جمعہ ۲۰ مئ ۲۰۲۲ برابر ۱۹ شوّال ۱۴۴۳ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سوال و جواب
 

کیا جناب منصور ہاشمی خراسانی ہم کو گزرے ہوئے لوگوں کی بنسبت زیادہ عالم اور زیادہ فاضل مانتے ہیں؟!

«ہم» سے آپ کی مراد اگر خود آپ ہیں یا آپ جیسے کوئی خاص افراد ہیں، تو جناب منصور ہاشمی خراسانی آپ کے متعلق نہ تو کوئی اطلاع رکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کے متعلق کوئی تبعا فیصلہ اور سلف کی بنسبت آپ زیادہ عالم اور زیادہ فاضل ہیں یا نہیں اس پر بھی جناب کوئی حکم نہیں لگائیں گے، اگر ہم سے آپ کی مراد «آئندہ آنے والے لوگ» ہیں تو پھر جناب منصور ہاشمی خراسانی سلف کے بنسبت آئندہ آنے والے لوگوں کو دلائل عقلیہ و شرعیہ کے مد نظر کہ جنہیں آپ نے «اسلام کی طرف واپسی»[۱] کتاب میں ذکر فرمایا ہے، زیادہ عالم اور زیادہ فاضل ہونے کو «ممکن» جانتے ہیں جناب اس بات کے معتقد ہیں کہ مطلق سلف کا آئندہ آنے والے لوگوں سے مطلق طور پر زیادہ عالم اور زیادہ فاضل ہونا ان لوگوں کے برخلاف کہ جو اسے بدیہی مانتے ہیں، بدیہی نہیں ہے اور یہ بات قطعی طور پر قبول بھی نہیں کی جاتی ہے چونکہ اسلام میں شک اور ظن کا کوئی اعتبار نہیں ہے لہذا اس ظن کی بنا پر کہ سلف آئندہ آنے والے لوگوں سے زیادہ عالم اور فاضل ہیں انکی تقلید، واجب بلکہ جائز نہیں ہوگی۔ بہ ہر حال، واضح ہے کہ سلف مسلمانوں کی پہلی تین نسل کے معنیٰ میں پیغمبروں کی مانند معصوم نہیں تھے کہ جنکا آئندہ آنے والوں کے بنسبت زیادہ عالم اور فاضل ہونا بدیہی ہوگا اور انکی تقلید واجب یا جائز شمار کی جائگی۔

لہذا، جناب منصور ہاشمی خراسانی سلف کو آئندہ آنے والوں کے بنسبت زیادہ عالم ہونے کو ممکن مانتے ہیں لیکن انکے علوم کو آئندہ آنے والوں کی طرف بلکل صحیح اور کامل طور پر منتقل ہونے کو مشکوک اور مردود مانتے ہیں اور آپ کا عقیدہ ہے کہ بہت زیادہ سیاسی اور مذہبی رکاوٹوں کا وجود ان کے لۓ اس علوم میں صحت و کمال کے یقینی ہونے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑتا ہے۔ سلفی علوم کے صحت و کمال پر شک اور ظن کے ہونے کی بنا پر انکے علوم کو ہمارے لئے کافی شمار نہیں کیا جائےگا کیونکہ اسلام میں شک اور ظن کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لہذا اوائل اسلام کے مسلمانوں کا آئندہ آنے والوں کے بنسبت زیادہ فاضل ہونا اسے اجر اخروی کے طور پر قبول کرتے ہیں اور اسے انکی تقلید کے جواز کے لئے دلیل کے طور پر قبول نہیں کرتے ہیں۔

لہذا، سلف کے متعلق جناب کی باتوں کا ما حصل یہ ہے پہلی بات تو یہ کہ سلف کا آئندہ آنے والوں کے بنسبت زیادہ عالم اور فاضل ہونا قطعی نہیں ہے اور یہ بات عقلی اور شرعی طور پر بھی ثابت نہیں ہو سکتی ہے یہ بات صرف اور صرف ایک احتمال ہے، اور یہ احتمال انکی تقلید کے جواز پر بطور دلیل کافی نہیں ہے اور دوسرا اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ سلف، آئندہ آنے والوں سے زیادہ عالم ہیں، تب بھی یہ قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ انکا علم صحیح اور کامل طور پر آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا ہے کہ جس بات پر انکی تقلید جائز اور واجب ہو جائے اور سلف کو آئندہ آنے والوں کی نسبت سے زیادہ فاضل مان بھی لیا جائے تو انکا یہ فضل، آخرت میں انکے زیادہ اجر ہونے کے بنا پر ہوگا کہ جو اب بھی اس دنیا میں انکی تقلید کے جواز پر دلیل کے طور پر کافی نہیں ہے۔

اس لئے، جناب منصور ہاشمی خراسانی کے نظریے کے مطابق، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سلف کو چھوڑ کر کتاب خدا اور پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی یقینی سنت پر عمل کریں؛ بالکل اسی طرح جس طرح خود سلف اسی بات کی کوشش کرتے تھے اور وہ اپنے سلف کی اتباع نہیں کیا کرتے تھے اور نہ اپنے سے بعد میں آنے والوں سے یہ کہا کرتے تھے کہ انکی اتباع کی جائے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کسی با خبر سے پوشیدہ نہیں ہے۔

خداوند تمام مسلمانوں کو ترک تعصب و تقلید اور خالص اسلام پر الزامات لگانے سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے اور تمام تصرفات سے اس مذھب کو بلند و بالا رکھے۔

↑[۱] . ص۲۸ سے ۳۰ تک
منصور ہاشمی خراسانی کی آفیشل ویب سائٹ سوالات کے جوابات کا حصّہ
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]
سوال لکھنا
عزیز کار کنان! آپ علّامہ منصور ہاشمی خراسانی کے خدمات اور انکے افکار کے بارے میں اپنے سوالات نیچے دۓ گۓ فارم میں لکھۓ اور ہمیں بھیجۓ تاکہ اس بخش میں جواب دۓ جا سکیں۔
توجّہ: ممکن ہے کہ آپ کا نام سوال کرنے والوں میں ویب سائٹ پر دکھایا جاۓ۔
توجّہ: ہمارا جواب آپ کے ایمیل پر ارسال کر دیا جاۓ اور کیونکہ ویب سائٹ پر پوسٹ نہیں کیا جاۓ گا لازم ہے کہ اپنے ایڈرس (پتہ) کو صحیح طریقے سے وارد کیجۓ ۔
مہربانی کر کے نیچے دۓ گۓ نکات پر توجّہ فرمائیں:
۱ ۔ ممکن ہے کہ آپ کے سوال کا ویب سائٹ پر جواب دیا جا چکا ہو ۔ اس نظریہ سے بہتر ہے کہ اپنا سوال لکھنے سے پہلے مربوطہ سوال و جواب کو مرور کریں یا ویب سائٹ پر امکانِ جستجو سے استفادہ کریں۔
۲ ۔ پہلے سوال کے جواب سے پہلے نۓ سوال کو بھیجنے سے گریز کریں۔
۳ ۔ ہر بار ایک سوال سے زیادہ بھیجنے سے گریز کریں۔
۴ ۔ ہماری اولویت امام مہدی علیہ السلام اور انکے ظہور کی زمینہ سازی کے سوالات اور جوابات ہیں؛ کیونکہ حال حاضر میں یہ ہر کام سے زیادہ اہم کام ہے۔