جمعہ ۲ دسمبر ۲۰۲۲ برابر ۷ جمادی الاوّل ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
سوال و جواب
 

منصور ہاشمی خراسانی کے سیاہ پرچم کا کیا راز ہے؟

منصور ہاشمی خراسانی کے اس سیاہ پرچم میں چار راز پنہان ہیں:

پہلا یہ کہ سیاہ پرچم کا استعمال سنت ہے؛ کیونکہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا پرچم بھی سیاہ ہی تھا؛ جیسا کہ ابن عباس، بریدہ، جابر، عائشہ اور بھی دیگر افراد نے یہ روایت نقل فرمائی ہے اور یونس ابن عبید مولی محمد ابن قاسم نے فرمایا ہے: «بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ»[۱]؛ «محمد ابن قاسم نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے پرچم کے متعلق سوال کرنے کے لئے مجھے براء ابن عازب کے طرف بھیجا، پس اس نے کہا: سیاہ رنگ کا چار گوشوں والا نَمِره (ایک قسم کا کپڑہ) کے جنس میں سے تھا» اور ابو ہریرہ سے روایت منقول ہے، اس نے کہا: «كَانَتْ رَايَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةٌ قَطِيفَةٌ سَوْدَاءُ كَانَتْ لِعَائِشَةَ»[۲]؛ «پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا مخملی کپڑے کا سیاہ رنگ کا پرچم عائشہ سے متعلق تھا» اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت نقل ہوئی ہے کہ: «كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ مِنْ مِرْطٍ لِعَائِشَةَ مُرَحَّلٍ»[۳]؛ «رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا سیاہ، بنا سلا ہوا اور سجا ہوا پرچم عائشہ سے متعلق تھا» اور اسی کے مثل سعید ابن مسیب سے بھی روایت نقل ہوئی ہے[۴] اور حارث ابن حسان نے بھی روایت نقل کی ہے: «قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدًا سَيْفًا وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الرَّايَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا»؛ «میں مدینہ آیا، میں نے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو منبر پر دیکھا اور بلال اپنے کندھے پر شمشیر لئے انکے روبرو کھڑے تھے اور کالے پرچم لہرا رہے تھے، میں نے کہا: یہ پرچم کس لئے ہیں؟ جواب دیا: رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم عمرو ابن عاص کو کہیں بھیجنا چاہتے ہیں» اور دیگر روایتوں میں وارد ہوا ہے: «عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ»[۵]؛ «عمرو ابن عاص کسی جنگ سے لوٹ رہے تھے» اور ابن سعد نے اپنے ہی رجال سے روایت نقل کی ہے، کہتے ہیں: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ وَخَمْسِينَ فَرَسًا وَمَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ»[۶]؛ «رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے علی ابن ابی طالب کو انصار کے ایک سو پچاس مردوں کے ساتھ جنمیں سے ایک سو، اونٹوں پر سوار اور پچاس، گھوڑوں پر سوار تھے جنگ میں بھیجا جبکہ انکے ہمراہ سیاہ پرچم تھا» اور قتادہ نے انس سے روایت کی ہے، بیان فرماتے ہیں: «إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ كَانَتْ مَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَشَاهِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ»[۷]؛ «پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی بعض جنگوں میں انکے لئے ابن مختوم کے پاس خود کالے پرچم ہوا کرتے تھے»۔ اسی طرح، روایت نقل ہوئی ہے کہ زبیر ابن عوام فتح مکہ کے دن مہاجران اور عربی قبائل کے پانچ سو افراد کے ساتھ مکہ میں وارد ہوئے اور اس وقت انکے پاس سیاہ پرچم تھا[۸] اور یزید ابن ابی حبیب کہتے ہیں: «كَانَتْ رَايَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُودًا»[۹]؛ «رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے پرچم سیاہ تھے» اور حسن نے کہا ہے: «كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ تُسَمَّى الْعُقَابَ»[۱۰]؛ «رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا پرچم سیاہ تھا اور اسکا نام عقاب تھا» اور یہی روایت ابو ہریرہ سے بھی نقل ہوئی ہے[۱۱] اور عروہ ابن زبیر سے روایت ہے کہ: «كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ مِنْ بُرْدٍ لِعَائِشَةَ تُدْعَى الْعُقَابَ»[۱۲]؛ «رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا کپڑے کا سیاہ پرچم عائشہ سے متعلق تھا اور اسکا نام عقاب تھا» اور ام حسین بنت عبد اللہ ابن محمد ابن علی ابن الحسین سے روایت نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے ایک حدیث میں فرمایا: «قَالَ لِي عَمِّي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: يَا بُنَيَّةُ! هَذِهِ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعُقَابُ، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً سَوْدَاءَ، ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا فَوَضَعْتُهَا عَلَى عَيْنَيَّ وَوَجْهِي»[۱۳]؛ «میرے چچا جعفر ابن محمد نے مجھ سے فرمایا: میری بیٹی! یہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا عقاب نامی پرچم ہے۔ پھر انہوں نے ایک سیاہ کپڑا باہر نکالا، اسے آنکھوں سے لگایا اور پھر اس کپڑے کو میرے حوالے کیا اور میں نے بھی اسے اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے سے لگایا»۔ اور اس کے علاوہ علی ابن ابی طالب کا پرچم بھی انکی جنگوں میں سیاہ ہی تھا؛ جیسا کہ حریث ابن مخش نے روایت کیا ہے: «إِنَّ رَايَةَ عَلِيٍّ كَانَتْ يَوْمَ الْجَمَلِ سَوْدَاءَ»[۱۴]؛ «جمل کے دن علی کا پرچم یقینا سیاہ تھا» اور علی علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ صفین کے دن انہوں نے اپنے علمدار ابو ساسان حضین ابن منذر رقاشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

«لِمَنْ رَايَةٌ سَوْدَاءُ يَخْفِقُ ظِلُّهَا ۔۔۔ إِذَا قِيلَ قَدِّمْهَا حُضَيْنُ تَقَدَّمَا

يُقَدِّمُهَا لِلْمَوْتِ حَتَّى يُزِيرَهَا ۔۔۔ حِيَاضَ الْمَنَايَا يَقْطُرُ الْمَوْتَ وَالدَّمَا

أَذَقْنَا ابْنَ حَرْبٍ طَعْنَنَا وَضِرَابَنَا ۔۔۔ بِأَسْيَافِنَا حَتَّى تَوَلَّى وَأَحْجَمَا

جَزَى اللَّهُ قَوْمًا قَاتَلُوا عَنْ إِمَامِهِمْ ۔۔۔ لَدَى الْمَوْتِ قُدْمًا مَا أَعَفَّ وَأَكْرَمَا»[۱۵]

«کالا پرچم کس کے لیے ہے کہ جس کا سایہ پڑرہا ہے؟ جب اسے کہا جاتا ہے اے حصین اسے آگے لے آؤ تو وہ اسے آگے لے آتا ہے۔ چنانچہ وہ اسے موت کی طرف بھیجتا ہے تاکہ وہ موت کے کنوے تک پہنچے کہ جہاں سے صرف تباہی اور خون ٹپکتا ہے۔ ہم نے اپنی تلواروں سے پسر حرب کو اپنے نیزوں اور ضربوں کا مزہ چکھا یا، یہاں تک کہ وہ مڑ کر بھاگ گیا۔ خدا ان لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے اپنے امام کے ساتھ جنگ ​​کی، وہ کتنے معزز اور بزرگ تھے!»

بعض علماء نے احتمال دیا ہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی سیاہ پرچم سے محبت از باب تفأل تھی یعنی نیک فال کے لئے تھی؛ جیسا کہ فرمایا ہے: «إِنَّ الْحِكْمَةَ فِي إِيثَارِ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الْفَتْحِ الْإِشَارَةُ إِلَى مَا مَنَحَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ السُّؤْدُدِ الَّذِي لَمْ يَتَّفِقْ لِأَحَدٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَهُ، وَإِلَى سُؤْدُدِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ»[۱۶]؛ «فتح مکہ کے دن سیاہ رنگ (سود) کو ترجیح دینے کی حکمت سے مراد <سؤدد> فتح اور حاکمیت ہے جو پچھلے انبیاء میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوئی تھی، نیز اسلام اور اس کے لوگوں کی فتح اور حاکمیت» اور یہ بعید نہیں ہے؛ کیونکہ «سُؤْدُد» کا معنی عظمت، مجد اور شرف ہے اور «مُسَوَّد» کا معنی سرور و سالار کے ہیں؛ جیسا کہ قیس ابن عاصم کی حدیث میں وارد ہوا ہے: «اتَّقُوا اللَّهَ وَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ»[۱۷]؛ «خدا سے ڈرو اور اپنے بزرگوں کو اپنا سید و سردار قرار دو» اور ابن عمر کی حدیث میں وارد ہوا ہے: «مَا رَأَيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدَ مِنْ فُلَانٍ»[۱۸]؛ «رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بعد میں نے فلاں سے بہتر سردار نہیں دیکھا» روایت میں وارد ہوا ہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم تفأل کو پسند فرماتے تھے اور اچھے ناموں کو نیک فال شمار کرتے تھے[۱۹]۔ لہذا، منصور ہاشمی خراسانی کا سیاہ پرچم استعمال کرنا رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور انکے راشد خلیفہ علی ابن ابی طالب کے سنت کی پیروی ہے اور یہ کوئی عجیب نہیں ہے؛ کیونکہ آپ تمام مراحل میں ان دونوں کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور ان دونوں مبارک عمل سے آپ خالص دین قائم کرنے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کر دینے کی کوشش جاری رکھیں گے اور جو یہ کام کر رہا ہے اور «اسلام کی طرف واپسی» کا نعری بلند کر رہا ہے اور مہدی کو قدرت تک پہنچانے کے لئے زمینہ سازی کر رہا ہے، بلا شک ان کے لئے اس سے زیادہ مناسب کوئی اور پرچم نہیں ہے، یہ وہی پرچم ہے جو رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور علی ابن ابی طالب کا پرچم تھا۔

دوسرا یہ کہ، سیاہ پرچم! مؤمنین کے لئے جس دن وہ جمع ہونگے اور راہ خدا میں جہاد کریں گے اس دن بڑا فائدہ مند ہوگا؛ جیسا کہ سرخسی نے شرح السیر الکبیر میں فرمایا ہے: «إِنَّمَا اسْتُحِبَّ فِي الرَّايَاتِ السَّوَادُ لِأَنَّهُ عَلَمٌ لِأَصْحَابِ الْقِتَالِ، وَكُلُّ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَ عِنْدَ رَايَتِهِمْ، وَإِذَا تَفَرَّقُوا فِي حَالِ الْقِتَالِ يَتَمَكَّنُونَ مِنَ الرُّجُوعِ إِلَى رَايَتِهِمْ، وَالسَّوَادُ فِي ضَوْءِ النَّهَارِ أَبْيَنُ وَأَشْهَرُ مِنْ غَيْرِهِ خُصُوصًا فِي الْغُبَارِ، فَلِهَذَا اسْتُحِبَّ ذَلِكَ»[۲۰]؛ «سیاہ پرچم اس لئے مستحب ہیں کہ یہ جنگجؤں کی نشانی ہے اور ہر گروہ اپنے پرچم کے نیچے لڑتا ہے اور جب بھی وہ جنگ کے دوران بکھر جاتے ہیں تو وہ اپنے پرچم کے نیچے واپس آ سکتے ہیں، اور سیاہ رنگ دن کی روشنی میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ روشن اور زیادہ دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر دھول کے درمیان اور اس وجہ سے یہ مستحب قرار پایاہے»۔

تیسرا یہ کہ، سیاہ پرچم کا استعمال ان لوگوں میں ایک عام رواج ہے جنہوں نے بڑی آفات کا سامنا کیا ہے، اس حد تک کہ یہ عرفا کسی اہم اور افسوسناک واقعے کے رونما ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، اور یہ پرچم کسی تباہی کے بارے میں اطلاع دینے کی ایک نشانی ہے، اور ممکن ہے یہی ایک وجہ ہے جس نے منصور ہاشمی خراسانی کو سیاہ پرچم کے استعمال پر مجبور کیا ہے۔ اس لیے کہ ان پر ایک ایسی بڑی آفت آئی ہے جو اس سے پہلے بنی آدم پر کبھی نہیں آئی اور یہ عظیم مصیبت زمین پر خدا کے خلیفہ کی غیبت ہے کہ جو زمین پر جہالت، کفر، ظلم اور بے حیائی کی وجہ سے وجود میں آئی ہے، اور یہ ایک ایسی آفت ہے جس کی وسعت اور عظمت کے باوجود بھی لوگ اس سے بے خبر ہیں۔ اسی وجہ سے، منصور ہاشمی خراسانی نے سیاہ پرچم کا استعمال کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو متوجہ کر سکیں اور جب تک یہ مصیبت تمام نہیں ہو جائے گی وہ اس پرچم کو جھکنے نہیں دیں گے، ان شاء اللہ۔

چوتھا، سیاہ پرچم کا استعمال داعش نامی ظالم اور جابر فرقے کے ساتھ واضح تصادم ہے؛ کیونکہ خراسان میں منصور ہاشمی خراسانی کے ظاہر ہونے سے کچھ عرصہ پہلے یہ فرقہ شام اور عراق میں نمودار ہوا اور ابوبکر البغدادی نامی ایک گمراہ اور گمراہ کن شخص کی حکومت کی طرف دعوت دینے کے لیے سیاہ پرچم کا استعمال کرنے لگا۔ جب منصور ہاشمی خراسانی نے اسے دیکھا، تو انہوں نے سیاہ پرچم کو مہدی کی حکومت کی طرف دعوت دینے کے لئے استعمال کر لیا تاکہ وہ اس کے ذریعے اسلام کی راہ میں اس عظیم اور خطرناک انحراف کے خلاف اس کی راہ میں کھڑے ہو جائیں۔ جیسا کہ انہوں نے خود کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کے ایک حصے میں اس مذموم گروہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

«اس لیے میں اس فتنہ کو روکنا چاہتا تھا اور ایسے لوگوں سے میدان چھیننا چاہتا تھا؛ میں نے سنا کہ مغرب میں باطل کی آواز بلند ہوئی ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ مشرق میں حق کی آواز بلند ہو، تاکہ دنیا میں صرف باطل کی آواز نہ گونجے، ایسا نہ ہو کہ مسلمان باطل اور عذاب کے خلاف جمع ہو جائیں؛ کیونکہ حکومت صرف خدا کے لیے ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اس نے مہدی فاطمی کے علاوہ کسی کو اس کے لائق نہیں جانا کہ جس سے آل محمد راضی ہیں اور تمام مسلمان ان سے راضی ہیں»۔

منصور ہاشمی خراسانی کے سیاہ جھنڈوں کے استعمال کا راز یہی ہے۔

↑[۱] . مسند أحمد، ج۳۰، ص۵۸۹؛ التاريخ الكبير للبخاري، ج۸، ص۴۰۳؛ سنن أبي داود، ج۳، ص۳۲؛ سنن الترمذي، ج۴، ص۱۹۶؛ السنن الكبرى للنسائي، ج۸، ص۱۹؛ مسند أبي يعلى، ج۳، ص۲۵۵؛ مسند الروياني، ج۱، ص۲۷۳؛ أخلاق النبي لأبي الشيخ الأصبهاني، ج۲، ص۴۱۳؛ السنن الكبرى للبيهقي، ج۶، ص۵۸۹
↑[۲] . الكامل لابن عدي، ج۳، ص۴۵۷؛ تاريخ دمشق لابن عساكر، ج۴، ص۲۲۵
↑[۳] . مصنف ابن أبي شيبة، ج۶، ص۵۳۲؛ أخلاق النبي لأبي الشيخ الأصبهاني، ج۲، ص۴۱۸؛ شرح السنة للبغوي، ج۱۰، ص۴۰۴
↑[۴] . تاريخ خليفة بن خياط، ص۶۷؛ تاريخ دمشق لابن عساكر، ج۴۲، ص۷۳
↑[۵] . مصنف ابن أبي شيبة، ج۶، ص۵۳۲؛ مسند أحمد، ج۲۵، ص۳۰۳؛ تاريخ المدينة لابن شبة، ج۱، ص۳۰۱؛ سنن الترمذي، ج۵، ص۲۴۵؛ تاريخ الطبري، ج۱، ص۲۱۷؛ المعجم الكبير للطبراني، ج۳، ص۲۵۵؛ العظمة لأبي الشيخ الأصبهاني، ج۴، ص۳۲۰؛ معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني، ج۲، ص۷۹۱؛ السنن الكبرى للبيهقي، ج۶، ص۵۹۰
↑[۶] . مغازي الواقدي، ج۳، ص۹۸۴؛ الطبقات الكبرى لابن سعد، ج۲، ص۱۶۴
↑[۷] . نسائی نے اسکو اس لفظ کے ساتھ السنن الكبرى (ج۸، ص۱۹) میں روایت کی ہے۔
↑[۸] . مغازي الواقدي، ج۲، ص۸۱۹
↑[۹] . الطبقات الكبرى لابن سعد، ج۱، ص۳۵۲
↑[۱۰] . الطبقات الكبرى لابن سعد، ج۱، ص۳۵۲؛ مصنف ابن أبي شيبة، ج۶، ص۵۳۳؛ الأنوار في شمائل النبيّ المختار للبغوي، ص۵۹۲
↑[۱۱] . ابن عدی نے اسکو الکامل میں روایت کی ہے (ج۵، ص۴۷۵)۔
↑[۱۲] . شرح السير الكبير للسرخسي، ص۷۱ و مثل آن در مغازي الواقدي (ج۲، ص۶۴۹)۔
↑[۱۳] . بصائر الدرجات للصفار، ص۲۰۷
↑[۱۴] . مصنف ابن أبي شيبة، ج۶، ص۵۳۳؛ المؤتلف والمختلف للدارقطني، ج۴، ص۲۰۸۷
↑[۱۵] . أنساب الأشراف للبلاذري، ج۲، ص۲۷۰؛ تاريخ الطبري، ج۵، ص۳۷؛ الفتوح لابن أعثم، ج۳، ص۲۸؛ مروج الذهب للمسعودي، ج۳، ص۴۸؛ تجارب الأمم لابن مسكويه، ج۱، ص۵۳۲؛ الكامل في التاريخ لابن الأثير، ج۲، ص۶۵۰؛ بغية الطلب في تاريخ حلب لابن العديم، ج۶، ص۲۸۳۴
↑[۱۶] . منتهى السؤل على وسائل الوصول إلى شمائل الرسول للّحجي، ج۱، ص۵۱۷ اور اسکو علماء سے نسبت دی ہے۔
↑[۱۷] . مسند أحمد، ج۳۴، ص۲۱۷؛ الأدب المفرد للبخاري، ص۱۸۸؛ شعب الإيمان للبيهقي، ج۵، ص۴۱
↑[۱۸] . الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم، ج۱، ص۳۷۹؛ السنة لأبي بكر بن الخلال، ج۲، ص۴۴۲؛ المعجم الكبير للطبراني، ج۱۲، ص۳۸۷؛ معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني، ج۵، ص۲۴۹۶
↑[۱۹] . دیکھۓ: سنن ابن ماجه، ج۲، ص۱۷۰؛ شرح مشكل الآثار للطحاوي، ج۵، ص۹۹؛ صحيح ابن حبان، ج۱۳، ص۴۹۳۔
↑[۲۰] . شرح السير الكبير للسرخسي، ص۷۲
منصور ہاشمی خراسانی کے دفتر کی آفیشل ویب سائٹ سوالات کے جوابات کا سیکشن
ھم آہنگی
ان مطالب کو آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ دینی معلومات کو پھیلانے میں مدد ملے۔ نئی چیز سیکھنے کا شکر دوسروں کو وہی چیز سکھانے میں ہے۔
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]
سوال لکھنا
عزیز کار کنان! آپ علّامہ منصور ہاشمی خراسانی کے خدمات اور انکے افکار کے بارے میں اپنے سوالات نیچے دۓ گۓ فارم میں لکھۓ اور ہمیں بھیجۓ تاکہ اس بخش میں جواب دۓ جا سکیں۔
توجّہ: ممکن ہے کہ آپ کا نام سوال کرنے والوں میں ویب سائٹ پر دکھایا جاۓ۔
توجّہ: ہمارا جواب آپ کے ایمیل پر ارسال کر دیا جاۓ اور کیونکہ ویب سائٹ پر پوسٹ نہیں کیا جاۓ گا لازم ہے کہ اپنے ایڈرس (پتہ) کو صحیح طریقے سے وارد کیجۓ ۔
مہربانی کر کے نیچے دۓ گۓ نکات پر توجّہ فرمائیں:
۱ ۔ ممکن ہے کہ آپ کے سوال کا ویب سائٹ پر جواب دیا جا چکا ہو ۔ اس نظریہ سے بہتر ہے کہ اپنا سوال لکھنے سے پہلے مربوطہ سوال و جواب کو مرور کریں یا ویب سائٹ پر امکانِ جستجو سے استفادہ کریں۔
۲ ۔ پہلے سوال کے جواب سے پہلے نۓ سوال کو بھیجنے سے گریز کریں۔
۳ ۔ ہر بار ایک سوال سے زیادہ بھیجنے سے گریز کریں۔
۴ ۔ ہماری اولویت امام مہدی علیہ السلام اور انکے ظہور کی زمینہ سازی کے سوالات اور جوابات ہیں؛ کیونکہ حال حاضر میں یہ ہر کام سے زیادہ اہم کام ہے۔