جمعہ ۲۰ مئ ۲۰۲۲ برابر ۱۹ شوّال ۱۴۴۳ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سوال و جواب
 

جناب منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں کے متعلق کیا نظریہ ہے کہ جو آج کے وقت چند خوابوں اور خبر واحد کو دلیل بنا کر خود کو امام مہدی علیہ السلام کا فرزند، نائب اور انکی طرف سے بھیجا ہوا نمائندہ شمار کرتے ہیں؟

امام مہدی علیہ السلام کے نائب یا انکے فرزند یا انکی طرف سے کسی بھیجے ہوئے شخص کا وجود عقلا اور شرعا محال نہیں ہے؛ کیونکہ ایک قول کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کا وجود دنیا میں موجود دیگر انسانوں کی ہی طرح ہے لہذا دوسروں کی طرح انکے لئے بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے کام کی انجام دھی کے لئے کسی کو اپنا نائب منتخب کریں یا کسی اور کو اس کام کے کرنے کے لئے بھیجیں یا وہ اپنی نسل کو بڑھاوا دینے کی خاطر کسی کو اپنی ہمسری میں لے آئیں، لیکن اس بات کے مد نظر کہ کسی کا کسی اور کے لئے نائب یا فرزند ہونا یا کسی کا بھیجا ہونا خلاف اصل ہے، لہذا مدعی کے لئے لازم ہے کہ وہ معتبر شرعی دلیلوں کے ذریعہ سے اپنی بات کو ثابت کرے، اور یہ بات واضح ہے کہ خواب یا خبر واحد کبھی بھی معتبر شرعی دلیل کے طور پر نہیں شمار کی جاتی ہے؛ کیونکہ قرآن و سنت میں کہیں بھی کسی ایسی بات کا ذکر نہیں ہے کہ جو خواب کو دیگر دلیل نہ ہونے کی صورت میں اسے ہی بطور دلیل قبول کر لینے یا خود خواب کو دلیل بنا لینے کے جواز پر دلیل ہو اور کبھی قاضی سے بھی یہ بات قبول نہیں کی جاتی ہے کہ خواب کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ کسی دلیل کے خلاف یا کسی دلیل کے بنا ہی کوئی حکم سنا دے۔ اس بنا پر وہ چیز کہ جسکی حجیت عقلا اور شرعا ثابت نہیں ہے اسکا معتقد نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس پر عمل کرنا چاہئے اگر چہ کہ اس کے مطابق خواب ہی کیوں نہ دیکھا ہو۔ یہ بات صریحی طور پر اہل بیت علیہم السلام سے منسوب روایتوں میں ذکر ہوئی ہے: جیسا کہ فرماتے ہیں: «إِنَّ دِينَ اللَّهِ أَعَزُّ مِنْ أَنْ يُرَى فِي النَّوْمِ»[۱]؛ «دین خداوند خواب میں دیکھے جانے والے ہر ایک چیز سے بہتر ہے»۔ سوائے اس کے کہ معصوم کوئی خواب دیکھے؛ جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جو خواب میں دیکھا، جب آپ نے فرمایا: ﴿يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ[۲]؛ «اے میرےبیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں پس دیکھ تیری کیا رائے ہے، کہا اے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے کر دیجئے، آپ مجھے ان شا ءاللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے» یا کوئی غیر معصوم خواب دیکھے اور کوئی معصوم اس خواب کی تعبیر بتائے مثلا ایک خواب فرعون نے دیکھا اور اس خواب کی تعبیر جناب یوسف علیہ السلام نے بتائی، جب فرعون کے قاصد نے یوسف علیہ السلام سے کہا: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ۝ قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تَأْكُلُونَ[۳]؛ «اے یوسف اے سچے! ہمیں اس کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گایوں کو سات کمزور گاۓ کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک، تاکہ میں لوگوں کے پاس لے جاؤں شاید وہ سمجھ جائیں۔ کہا تم سات برس لگاتار کھیتی کرو گے، پھر جو کاٹو تو اسے اس کے خوشوں میں رہنے دو مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ»۔ اس بنا پر وہ خواب کہ جو عام لوگ دیکھتے ہیں یا اسکی تعبیر کرتے ہیں اسکا کوئی اعتبار نہیں ہے اور یہ اکثر موجب ظن قرار پاتے ہیں بالکل اسی طرح سے جس طرح خبر واحد موجب ظن ہوتی ہے۔ لہذا ان چیزوں کو دین سے مربوط چیزوں میں گھسیٹ لانا جائز نہیں ہے؛ جیسا کہ خود خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ[۴]؛ «بیشک ظن حق کو کسی بھی چیز سے بے نیاز نہیں کرتا»۔ لہذا وہ لوگ کہ جو آج خواب اور خبر واحد کو دلیل بنا کر خود کو فرزند، نائب یا خود کو امام مہدی علیہ السلام کا بھیجا ہوا ثابت کرتے ہیں، یہ ایسا دعویٰ ہے کہ جسکی شرعی طور پر تصدیق ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جب انکی تمام باتیں یا انکے سارے کام ان چیزوں پر مشتمل نہ ہوں کہ جنکا بطلان عقلا اور شرعا معلوم ہو، لیکن اگر ساری باتیں اور انکے سارے کام ان چیزوں پر مشتمل ہوں کہ جنکا بطلان عقلا اور شرعا معلوم ہو تو ایسے موارد میں انکے متعلق وجوب تکذیب کی بحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے؛ لہذا محال ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اس طرح کے گمراہ لوگوں کو اپنا نائب یا اپنا نمائندہ قرار دیں تا کہ وہ لوگوں کو اپنے باطل باتوں اور کاموں سے گمراہ کریں اگر واقعا یہ لوگ انکے فرزند ہوتے تو یقینا یہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند کی مانند ہوتے کہ جس کے متعلق خود خدا نے فرمایا ہے: ﴿يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ[۵]؛ «فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں ہیں».

ان تمام باتوں کا ما حصل یہ ہے اس طرح کے مدعی حضرات کی تصدیق کرنا یا انکی اتباع کرنے کی کوئی وجہ اور دلیل نہیں ہے، بلکہ جس بھی مسلمان سے ممکن ہو ان پر واجب ہے کہ وہ لوگ اس طرح شر کو دفع کرے؛ کیونکہ اس طرح کے مدعیان چاہے جھوٹے مکار ہو ں یا روحانی مریض، یہ لوگ اپنے بے بنیاد دعوں اور اپنی باطل تعلیمات کے ذریعے سے شعائر اسلام کو ضرب لگائں گے، دین اسلام کی اہانت کا ذریعہ بنیں گے اور مسلمانوں کو شک اور سوئے ظن میں مبتلا کردیں گے، یہاں تک کہ حق اپنے ظاہر ہونے کے بعد بھی باطل سے الگ نہیں کیا جا سکے گا اور معجزہ دیکھے جانے کے بعد بھی جادو سے زیادہ کچھ اور نہ لگے گا لوگ اس قدر بد بین اور پیش داور ہو جائیں گے کہ مہدی کے ظہور کے بعد دوسرے جھوٹوں کی طرح انہیں بھی ایک جھوٹا گمان کریں گے اور یہ سب ان فتنوں کی وجہ سے ہوگا کہ جسے فرزندان شیطان ایجاد کریں گے؛ لہذا انہوں نے کوئی ایک آیت و حدیث بھی ایسی نہیں چھوڑی ہے کہ جسے خود پر تطبیق نہ دیا ہو، انہوں نے ایک معجزہ اور ایک علامت بھی نہیں چھوڑی ہے کہ جسے خود سے منسوب نہ کیا ہو، انہوں نے مسلمانوں کے کانوں کو ان تمام لغویات سے بھر دیا ہے تاکہ انمیں پھر دوبارہ اچھی باتیں سننے کی رغبت ہی نہ رہ جائے اور اس طرح کی باتوں کو بنا سوچے سمجھیے انکار کر دیں اور مہدی کو انکے ظھور کے بعد پہچاننے سے بچیں، ممکن ہے کہ جہل اور بے خبری کے بنا پر لوگ انکے مقابل کھڑے ہو جائیں! یہ سب چیزیں شیطان کی منہوس اولادوں کے ذریعہ سے ایران و عراق جیسے اسلامی ممالک میں جاری ہورہی ہے۔

خداوند جھوٹے دعوی کرنے والوں کو نابود کرے کیونکہ یہی لوگ مہدی کے اور انکے ناصر کے سب سے بڑ ے دشمن ہیں۔ بنا دلیل اور باطل باتوں کے ذریعہ سے لوگوں کو یہ لوگ اپنی طرف کھیچتے ہیں؛ کیونکہ یہ بد کردار لوگ لوگوں کے نام کو خود سے جوڑ کر انکی دکھتی رگوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور انکے متعلق ظاہری تشابہات کو ایجاد کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور انکی باتوں کو بے ارزش بنا دیتے ہیں اور لوگوں کو انکی دعوت سے متنفر کر دیتے ہیں امور مسلمین کی اصلاح اور خالص و کامل اسلام کے جاری ہونے کو انکے سامنے بلکل ہی سخت شمار کرتے ہیں؛ جھوٹے چرواہے کی کہانی کے مانند کہ جس نے بارہا اپنے جھوٹے دعوے کو لوگوں کے کانوں تک پہنچایا اور اپنے جھوٹے دعوت کی اس نے بارہا تکرار کی اور جب اس نے اپنے بھروسے کو لوگوں سے چھین لیا تب اس کی دعوت سے بھی لوگوں کا بھروسہ ہٹ گیا اور پھر لوگ اس طرح ہو گئے کہ اس جھوٹے کی بات تو دور کسی بھی سچے چرواہے کی فریاد پر بھی لوگوں نے کان دھرنا چھوڑ دیا چاہیں سچّا ہی کیوں نہ ہو!

خدا کی لعنت ہو ان جھوٹا دعویٰ کرنے والوں پر اور خدا انکے شر سے اپنے دین کو اپنے خلیفہ مہدی کو اور انکے ظہور کے زمینہ ساز منصور کو کہ جس نے کبھی بنا کسی دعوے اور غلط باتوں کے لوگوں کو انکی طرف بلایا ہے، محفوظ فرمائے۔ اور تمام مسلمانوں کو باطل سے حق کی شناخت، غلط سے صحیح بے وقوفی سے حکمت کی شناخت کی توفیق عنایت فرمائے؛ بے شک وہ رحم کرنے والا ہے۔

↑[۱] . الكافي للكليني، ج۳، ص۴۸۲؛ علل الشرائع لابن بابويہ، ج۲، ص۳۱۲
↑[۲] . الصافات/ ۱۰۲
↑[۳] . یوسف/ ۴۶ و ۴۷
↑[۴] . یونس/ ۳۶
↑[۵] . ہود/ ۴۶
منصور ہاشمی خراسانی کی آفیشل ویب سائٹ سوالات کے جوابات کا حصّہ
ضمیمے
ملحق سوالات اور جوابات
ملحق سوال ۱
لکھنے والا: سیّد
تاریخ: ۱۶/۲/۲۰۱۵
کیا جناب منصور ہاشمی خراسانی، احمد الحسن کو پہچانتے ہیں؟ اسکے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟ احمد الحسن حق پر ہے یا نہیں؟ کیوں؟ شکریہ۔
ملحق سوال کا جواب ۱
تاریخ: ۱۷/۲/۲۰۱۵

کسی کا حق پر ہونا یا کسی کا حق پر نہ ہونا یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو کسی کے پیشانی پر لکھی ہوئی ہو، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جسکا تعلق اس انسان کے عقیدہ اور عمل سے ہوتا ہے۔ اگر اسکا عقیدہ اور عمل صحیح ہے، تو وہ حق پر ہے اگر چہ لوگ اسے «دجال» کے نام سے پکاریں اور اگر اسکا عقیدہ اور عمل صحیح نہیں ہے تو وہ انسان حق پر نہیں ہے، اگر چہ کہ لوگ اسے «مہدی کا بیٹا» ہی کیوں نہ پکارنے لگے اور حضرت علامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے صحیح عقیدہ اور عمل کو کتاب خدا، پیغمبر کی متواتر سنت اور عقل سلیم سے حاصل ادلہ یقینی کی روشنی میں اپنی کتاب شریف «اسلام کی طرف واپسی» میں بیان فرمایا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو بھی اس کتاب شریف کا مطالعہ کرے اور مذکورہ شخص کے عقائد کو اس ترازو میں تولے تو وہ انسان اسمیں اسکی جہالت کو اشکار اور اسکی ضلالت کو نمایاں طور پر دیکھے گا، اب جبکہ وہ خود کو «پسر مہدی» چھوڑ کر «پسر خدا» بھی کہنے لگے تو جب تک کہ اسکا عقیدہ صحیح نہیں ہوگا وہ «پسر شیطان» ہی کہلائے گا خداوند نے شیطان کے متعلق فرمایا ہے: ﴿أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۚ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا[۱]؛ «کیا تم لوگ میرے سوا اسے اور اس کی نسل کو اپنا سرپرست بناؤ گے حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ ! یہ ظالموں کے لئے برا بدل ہے»! لہذا وای ہو اس شخص پر اور اسکے پیروکاوں پر، اس نے اپنی بے شرمی سے دنیاوی زندگی میں عذاب اور اخروی زندگی میں ایک بڑا عذاب اپنے سر لے لیا ہے جب تک کہ وہ لوگ اپنے باطل عقائد سے نہ پلٹے اور خدا کی بارگاہ میں خالص توبہ نہ کر لیں ، لوگوں کے دین کو جو خراب کیا ہے اسے درست نہ کر لیں اور ظہور مہدی کے سچے زمینہ ساز لوگوں سے جا کر نہ مل لیں۔

ظہور مہدی کے سچے زمینہ ساز خراسان کی ایک جماعت ہے کہ جو سیاہ پرچم کے ساتھ طلب مہدی کے لئے باہر نکل پڑی ہے اور مکمل خلوص کے ساتھ، تمام شرک اور شکوک سے دور ہو کر لوگوں کو اسکی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس جماعت کے رہبر منصور، ایک صالح عالم ہیں کہ جو اپنے لئے ایک بھی نا مناسب لفظ ادا نہیں کرتے ہیں۔ وہ خود کے لئے مہدی ہونے کا یا پسر مہدی ہونے کا، انکے نائب ہونے کا یا انکی طرف سے بھیجے ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ اپنے عمل سے لوگوں کو انکی طرف دعوت دیتے ہیں درحقیقت وہ انکے ظہور کے لئے زمینہ سازی کرتے ہیں اور ہر انسان جسکے لئے خدا نے خیر چاہا ہو وہ لاکھ مشکلات کے باوجود بھی انکی طرف کھیچا چلا آتا ہے اگر چہ وہ کتنی ہی مشکلات میں کیوں نہ ہو۔

↑[۱] . الکہف/ ۵۰
منصور ہاشمی خراسانی کی آفیشل ویب سائٹ سوالات کے جوابات کا حصّہ
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]
سوال لکھنا
عزیز کار کنان! آپ علّامہ منصور ہاشمی خراسانی کے خدمات اور انکے افکار کے بارے میں اپنے سوالات نیچے دۓ گۓ فارم میں لکھۓ اور ہمیں بھیجۓ تاکہ اس بخش میں جواب دۓ جا سکیں۔
توجّہ: ممکن ہے کہ آپ کا نام سوال کرنے والوں میں ویب سائٹ پر دکھایا جاۓ۔
توجّہ: ہمارا جواب آپ کے ایمیل پر ارسال کر دیا جاۓ اور کیونکہ ویب سائٹ پر پوسٹ نہیں کیا جاۓ گا لازم ہے کہ اپنے ایڈرس (پتہ) کو صحیح طریقے سے وارد کیجۓ ۔
مہربانی کر کے نیچے دۓ گۓ نکات پر توجّہ فرمائیں:
۱ ۔ ممکن ہے کہ آپ کے سوال کا ویب سائٹ پر جواب دیا جا چکا ہو ۔ اس نظریہ سے بہتر ہے کہ اپنا سوال لکھنے سے پہلے مربوطہ سوال و جواب کو مرور کریں یا ویب سائٹ پر امکانِ جستجو سے استفادہ کریں۔
۲ ۔ پہلے سوال کے جواب سے پہلے نۓ سوال کو بھیجنے سے گریز کریں۔
۳ ۔ ہر بار ایک سوال سے زیادہ بھیجنے سے گریز کریں۔
۴ ۔ ہماری اولویت امام مہدی علیہ السلام اور انکے ظہور کی زمینہ سازی کے سوالات اور جوابات ہیں؛ کیونکہ حال حاضر میں یہ ہر کام سے زیادہ اہم کام ہے۔