پیر ۳ اکتوبر ۲۰۲۲ برابر ۶ ربیع الاوّل ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سوال و جواب
 

مہربانی کر کے تقلید کی خصوصیت اور اسلام میں اس کے مقام کے بارے میں رہنمائ فرمائیں۔

ایک بہت اہم قاعدہ جسے ہر مسلمان کو جاننا چاہۓ اور اس پر توجہ دینا چاہۓ وہ ہے اسلام میں شک کا حجت نہ ہونا۔ اللہ تعالی نے قرآن کی مختلف آیات میں تاکید کی ہے اور فرمایا ہے ﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا[۱] یعنی «حقیقت کے لۓ شک کافی نہیں ہے» اور کسی بھی شخص کو شک کی پیروی کرنے کے لۓ منع کیا ہے اور فرمایا ہے ﴿إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ[۲] یعنی «وہ شک کے علاوہ پیروی نہیں کرتے اور وہ کسی چیز کا اندازہ نہیں لگاتے» یہ اس معنی میں ہوا کہ انسان کا عقیدہ اور عمل ایک ساتھ یقین کے اوپر ٹکا ہوا ہو اور وہ عقیدہ اور عمل کہ جو شک کے اوپر ٹکا ہوا ہو وہ صحیح نہیں ہے اور خدا کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ اسطرح ہے کہ عقائد اور اعمال میں دوسروں کی تقلید کا مطلب ہے کہ ان کے قول و فعل کی پیروی دلیلوں کو جانے بغیر اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع صرف شک کو جنم دیتا ہے یقین کا باعث نہیں ہوتا ، اس وضاحت کے ساتھ ، قرآن میں خدا کے واضح بیان کے مطابق «حق کے سوا کچھ بھی کافی نہیں ہے» ۔

لیکن کچھ لوگوں کی دلیلیں جو اعمال میں تقلید کو جائز سمجھتے ہیں یہ ہے کہ وہ اعمال کو عقائد سے جدا سمجھتے ہیں، جبکہ اسطرح کا کوئ بھی فرق اسلام سے ثابت نہیں ہے اور اللہ کا بیان قرآن مجید میں عام ہے اور اس میں اعمال و عقائد شامل ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہوا جسطرح ہر مسلمان لکھنا پڑھنا اور اپنی زندگی کی دیگر ضروریات کو سیکھتا ہے اعمال و عقائد اسلامی کو بھی سیکھے اور کسی بھی عقیدے یا عمل کو بغیر کسی قطعی اور یقینی دلیل کے قبول نہ کرے اور انجام نہ دے۔

قطعی اور یقینی دلیل اسلام میں اسی طرح ہے کہ جیسے حضرت علامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی نے کتاب «اسلام کی طرف واپسی» میں بیان فرمایا ہے، قرآنی آیات اور متواتر احادیث یقینا خدا کے خلیفہ سے زمین پر سننا ہے اور یہی خالص و کامل اسلام شمار کیا جاۓ گا کہ جو شکوک سے آلودہ نہیں ہے۔

↑[۱] . یونس/ ۳۶
↑[۲] . یونس/ ۶۶
منصور ہاشمی خراسانی کی آفیشل ویب سائٹ سوالات کے جوابات کا حصّہ
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]
سوال لکھنا
عزیز کار کنان! آپ علّامہ منصور ہاشمی خراسانی کے خدمات اور انکے افکار کے بارے میں اپنے سوالات نیچے دۓ گۓ فارم میں لکھۓ اور ہمیں بھیجۓ تاکہ اس بخش میں جواب دۓ جا سکیں۔
توجّہ: ممکن ہے کہ آپ کا نام سوال کرنے والوں میں ویب سائٹ پر دکھایا جاۓ۔
توجّہ: ہمارا جواب آپ کے ایمیل پر ارسال کر دیا جاۓ اور کیونکہ ویب سائٹ پر پوسٹ نہیں کیا جاۓ گا لازم ہے کہ اپنے ایڈرس (پتہ) کو صحیح طریقے سے وارد کیجۓ ۔
مہربانی کر کے نیچے دۓ گۓ نکات پر توجّہ فرمائیں:
۱ ۔ ممکن ہے کہ آپ کے سوال کا ویب سائٹ پر جواب دیا جا چکا ہو ۔ اس نظریہ سے بہتر ہے کہ اپنا سوال لکھنے سے پہلے مربوطہ سوال و جواب کو مرور کریں یا ویب سائٹ پر امکانِ جستجو سے استفادہ کریں۔
۲ ۔ پہلے سوال کے جواب سے پہلے نۓ سوال کو بھیجنے سے گریز کریں۔
۳ ۔ ہر بار ایک سوال سے زیادہ بھیجنے سے گریز کریں۔
۴ ۔ ہماری اولویت امام مہدی علیہ السلام اور انکے ظہور کی زمینہ سازی کے سوالات اور جوابات ہیں؛ کیونکہ حال حاضر میں یہ ہر کام سے زیادہ اہم کام ہے۔