ہفتہ ۳ دسمبر ۲۰۲۲ برابر ۸ جمادی الاوّل ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
قول
 

۱ . أَخْبَرَنَا وَلِيدُ بْنُ مَحْمُودٍ السَّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ الْهَاشِمِيَّ الْخُرَاسَانِيَّ يَقُولُ: فَرِيقَانِ أَفْسَدَا عَلَى النَّاسِ دِينَهُمْ: أَهْلُ الرَّأْيِ وَأَهْلُ الْحَدِيثِ! قُلْتُ: أَمَّا أَهْلُ الرَّأْيِ فَقَدْ عَلِمْتُ، فَمَا بَالُ أَهْلِ الْحَدِيثِ؟! قَالَ: إِنَّهُمْ حَدَّثُوا بِأَحَادِيثَ مَكْذُوبَةٍ، زَعَمُوا أَنَّهَا صَحِيحَةٌ، وَجَعَلُوهَا مِنَ الدِّينِ، وَمَا افْتَرَى عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَرِيقٌ مِثْلَ مَا افْتَرَى أَهْلُ الْحَدِيثِ، يَقُولُونَ: «قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» وَمَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا، وَلَئِنْ قَالَ رَجُلٌ هَذَا رَأْيٌ رَأَيْتُهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقُولَ هَذَا قَوْلُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَهُوَ كَاذِبٌ!

قول کا ترجمہ:

ولید بن محمود سجستانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا منصور ہاشمی خراسانی فرماتے ہیں: دو گروہوں نے دین کو لوگوں پر تباہ کر دیا ہے: اہل راۓ اور اہل حدیث! میں نے کہا: اہل رائے کو تو جانتا ہوں، لیکن اہلِ حدیث کس طرح؟! آپ نے فرمایا: انہوں نے صحیح سمجھ کر جھوٹی حدیثیں بیان کیں، اور اسے دین کا حصہ بنا لیا، اور خدا اور اس کے رسول سے جیسا اہل حدیث نے جھوٹ منصوب کیا ہے ویسا کسی گروہ نے بھی ان سے جھوٹ منصوب نہیں کیا، وہ کہتے ہیں: «خدا اور اس کے رسول نے یہ فرمایا ہے»، جبکہ خدا اور اس کے نبی نے ایسا کچھ بھی بیان نہیں فرمایا ہے، وہ صرف جھوٹ بولتے ہیں، یہ کہنا کہ میرے نظریے کے مطابق یہ میری رائے ہے اسکا یہ کہنا اس کے حق میں بہتر ہے! اس سے کہ کوئی کہے کہ یہ خدا اور اس کے پیغمبر کا قول ہے، جبکہ یہ جھوٹا ہے!

۲ . أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ عُبَيْدٍ الْخُجَنْدِيُّ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى الْمَنْصُورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَالَ لَهُ: إِنِّي أَدِينُ اللَّهَ بِالْحَدِيثِ وَإِنَّ أَخِي يَدِينُ بِالرَّأْيِ، قَالَ: لَا دِينَ لَكُمَا! فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَرْتَعِدُ، فَقَالَ: مَنْ دَانَ اللَّهَ بِرَأْيِهِ فَلَا دِينَ لَهُ، وَمَنْ دَانَهُ بِرِوَايَةٍ تُرْوَى لَهُ فَلَا دِينَ لَهُ، وَمَنْ دَانَهُ بِسَمَاعٍ مِنْ خَلِيفَتِهِ فِي الْأَرْضِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ! ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ، فَاعْرِفْهُ وَاسْتَمْسِكْ بِحُجْزَتِهِ، فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ مِنْ رَأْيِكَ وَرِوَايَتِكَ، وَإِنَّمَا تَعْرِفُهُ بِآيَةٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا عَرَفْتَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى!

قول کا ترجمہ:

ہاشم بن عبید الخجندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: اہل حدیث میں سے ایک شخص منصور کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں حدیث کی بنیاد پر خدا کی عبادت کرتا ہوں اور میرا بھائی اپنی رائے پر اس کی عبادت کرتا ہے! آنجناب نے فرمایا: تم دونوں کا کوئی مذہب نہیں ہے! یہ سن کر وہ شخص کانپنے لگا، آنجناب نے جیسے ہی اسے اس حالت میں دیکھا تو فرمایا: جو شخص اپنی رائے سے خدا کی عبادت کرے تو اس کا کوئی دین نہیں ہے اور جو روایت کی بنیاد پر اس کی عبادت کرے تو اس کا بھی کوئی دین نہیں ہے اور جو شخص زمین پر موجود اس کے خلیفہ کو سن کر اس کی پرستش کرتا ہے تو وہ یقیناً راہ راست کی طرف رہنمائی کیا گیا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک زمین پر خدا کا خلیفہ موجود ہے، لہذا اس کو پہچانو اور اس کے دامن کو تھام لو؛ کیونکہ وہ تمہیں رائے اور تمہاری روایتوں سے بے نیاز کر دیگا اور جیسا کہ تم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہچانا ہے ویسے ہی اگر تم اسے خدا کی آیتوں کے ذریعے سے پہچانو تو تم کبھی ناکام نہیں ہو سکتے اور جس نے ان سے جھوٹ منسوب کیا وہ انہیں پہچاننے میں ہمیشہ ناکام رہا!

۳ . أَخْبَرَنَا ذَاكِرُ بْنُ مَعْرُوفٍ الْخُرَاسَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ لِجَمَاعَةٍ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ: إِنَّ مَوَالِيَ بَنِي أُمَيَّةَ قَدْ أَفْسَدُوا عَلَيْكُمُ الْحَدِيثَ، فَدَعُوهُ وَأَقْبِلُوا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَخَلِيفَتِهِ فِيكُمْ، فَإِنَّهُمَا يَهْدِيَانِكُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ! أَلَا إِنِّي لَا أَقُولُ لَكُمْ: «حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللَّهِ» وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ: «حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللَّهِ وَخَلِيفَتُهُ فِيكُمْ»! قَالُوا: وَمَنْ خَلِيفَتُهُ فِينَا؟! قَالَ: الْمَهْدِيُّ!

قول کا ترجمہ:

ذاکر ابن معروف خراسانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا منصور علمائے حدیث کی ایک جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بے شک امویوں کے چاہنے والوں نے تم پر حدیثوں کو خراب کیا ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دو اور خدا کی کتاب اور اس کے خلیفہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ؛ کیونکہ وہ تمہیں صحیح راستے کی طرف رہنمائی کریں گے! جان لو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ «خدا کی کتاب تمہارے لیے کافی ہے» بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ «خدا کی کتاب اور اس کے خلیفہ تمہارے لیے کافی ہیں»! انہوں نے کہا: ہمارے درمیان اس کا خلیفہ کون ہے؟! آپ نے فرمایا: مہدی!

۴ . أَخْبَرَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْمَنْصُورِ: إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْحَدِيثِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ[۱]، قَالَ: أَتِمَّ الْآيَةَ! قُلْتُ: ﴿وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ[۲]، قَالَ: مَنْ يُطِعْ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَقَدْ أَطَاعَ الرَّسُولَ، وَمَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، فَمَا لِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا؟! قُلْتُ: وَمَنْ أُولُوا الْأَمْرِ مِنَّا؟ قَالَ: رِجَالٌ وَلَّاهُمُ اللَّهُ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الرَّسُولِ، يُطِيعُونَ اللَّهَ وَالرَّسُولَ! قُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَمَّنْ مَضَى مِنْهُمْ، وَلَكِنْ سَلُونِي عَمَّنْ بَقِيَ، فَإِنَّ بَقِيَّةَ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ! قُلْتُ: وَمَنْ بَقِيَّةُ اللَّهِ؟ قَالَ: الْمَهْدِيُّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بَقِيَّةَ اللَّهِ!

قول کا ترجمہ:

ابو ابراہیم سمرقندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے کہا: آپ حدیث سے منع کر رہے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «اے ایمان والو ں! خدا اور رسول کی اطاعت کرو»، آپ نے فرمایا: آیت مکمل کرو! میں نے کہا: «اور انکی اطاعت کرو جو صاحب امر ہیں»، آپ نے فرمایا: جس نے صاحب امر کی اطاعت کی گویا اس نے نبی کی اطاعت کی اور جس نے نبی کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی؛ پس ان لوگوں کا کیا ہوگا جو ایک لفظ بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہیں؟! میں نے کہا: صاحبان امر کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: پیغمبر کے بعد ایسے افراد جنہیں خدا نے اس قوم کے امور کو سپرد کیا ہے، اور وہ خدا اور پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں! میں نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھ سے مرنے والوں کے بارے میں نہ پوچھو، جو رہ گیا ہے اس کے بارے میں پوچھو؛ کیونکہ خدا کے بچائے ہوئے تمہارے لیے بہتر ہیں اگر تم ایمان رکھو! میں نے کہا: خدا کے باقی ماندہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: مہدی، پس جب تم ان سے ملو تو کہو: سلام ہو تم پر، اے بقیۃ اللہ!

۵ . أَخْبَرَنَا أَتَابَكُ بْنُ جَمْشِيدَ السُّغْدِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي رَجُلٌ مِنَ السَّلَفِيَّةِ: مَا أَشْجَعَ صَاحِبَكُمْ يَا أَتَابَكُ! كَأَنَّ قَلْبَهُ قِطْعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ! قُلْتُ: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ؟! قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَوْلًا لَا يَتَجَرَّأُ أَنْ يَقُولَهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَا رَأْيٌ وَلَا رِوَايَةٌ، وَلَكِنْ طَاعَةٌ لِأُولِي الْأَمْرِ، وَالْمَهْدِيُّ مِنْ أُولِي الْأَمْرِ! قُلْتُ: فَهَلَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ؟! قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ؟! إِنَّهُ الْمَنْصُورُ!

قول کا ترجمہ:

اتابک بن جمشید سغدی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک سلفی مرد نے کہا: تمہارے دوست کتنے بہادر ہیں اے اتابک! جیسے کہ لوہے کی مانند اسکا مضبوط دل ہو! میں نے کہا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟! اس نے کہا: میں نے انہیں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جو ان کے علاوہ کسی کی کہنے کی جرأت نہیں ہوئی، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: اطاعت نہ رائے کی ہے اور نہ روایت کی، بلکہ اطاعت صاحبان امر کی ہے اور مہدی ان میں سے ایک ہیں! میں نے کہا: تم نے انکا انکار نہیں کیا؟! اس نے کہا: انہیں کون انکار کر سکتا ہے؟! وہ منصور ہیں!

۶ . أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدًا صَالِحًا يَقُولُ: لَا يَصْلُحُ بَالُ النَّاسِ حَتَّى يُعْرِضُوا عَنْ آرَائِهِمْ وَرِوَايَاتِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَخَلِيفَتِهِ فِيهِمْ، وَإِنَّ أَقْبَحَ مَا يَكُونُ أَنْ أَقُولَ لِأَحَدِكُمُ الْحَقَّ فَيَقُولَ: هَذَا خِلَافُ رَأْيِ زَيْدٍ أَوْ خِلَافُ رِوَايَةِ عَمْرٍو! ثُمَّ قَلَّبَ كَفَّيْهِ عَلَى مَا قَالَ وَقَالَ: هَذَا سَبِيلُ الرَّشَادِ، وَلَكِنْ مَنْ يَقْبَلُ هَذَا؟!

قول کا ترجمہ:

ہاشم بن عبید نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا عبد صالح (یعنی منصور) فرماتے ہیں: لوگوں کا حال اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اپنی رائے اور روایت سے منہ موڑ کر کتاب خدا اور اس کے خلیفہ کی طرف رجوع نہ کرلیں۔ اور یقینا سب سے بدتر بات یہ ہوتی ہے کہ میں تم میں سے کسی کو سچ کہ دوں اور پھر وہ کہے: یہ زید کی رائے کے خلاف ہے یا عمرو کی روایت کے خلاف ہے! پھر آنجناب نے اپنی بات کو روکا (یعنی اسے مایوسی اور ناامیدی سے خارج کیا) اور فرمایا: یہ ترقی کا راستہ ہے، لیکن اسے کون مانتا ہے؟!

۷ . أَخْبَرَنَا ذَاكِرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمَنْصُورِ فِي بَيْتِهِ، فَوَجَدْتُهُ يَضْحَكُ! فَقُلْتُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ! وَمَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابٍ فِي رِجَالِ الْحَدِيثِ، فَأَضْحَكَنِي! فُلَانٌ قَالَ: فُلَانٌ صَدُوقٌ، وَفُلَانٌ قَالَ: فُلَانٌ كَذَّابٌ! هَلْ يَدِينُ بِهَذَا إِلَّا قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ؟! ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّحْنِ وَقَالَ: مَا بَنَى اللَّهُ دِينَهُ عَلَى ظَنِّ بَعْضِكُمْ بِبَعْضٍ، وَإِنَّمَا بَنَاهُ عَلَى الْيَقِينِ، وَهُوَ كِتَابٌ أَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ وَخَلِيفَةٌ جَعَلَهُ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ تَمَسَّكَ بِهَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ فَإِنَّمَا تَمَسَّكَ بِحَبْلٍ مَتِينٍ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا وَتَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَإِنَّمَا تَمَسَّكَ بِحَبْلٍ كَحَبْلِ الْعَنْكَبُوتِ! قُلْتُ: إِنَّ أَهْلَ الْحَدِيثِ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ إِذَا صَحَّ إِسْنَادُهُ عِنْدَهُمْ فَهُوَ يَقِينٌ! قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْحَدِيثِ لَا يَعْقِلُونَ!

قول کا ترجمہ:

ذاکر ابن معروف نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں منصور کی خدمت میں انکے گھر پہنچا، تو میں نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا! میں نے کہا: اللہ آپ کے ہونٹوں کو ہمیشہ مسکراتا رکھے، آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ انہوں نے فرمایا: رجال حدیث کے متعلق میں ایک کتاب دیکھ رہا تھا پس مجھے ہنسی آگئی! کسی نے کہا کوئی صادق ہے تو کسی نے کہا کوئی جھوٹا ہے! کیا ان چیزوں پر وہی بھروسہ کرتے ہیں جو غور و فکر نہیں کرتے؟! پھر آپ صحن کی طرف بڑھے اور فرمایا: خدا نے اپنا دین تم میں سے بعض کے شکوک و شبہات پر نہیں بنایا، بلکہ اسنے اپنا دین صرف یقین پر قائم رکھا ہے، اور وہ یقین، وہ کتاب ہے جو اس نے آسمان سے نازل کی ہے اور وہ خلیفہ ہیں جنہیں اس نے زمین پر بھیجا ہے؛ پس جو بھی ان دو گراں قدر سے متمسک رہے گا گویا وہ ایک مضبوط رسی سے متمسک رہے گا اور جو ان کو چھوڑ کر ان جیسی حدیثوں سے متمسک رہے گا گویا اس نے مکڑی کے جالے کی طرح ایک کمزور رسی کو تھام لیا ہے! میں نے کہا: اہل حدیث کا خیال ہے کہ جب بھی کسی حدیث کی سند ان کے نزدیک صحیح ہو تو وہ حدیث انکے لئے یقین کا سبب بنتی ہے! فرمایا: اہل حدیث غور و فکر نہیں کرتے ہیں!

۸ . أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْعَالِمِ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ وَقَالَ: يَا أَبَا زَكَرِيَّا! مَنْ تَمَسَّكَ بِرِوَايَةٍ فَكَأَنَّمَا سَقَطَ مِنْ شَاهِقٍ، عَاشَ أَوْ هَلَكَ! فَتَغَيَّرَ لَوْنِي، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنِّي قَالَ: لَعَلَّكَ تَظُنُّ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعَطِّلَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟! لَا وَاللَّهِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ مُتِّعُوا بِهَا -يَعْنِي الرِّوَايَةَ- حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ، فَزَادُوا فِيهَا وَنَقَصُوا، وَخَلَطُوهَا بِالْكِذْبِ، وَبَدَّلُوهَا تَبْدِيلًا، حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَلْفَاظُهَا، وَانْقَلَبَتْ مَعَانِيهَا، وَاشْتَبَهَ حَقُّهَا وَبَاطِلُهَا وَنَاسِخُهَا وَمَنْسُوخُهَا وَمُحْكَمُهَا وَمُتَشَابِهُهَا، وَتَعَذَّرَ التَّمْيِيزُ بَيْنَهُمَا كَمَا يَتَعَذَّرُ بَيْنَ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ الْمَغْشُوشِ! فَتَرَى الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَتَشَبَّثُ بِرِوَايَةٍ يَحْسَبُهَا صَحِيحَةً لِيَكْفُرَ بِاللَّهِ وَيَصِفَهُ بِمَا لَا يَلِيقُ بِذَاتِهِ، وَتَرَى الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَتَشَبَّثُ بِرِوَايَةٍ يَحْسَبُهَا صَحِيحَةً لِيَتَحَاكَمَ إِلَى الطَّاغُوتِ وَيَتَّبِعَ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَتَرَى الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَتَشَبَّثُ بِرِوَايَةٍ يَحْسَبُهَا صَحِيحَةً لِيُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَيَسْفِكَ الدِّمَاءَ، وَتَرَى الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَتَشَبَّثُ بِرِوَايَةٍ يَحْسَبُهَا صَحِيحَةً لِيَرْفَعَ رِجَالًا وَيَضَعَ آخَرِينَ، وَتَرَى الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَتَشَبَّثُ بِرِوَايَةٍ يَحْسَبُهَا صَحِيحَةً لِيُحِلَّ حَرَامَ اللَّهِ وَيُحَرِّمَ حَلَالَهُ، وَهُمْ يَحْسَبُونَ فِي كُلِّ ذَلِكَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ وَالَّذِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ، فَيُصْبِحُونَ مِنَ الْأَخْسَرِينَ! فَأَرَدْتُ أَنْ أَصْرِفَهُمْ عَمَّا ضَرُّهُ أَكْثَرُ مِنْ نَفْعِهِ إِلَى مَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ، وَأُخْلِصَ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي أَكْمَلَ اللَّهُ لَهُمْ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَتَّبِعُونِي أَسْلُكْ بِهِمْ مَنَاهِجَ الرَّسُولِ وَأَهْدِهِمْ سُنَنَهُ بِالْحَقِّ، ثُمَّ لَا يَجِدُونِي كَاذِبًا وَلَا كَتُومًا!

قول کا ترجمہ:

احمد ابن عبد الرحمٰن طالقانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں عالم (یعنی منصور) کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے اپنا چہرہ میری طرف کیا اور فرمایا: اے ابا زکریا! جو کوئی روایات سے تمسک اختیار کرے وہ ایسا ہے جیسے کہ وہ بلندی سے پھینکا جائے اور اب چاہے زندہ بچے یا مر جائے! یہ سن کر میرے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا، جب انہوں نے میری یہ حالت دیکھی تو فرمایا: شاید تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی سنت کو چھوڑنا چاہ رہا ہوں! نہیں، خدا کی قسم ایسا نہیں ہے، لیکن لوگ روایات کے عادی ہو گئے ہیں اور یہاں تک کہ اس عادت کی مدت طولانی ہو گئی، اس پر انہوں نے اور مدت کا اضافہ کیا اور روایات کو کم کیا اور اس میں جھوٹ کی آمیزش کر اسے دگرگون کر دیا یہاں تک کہ اس کے الفاظ مختلف، معنی منقلب ہوگئے اور اسکے حق، باطل، ناسخ، منسوخ، محکم اور متشابہ سب اس طرح مشکوک ہو گئے کہ انہیں اب جدا کرنا اتنا مشکل ہو گیا ہے جتنا میٹھے پانی سے پانی اور مٹھاس کا ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہوتا ہے! تو آپ نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جو کسی روایت کو بہانہ بنا کر استعمال کرتا ہے حالانکہ وہ اسے خدا کے ساتھ کفر کرنے کے لیے صحیح سمجھتا ہے اور اسکی اس طرح توصیف کرتا ہے کہ جو اسکی ذات کے شایان شان نہیں ہے، اور آپ ان میں سے ایک شخص کو دیکھتے ہیں جو روایت کو بہانہ بناتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ طاغوت پر حکومت کرنا اور کسی سرکش ظالم کی پیروی کرنا درست ہے اور آپ ان میں سے ایک شخص کو دیکھتے ہیں جو کسی روایت کو بہانے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور وہ زمین پر فساد پھیلانا اور خون بہانا درست سمجھتا ہے اور آپ ان میں سے ایک شخص کو دیکھتے ہیں کہ وہ کسی روایت کو بہانے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور وہ بعض لوگوں کو بلند کرنے اور دوسروں کو نیچا دکھانا صحیح سمجھتا ہے، اور آپ ان میں سے ایک شخص کو دیکھتے ہیں جو کسی روایت کو بہانہ بنا کر استعمال کرتا ہے اور وہ خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرنا درست سمجھتا ہے، جب کہ ان تمام معاملات میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں اور ان کے علاوہ کوئی بھی کسی چیز پر قائم نہیں ہے، وہ سب سے زیادہ نقصان دہ کی تلاش کرتے ہیں! پس میں نے چاہا کہ ان کو نفع دینے سے زیادہ نقصان دہ چیز سے پھیر دوں جو ان کو فائدہ پہنچاتی ہے اور ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور ان کے لئے ان کے دین کو پاک کرنا چاہتا تھا جو اللہ نے ان کے لیے کامل کیا ہے اور اگر وہ میری پیروی کریں تو میں ان کی راہنمائی کروں گا۔ اور میں اس کے روایات سے رہنمائی حاصل کروں گا، پھر وہ مجھے نہ جھوٹا پائیں گے اور نہ چھپانے والا!

۹ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْمَنْصُورِ: مَا أَرَانِي إِلَّا نَاجِيًا وَمَا أَرَى فُلَانًا إِلَّا مِنَ الْهَالِكِينَ! قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مَغْرُورٌ! وَمَا أَدْرَاكَ بِهِ؟! قَالَ: لِأَنِّي آخُذُ بِالرِّوَايَةِ وَأَنَّ فُلَانًا يَأْخُذُ بِالرَّأْيِ! قَالَ: دَعْ رِوَايَتَكَ كَمَا وَدَعْتَ رَأْيَكَ! فَإِنَّهُمَا ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ، لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا أَشَدُّ ظُلْمَةً، وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ! فَبَكَى الرَّجُلُ لَمَّا سَمِعَ هَذَا حَتَّى ابْتَلَّتْ لِحْيَتُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَاذَا أَفْعَلُ إِذَنْ؟! قَالَ: أَتَعْرِفُ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا، قَالَ: فَاعْرِفْهُ وَاسْتَمْسِكْ بِمَا سَمِعْتَهُ مِنْهُ بِهَاتَيْنِ الْأُذُنَيْنِ -وَأَخَذَ بِأُذُنِهِ- أَوْ حَدَّثَكَ عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ حَيٌّ، فَإِنَّ الْحَيَّ يَكَادُ أَنْ لَا يُكْذَبَ عَلَيْهِ، وَلَوْ كُذِبَ عَلَيْهِ لَرَدَّهُ، وَهُوَ يُبَيِّنُ لِأَهْلِ زَمَانِهِ، الشَّاهِدِ مِنْهُمْ وَالْغَائِبِ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ يَرْجِعُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِ إِلَى خَلِيفَتِهِ فِيهِمْ، فَيَسْمَعُونَ مِنْهُ وَيَرْوُونَ عَنْهُ، وَلَا يَقِفُونَ عَلَى هَالِكٍ وَلَا يَنْقَلِبُونَ إِلَيْهِ وَلَا يَقُولُونَ: ﴿إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ[۳]، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَهُمْ مِثْلَ مَا جَعَلَ لِآبَائِهِمْ، كِتَابًا مُبِينًا وَخَلِيفَةً رَاشِدًا، وَأَمَرَهُمْ بِمِثْلِ مَا كَانُوا يُؤْمَرُونَ! فَمَنْ أَخَذَ عَنْ خَلِيفَةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَدْ أَخَذَ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ أَخَذَ عَنْ هَؤُلَاءِ الرُّوَاةِ وُكِلَ إِلَيْهِمْ، وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ!

قول کا ترجمہ:

عبداللہ بن محمد بلخی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے منصور سے کہا: میں اپنے آپ کو نجات یافتہ اور فلاں کو ہلاک ہونے والوں میں سے مانتا ہوں! آنجناب نے فرمایا: یہ مغرور انسان ہے! تمہیں کس نے اس سے باخبر کیا؟! انہوں نے فرمایا: کیونکہ میں دین روایت سے لیتا ہوں اور فلاں اپنی رائے سے دین لیتا ہے! آنجناب نے فرمایا: اپنی روایت کو چھوڑ دو جیسا کہ تم نے اپنی رائے کو چھوڑ دیا ہے؛ کیونکہ یہ دونوں وہ اندھیرے ہیں جن میں بعض، بعض پر سوار ہیں یہاں تک کہ تمہیں پتہ نہ چل سکے کہ کون زیادہ تاریک ہے، اور جس کو اللہ ہدایت نہ دے، اس کے لئے کوئی ہدایت نہیں! جیسے ہی اس شخص نے یہ سنا تو رونے لگا یہاں تک کہ اس کی داڑھی گیلی ہو گئی، پھر اس نے کہا: اب میں کیا کروں؟! آنجناب نے فرمایا: کیا تم زمین پر خدا کے خلیفہ کو پہچانتے ہو؟ اس مرد نے کہا: نہیں! آنجناب نے فرمایا: انہیں پہچانو اور اس چیز سے تمسک اختیار کرو جنہیں تم نے ان سے دونوں کانوں (اس کے کانوں کو پکڑا) سے سنا ہے یا اس سے تمسک اختیار کرو جو انکے ایک زندہ ساتھی نے تمہارے لئے جو بیان کیا ہے؛ کیونکہ زندہ شخص سے جھوٹ منسوب کرنا مشکل ہے کیونکہ اگر کوئی جھوٹ ان سے منسوب کیا جائے تو وہ اسے فورا رد کر دیں گے اور اسے اپنے زمانے کے لوگوں کو چاہے حاضر ہوں یا غائب بیان کریں گے، یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو خداحافظ کہ دیں گے، پس وہ لوگ جو انکے بعد آئیں انکے خلیفہ کی طرف رجوع کریں، پس انسے لوگ سنیں گے اور ان سے روایت نقل کریں گے اور جو اس دنیا سے چلے گئے ان پر توقف نہیں کریں گے اور انکی طرف نہیں لوٹینگے اور یہ نہیں کہیں گے: «ہم نے اپنے بزرگوں کو ایک دین پر پایا اور ہم انہیں کے نقش پر چلے»؛ اسی لئے خدا نے انکے لئے وہی جزا رکھی ہے جو اس نے انکے اجداد کے لئے رکھی ہے؛ روشن کتاب، ہدایت یافتہ خلیفہ اور ان سب نے انہیں وہی بتایا جسکے بتانے پر وہ مأمور تھے! پس جو بھی خدا کے خلیفہ اور اسکے پیغمبر سے دین اخذ کرے گویا اس نے خدا اور اسکے آخری نبی سے دین حاصل کیا ہے اور جس نے دین راویان سے حاصل کیا تو وہ اسی کے طرف لوٹا دئے جائیں گے اور کس طرح سے دور سے وہ (حق تک) پہنچ سکتے ہیں؟!

۱۰ . أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْزَوَارِيُّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي مَسْجِدٍ وَكَانَ مَعَنَا رِجَالٌ مِنَ السَّلَفِيَّةِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْدَثَ لَكُمْ ذِكْرًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السَّلَفَ، فَإِنَّ السَّلَفَ لَمْ يَتَّبِعُوا السَّلَفَ، وَلَكِنِ اتَّبَعُوا ذِكْرَهُمْ، وَإِنَّ مَنْ وَقَفَ عَلَى سَلَفٍ وَلَمْ يَتَّبِعْ مَا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ مِنْ ذِكْرٍ فَقَدْ قَطَعَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ، أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ! قَالَ رَجُلٌ مِنَ السَّلَفِيَّةِ: أَلَيْسَ كُلُّ مُحْدَثٍ بِدْعَةً؟! فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ وَقَالَ: الْبِدْعَةُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ فِي الدِّينِ وَالذِّكْرُ مَا أَحْدَثَ اللَّهُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ![۴] قَالَ الرَّجُلُ: وَمَا ذِكْرٌ مُحْدَثٌ؟! قَالَ: إِمَامٌ يُحْدِثُهُ اللَّهُ فِي كُلِّ قَرْنٍ يَهْدِي بِأَمْرِهِ لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَيُحِقَّ الْقَوْلَ عَلَى الْكَافِرِينَ! قَالَ الرَّجُلُ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، إِنْ هَذَا إِلَّا بِدْعَةٌ! قَالَ: وَيْحَكَ أَتَأْبَى إِلَّا أَنْ تُضَاهِئَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا؟! قَالُوا: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ![۵] وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ مُسْلِمًا يَقُولُ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ بِهِ يَا مَعْشَرَ السَّلَفِيَّةِ!

قول کا ترجمہ:

صالح بن محمد سبزواری نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہم عبد صالح کے ساتھ ایک مسجد میں تھے اور ہمارے ساتھ کچھ سلفی حضرات بھی تھے، پس آنجناب ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دہانی کرائی ہے؛ پس اسکی پیروی کرو اور سلف کی تبعیت نہ کرو؛ کیونکہ سلف نے سلف کی پیروی نہیں کی ہے بلکہ ان کے ذکر کی پیروی کی ہے اور بہر حال جو شخص سلف کی پیروی کرے اور اس ذکر کی پیروی نہ کرے جو خدا نے اس کے لئے تازہ کی ہے تو جس چیز کو قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اسے منقطع کر دیا ہے اور اس کے راستے سے گمراہ ہو گیا ہے؛ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دور سے پکارا جا رہا ہے! ایک شخص نے سلفی سے کہا: کیا ایسا نہیں ہے کہ جو کچھ نیا ہو وہ بدعت ہے؟! تو آنجناب اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بدعت وہ ہے جو لوگوں نے دین میں تجدید کی ہے اور ذکر وہ ہے جس کی تجدید خدا نے کی ہے؛ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی جس میں ارشاد ہوتا ہے: «ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت نہیں آئے گی مگر یہ کہ وہ اسے نہ سنیں گے اور اس کے ساتھ کھیلیں گے!» اس شخص نے کہا: نیا ذکر کیا ہے؟! آپ نے فرمایا: وہ امام جس کی تجدید خدا ہر صدی میں کرتا ہے جو اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں تاکہ ہر زندہ کو تنبیہ کریں اور کافروں پر بات سچی ثابت کریں! اس شخص نے کہا: ہم نے پہلی صدیوں میں یہ نہیں سنا، یہ بدعت کے سوا کچھ نہیں ہے! آنحضرت نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! کیا تم کافروں کی طرح بات کرنے سے کترانے کے بجائے تم صحیح بات کرنے سے کتراتے ہو؟! کہنے لگے کہ «ہم نے یہ بات پہلے کے مذہب میں نہیں سنی، یہ صرف من گھڑت بات ہے!» خدا کی قسم مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ ایسی بات ایک مسلمان کرے گا لیکن میں نے تمہیں کہتے ہوئے سنا ہے اے سلفی لوگ!

۱۱ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ الطَّبَرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: إِنَّ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّأْيَ إِنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ، وَإِنَّ الْمُحَدِّثِينَ يَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ، وَإِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ! قُلْتُ: وَمَا هُدَى اللَّهِ؟! قَالَ: إِمَامٌ يَهْدِي بِأَمْرِ اللَّهِ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ وَيَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ! قُلْتُ: لَا يَقْبَلُ النَّاسُ مِنْكَ هَذَا جُعِلْتُ فِدَاكَ، وَلَوْ قَبِلُوا مِنْكَ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ، وَلَكِنْ لَا يَفْعَلُونَ! قَالَ: دَعْهُمْ يَابْنَ حَبِيبٍ! فَإِنَّهُمْ سَوْفَ يَأْتِيهِمْ رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، فَيَعْرِضُهُمْ عَلَى السَّيْفِ حَتَّى يَقْبَلُوهُ! أَلَا إِنَّهُ لَا يُعْطِيهِمْ إِلَّا السَّيْفَ، وَلَا يَأْخُذُ مِنْهُمْ إِلَّا السَّيْفَ، وَالْمَوْتُ تَحْتَ ظِلِّ السَّيْفِ!

قول کا ترجمہ:

عبداللہ بن حبیب طبری نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا منصور فرماتے ہیں: اپنی رائے کی پیروی کرنے والے صرف وہی ہیں جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، اور یقیناً راویوں نے اسے کسی دور کی جگہ کے غیر موجودہ شخص سے منسوب کیا ہے اور یقیناً خدا کی ہدایت ہی سب سے بڑی ہدایت ہے! میں نے کہا: خدا کی ہدایت کیا ہے؟! فرمایا: وہ امام جو خدا کے حکم سے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان ان کے اختلافی مسائل کو حل کرتا ہے! میں نے کہا: آپ پر فدا ہو جاؤں! لوگ آپ سے یہ قبول نہیں کریں گے، جب کہ اگر وہ آپ سے قبول کر لیتے تو پھر بات ہی کیا تھی، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے! آپ نے فرمایا: اے حبیب کے بیٹے انہیں چھوڑ دو؛ کیونکہ عنقریب ان کے پاس ایک آدمی آئے گا جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، تو وہ انہیں تلوار کے حوالے کر دے گا یہاں تک کہ وہ اسے قبول نہ کر لیں! آگاہ رہو کہ وہ انہیں تلوار کے سوا کچھ نہیں دینگے اور ان سے سوائے تلوار کے کچھ نہیں لینگے، جبکہ موت تلوار کے سائے میں ہے!

۱۲ . أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَتْلَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: رَحِمَ اللَّهُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ! كَانُوا يَمْنَعُونَ مِنْ كِتَابَةِ الْحَدِيثِ، وَكَانَ أَحَدُهُمْ يَعْمِدُ إِلَى أَحَادِيثَ مَكْتُوبَةٍ فَيَأْخُذُهَا وَيَقْذِفُهَا فِي التَّنُّورِ، وَلَوْ كَانَ لِي أَمْرٌ لَسِرْتُ بِسِيرَتِهِمْ! قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ، هَلْ أَكْتُمُ هَذَا؟ قَالَ: لَا، بَلْ نَادِ بِهِ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ!

قول کا ترجمہ:

یونس بن عبداللہ ختلانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا منصور فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے اصحاب پر رحم فرمائے! انہوں نے احادیث لکھنے سے منع کیا اور ان میں سے ہر ایک لکھی ہوئی حدیث کی تلاش میں رہتے تھے، وہ انہیں پکڑ کر تنور میں پھینک دیتے تھے اور اگر میں کر سکوں تو میں بھی ان کے طریقے پر عمل کرونگا! میں نے کہا: میں آپ پر فدا ہو جاؤں، کیا میں اس بات کو (لوگوں سے) پوشیدہ رکھوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے لوگوں کے درمیان بیان کرو تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں!

↑[۱] . النساء/ ۵۹
↑[۲] . النساء/ ۵۹
↑[۳] . الزخرف/ ۲۳
↑[۴] . الانبیاء/ ۲
↑[۵] . ص/ ۷
ھم آہنگی
ان مطالب کو آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ دینی معلومات کو پھیلانے میں مدد ملے۔ نئی چیز سیکھنے کا شکر دوسروں کو وہی چیز سکھانے میں ہے۔
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]