهُ بِهَا أَثَرٌ عَظِيمٌ[۸]، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو أَحْمَدَ الْحَاكِمُ: «لَهُ صُحْبَةٌ»[۹]، وَلَكِنْ لَمْ يَتَبَيَّنْ لِي ذَلِكَ، وَالْأَشْبَهُ عِنْدِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، وَرِوَايَتُهُ هَذِهِ مُرْسَلَةٌ، وَلَعَلَّهُ رَوَاهَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَعَنْ يَمِينِهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَعَنْ يَسَارِهِ ذُو الْكَلَاعِ، وَحَوْلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، وَأَخُوهُ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ»[۱۰].

ترجمہ:

منصور حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث کی روایت میں صرف ہشام ابن عمار ہی نہیں ہیں، بلکہ عبد اللہ ابن یوسف اور محمّد ابن یحییٰ ابن حمزہ بھی ان کے ساتھ ہیں اور ابن سمط وہی شرحبیل ابن سمط کندی ہیں جو شام کے متکبر لوگوں میں سے ایک ہیں صفین میں معاویہ کے ساتھ تھے اور اس میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، بخاری اور ابو احمد حاکم کہتے ہیں: «اس نے پیغمبر کو دیکھا ہے» لیکن یہ بات مجھ پر واضح نہیں ہے اور میرے نزدیک زیادہ مشابہ یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے کچھ نہیں سنا اور ان کی یہ روایت مرسل ہے اور غالباً انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے؛ جیسا کہ اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: «میں معاویہ کے پاس حاضر ہوا، عمرو بن عاص ان کے دائیں طرف، ذوالکلا ع ان کے بائیں طرف، عبد اللہ ابن عامر ابن کریز، اور ان کے بھائی عتبہ ابن ابی سفیان، عبدالرحمٰن ابن خالدا بن ولید اور شرحبیل ابن سمط اس کے پاس تھے اور ابو ہریرہ، نعمان ابن بشیر اور ابو امامہ باہلی اس کے سامنے تھے»[۱۱]۔

↑[۱] . المعرفة والتاريخ للفسوي، ج۲، ص۳۰۱
↑[۲] . دیکھۓ: تاريخ دمشق لابن عساكر، ج۱، ص۲۵۹.
↑[۳] . سنن ابن ماجه، ج۱، ص۵
↑[۴] . مسند البزار، ج۱۵، ص۳۶۰
↑[۵] . فضائل الشام ودمشق للربعي، ص۷۵
↑[۶] . دیکھۓ: الفتوح لابن أعثم، ج۲، ص۳۲۰.
↑[۷] . الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم، ج۵، ص۲۵۴
↑[۸] . دیکھۓ: أنساب الأشراف للبلاذري، ج۲، ص۲۷۵، ج۱۰، ص۲۰؛ تاريخ الطبري، ج۴، ص۵۷۴، ج۵، ص۷؛ الإستيعاب في معرفة الأصحاب لابن عبد البر، ج۲، ص۶۹۹؛ الكامل في التاريخ لابن الأثير، ج۲، ص۶۳۰؛ أسد الغابة لابن الأثير، ج۲، ص۶۲۱؛ مرآة الزمان في تواريخ الأعيان لسبط بن الجوزي، ج۶، ص۱۹۵؛ إكمال تهذيب الكمال لمُغَلْطاي بن قَلِيج، ج۴، ص۲۴؛ الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر، ج۳، ص۲۶۷.
↑[۹] . التاريخ الكبير للبخاري، ج۴، ص۲۴۸؛ الأسامي والكنى لأبي أحمد الحاكم، ج۴، ص۱۹۷
↑[۱۰] . مرآة الزمان في تواريخ الأعيان لسبط بن الجوزي، ج۶، ص۱۹۸
↑[۱۱] . شواہد اور ملاحظات کا مزید مطالعہ فرمانے کے لئے عربی ویب سائٹ کی طرف مراجعہ فرمائیں۔
ھم آہنگی
ان مطالب کو آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ دینی معلومات کو پھیلانے میں مدد ملے۔ نئی چیز سیکھنے کا شکر دوسروں کو وہی چیز سکھانے میں ہے۔
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]