جمعرات ۳۰ جون ۲۰۲۲ برابر ۳۰ ذو القعدہ ۱۴۴۳ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
قول
 

۱ . أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ الْهَاشِمِيَّ الْخُرَاسَانِيَّ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً[۱]، فَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ خَلِيفَةٍ اللَّهُ جَاعِلُهُ، وَلَوْ خَلَتْ لَسَاخَتْ بِأَهْلِهَا، وَمَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ هَذَا الْخَلِيفَةَ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ يَجْعَلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً مُنْذُ قَالَهُ، وَلَوْ قَالَ: «إِنِّي أَجْعَلُ» لَكَانَ مِنْهُ جَعْلٌ وَاحِدٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ، وَالْجَاعِلُ مَنْ يَسْتَمِرُّ مِنْهُ الْجَعْلُ، وَكُلُّ خَلِيفَةٍ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ مَهْدِيٌّ إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا لِيَضَعَهُ حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَهْتَدِ إِلَى مَهْدِيِّ زَمَانِهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا.

ترجمہ:

احمد ابن عبد الرحمٰن طالقانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور ہاشمی خراسانی سے میں نے خداوند متعال کی اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ جس میں وہ فرماتا ہے: «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں» پس جناب نے فرمایا: کسی بھی وقت زمین خدا کے مقرر کردہ خلیفہ سے خالی نہیں رہ سکتی، زمین اگر خدا کے خلیفہ سے خالی رہے گی تو زمین اپنے اہل کو اپنے اندر سمو لے گی جو بھی اپنے اس خلیفہ کو پہچانے بغیر مر جائے، گویا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔ پھر چند لمحے آپ نے سکوت اختیار کیا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے درمیان سے اٹھنے کا ارادہ کیا، آپ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: جب سے خدا نے اس آیت کو بیان فرمایا ہے تب سے اس نے مسلسل اس زمین پر اپنے خلیفہ کو بھیجا ہے اگر خدا یہ کہتا «میں بھیجونگا» ممکن تھا ایک مرتبہ بھیج دیتا اور بات تمام ہو جاتی، لیکن اس نے فرمایا: «بھیجنے والا ہوں» لہذا بھیجنے والا وہ ہے کہ جو مسلسل بھیجتا رہے گا اور ہر خلیفہ زمین پر خدا کے لئے، ان چیزوں کو کہ جسے خدا نے اسکے اندر خلق فرمایا ہے یا جو وہ اس سے ہدایت پایا ہے اسے وہاں تک پہنچائے گا کہ جہاں تک خدا نے اسے پہچانے کا ارادہ کیا ہے جو کوئی بھی اپنے زمانے کے مہدی کے لئے راہ ہموار نہ کرے، وہ ہر لحظہ گمراہ اور ان سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

۲ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: سَأَلَ الْمَنْصُورَ رَجُلٌ وَأَنَا حَاضِرٌ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، فَقَالَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ جَاعِلًا فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً مُنْذُ وَعَدَهُ، إِمَّا ظَاهِرًا مَشْهُورًا وَإِمَّا خَائِفًا مَغْمُورًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّهُمْ قَدْ جَعَلُوا فِي الْعِرَاقِ خَلِيفَةً وَلَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنَّهُ الْخَلِيفَةُ! قَالَ: كَذَبُوا أَعْدَاءُ اللَّهِ، مَا قَالَ اللَّهُ لَهُمْ: «إِنَّكُمْ جَاعِلُونَ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً»، وَلَكِنْ قَالَ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ، فَلَوْ جَعَلُوا فِيهَا خَلِيفَةً دُونَ الْخَلِيفَةِ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ فِيهَا لَكَانُوا بِذَلِكَ مُشْرِكِينَ، قَالَ الرَّجُلُ: وَمَنْ هَذَا الْخَلِيفَةُ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ فِيهَا؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ.

ترجمہ:

عبد اللہ ابن محمد بلخی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور سے ایک شخص نے خدا کی اس آیت کے متعلق سوال کیا «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں» جب کہ میں وہیں پر حاضر تھا، جناب نے جواب میں فرمایا: خدا نے جب سے وعدہ کیا ہے تب سے اس نے مسلسل زمین پر اپنا خلیفہ بھیجا ہے، اب چاہے وہ خلیفہ ظاہر اور مشہور رہا ہو یا چاہے گمنام خدا کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔ اس مرد نے کہا: انہوں نے عراق میں ایک خلیفہ کو مقرر کیا ہے اور وہ لوگ بھی اسے خلیفہ کے سوا کچھ اور نہیں مانتے ہیں[۲]! آپ نے فرمایا: دشمنان خدا جھوٹ بولتے ہیں! خدا نے ان سے یہ نہیں کہا ہے کہ تم زمین پر خلیفہ مقرر کرو گے، بلکہ اس نے فرمایا ہے: «میں خلیفہ بنانے والا ہوں» پس زمین پر اگر خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کے علاوہ اگر وہ لوگ خود خلیفہ بنائیں، وہ لوگ مشرک ہو جائیں گے۔ اس مرد نے کہا: وہ خلیفہ کہ جسے خدا نے مقرر فرمایا ہے وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: نسل فاطمی سے ایک مرد کہ جسکا نام مہدی ہے۔

۳ . أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُودَ الْفَيْض‌آبَادِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: ﴿سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا[۳]، وَعَدَ أَنْ يَجْعَلَ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، قُلْتُ: إِنَّهُمْ يُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ! قَالَ: إِنَّهُ فِيهَا وَإِنْ أَنْكَرَهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّهُمْ جَعَلُوا فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قُلْتُ: نَعَمْ، وَسَفَكُوا لَهُ الدِّمَاءَ، قَالَ: هُوَ خَلِيفَةُ الَّذِينَ ظَلَمُوا، وَخَلِيفَةُ اللَّهِ هُوَ الْمَهْدِيُّ.

ترجمہ:

علی ابن داوود فیض آبادی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ منصور فرماتے ہیں: «ہمارا خدا پاک و منزہ ہے، بے شک ہمارے خدا کا وعدہ عملی ہوا»، اس نے وعدہ کیا کہ زمین پر ایک خلیفہ مقرر کریگا، میں نے کہا: وہ لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ زمین پر خدا کی طرف سے کوئی خلیفہ ہو! آپ نے فرمایا: اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اگر چہ تمام اہل زمین اسکا انکار کریں، پھر آپ نے فرمایا: میں نے یہ خبر دے دی ہے کہ وہ لوگ اہل عراق میں سے ایک کو زمین پر خلیفہ مقرر کریں گے[۴]، میں نے کہا: جی ہاں! اس کے لئے انہوں نے خون تک بہائے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ انکا خلیفہ ہے کہ جس نے ظلم کیا ہے اور خدا کا خلیفہ صرف مہدی ہے۔

۴ . أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ الْمَلَائِكَةِ إِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُمْ: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ، فَقَالَ اللَّهُ لَهُمْ: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ، قَالَ: لَا يَكُونُ مَنْ يُفْسِدُ فِي الْأَرْضِ وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ خَلِيفَةً، وَلَكِنَّ الْخَلِيفَةَ مَنْ يَعْدِلُ، فَمَكَثَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الْبَغْدَادِيَّ يُفْسِدُ فِي الْأَرْضِ وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ.

ترجمہ:

عیسی ابن عبد الحمید جوزجانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: فرشتوں کی باتوں کے متعلق میں نے منصور سے دریافت کیا کہ جب خدا نے ان سے فرمایا: «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو اسے خلیفہ بنائے گا جو زمین پر فساد کرتے ہیں اور خون بہاتے ہیں؟» پس خداوند نے ان سے فرمایا: «میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ہو» منصور نے فرمایا: جو زمین پر فساد پھیلائے اور خون بہائے وہ خلیفہ نہیں ہے، بلکہ خلیفہ وہ ہے جو عدالت سے کام لے۔ پھر منصور تھوڑی دیر خاموش ہوئے اور پھر فرمایا: ابو بکر بغدادی چاہے جتنا زمین پر فساد کر لے یا خون بہا لے۔

۵ . أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهِرَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِالْخَلِيفَةِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَمْ يَجْعَلْ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِ، قَالَ: كَذَبُوا، فَمَنِ الْقَائِلُ لِدَاوُودَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى[۵]؟! قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: كَانَ ذَلِكَ فِي الْأُمَمِ السَّابِقَةِ، وَلَمْ يَجْعَلْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيفَةً كَآدَمَ وَدَاوُودَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ: كَذَبُوا، فَمَنِ الْقَائِلُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ[۶]؟! قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا أَرَادَ الَّذِينَ مَلَكُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، كَبَنِي أُمَيَّةَ وَبَنِي عَبَّاسٍ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ، قَالَ: كَذَبُوا، فَهَلْ مَلَكَ مِنْهُمْ إِلَّا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ؟! إِنَّ اللَّهَ وَعَدَ أَنْ يَسْتَخْلِفَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، فَمَنْ أَشْرَكَ فِي إِيمَانِهِ أَوْ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ فَلَيْسَ مِمَّنِ اسْتَخْلَفَهُ اللَّهُ وَإِنْ مَلَكَ وَتَسَمَّى بِخَلِيفَةٍ! قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يَسْتَخْلِفُهُمْ بِتَغَلُّبٍ أَوِ اخْتِيَارٍ مِنْ أَهْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ، قَالَ: كَذَبُوا، بَلْ يَسْتَخْلِفُهُمْ ﴿كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَمْثَالَ آدَمَ وَدَاوُودَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَمَا اسْتَخْلَفَهُمْ بِتَغَلُّبٍ وَلَا اخْتِيَارٍ مِنْ أَهْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ، وَلَكِنِ اسْتَخْلَفَهُمْ بِوَحْيٍ مِنْهُ، كَمَا أَوْحَى: ﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ، ﴿وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ[۷]، فَأَخَذَنِي الْبُكَاءُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟! قُلْتُ: عِلْمُكَ بِالْكِتَابِ وَجَهْلُهُمْ بِكَ! قَالَ: لَا يُبْكِيَنَّكَ ذَلِكَ، فَمَنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُعَلِّمَهُ الْكِتَابَ لَأَعْلَمَهُ بِي، وَإِنْ كَانَ فِي مَغَارَةٍ!

ترجمہ:

محمد ابن عبد الرحمٰن ہروی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور سے میں نے خدا کے کلام کے متعلق سوال کیا وہ فرماتا ہے: «میں زمین میں ایک خلیفہ بھیجنے والا ہوں» پس میں نے کہا: وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت سے مراد تنہا خلیفہ آدم علیہ السلام تھے اور انکے بعد کسی اور کو خدا نے اپنا خلیفہ زمین پر نہیں بنایا ہے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، پس کس نے داوود علیہ السلام سے فرمایا ہے: «میں نے آپ کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں کے درمیان حق بیانی کرو اور اپنے ھوائے نفس کی پیروی نہ کرو؟!» میں نے کہا: وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خلیفہ گذشتہ امتوں کے لئے تھے اور اس امت میں آدم اور داوود علیہم السلام جیسا کوئی خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، پس کس نے اس امت سے فرمایا ہے: «تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلے کو جانشین بنایا»؟! میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ مسلمان ہیں کہ جنہیں حکومت ہاتھ لگی، مثلا بنی امیہ، بنی عباس اور وہ لوگ کہ جو انکے بعد آئے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، کیا ان میں سے صرف جابر اور سرکش افراد کے ہاتھ حکومت آئی؟! جبکہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ لوگ کہ جو ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیتے ہیں وہ انہیں خلیفہ بنائے گا، پس وہ لوگ جو مشرک ہوئے یا کوئی برے کام انجام دئے ہوں یہ لوگ ان میں سے نہیں ہیں کہ جنہیں خدا نے خلیفہ بنانے کا وعدہ کیا ہے، اگر چہ کہ وہ حکومت حاصل کر لیں یا خلیفہ کہلائے جائیں۔ میں نے کہا: وہ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں طاقت پر یا اہل حل و عقد[۸] کہ ذریعے سے خلیفہ بنایا گیا ہے، آپ نے فرمایا: جھوٹ بولتے ہیں، اور انہیں خلیفہ بھی قبول کیا جاتا تھا «بالکل اسی طرح جس طرح سے انکے پہلے والوں کو خلیفہ کہا جاتا تھا» آدم اور داوود علیہم السلام جیسوں کو طاقت کے زور پر یا اہل حل عقد کی بنا پر خلیفہ نہیں چنا گیا، بلکہ یہ لوگ خدا کی طرف سے نازل کردہ وحی کے ذریعہ سے خلیفہ بنائے گئے ہیں؛ جیسا کہ ارشاد خداوند ہے: «اے داوود! ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے»، «اور ان کے پیغمبروں نے انسے کہا خدا نے طالوت کو تم پر حاکم بنایا ہے»۔ اس وقت میرے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں رلایا؟! میں نے کہا: آپ کا قرآن کے متعلق علم اور انکے آپ کے متعلق جہل نے!آپ نے فرمایا: اس وجہ سے گریہ نہ کرو؛ کیونکہ جسے چاہے خدا کتاب کا علم عطا کر دے، اس نے مجھے اس کا علم عطا کیا ہے اگر چہ کہ اسکے اندر غار ہو!

۶ . أَخْبَرَنَا ذَاكِرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ: سَمِعَ الْمَنْصُورُ قَارِئًا يَقْرَأُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى، فَرَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ: اسْمَعُوا! اسْمَعُوا! إِنَّمَا خَلِيفَةُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَنْ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا يَتَّبِعُ الْهَوَى، فَلَا يَغُرَّنَّكُمُ الَّذِينَ يَتَكَلَّفُونَ الْخِلَافَةَ وَهُمْ ظَالِمُونَ! ثُمَّ هَمَسَ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ لَا تَعْدِمُ خَلِيفَةً مِثْلَ دَاوُودَ، فَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ، وَقَدِ اسْتَخْلَفَ مِنْ قَبْلِهِمْ دَاوُودَ!

ترجمہ:

ذاکر ابن معروف نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور نے سنا کہ ایک قاری خدا کے اس کلام کی قرأت کرتا ہے: «اے داوود! ہم نے آپ کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے، پس لوگوں کے درمیان حق بیانی کریں اور ھوائے نفس کی پیروی نہ کریں»، پس انہوں نے اپنی آواز کو بلند کیا اور فرمایا: سنو! سنو! زمین پر خدا کا خلیفہ صرف وہی ہے جو لوگوں کے درمیان حق فیصلہ کرے اور اپنے نفس کی پیروی نہ کرے، پس وہ جو خلافت کا دعوی کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں، وہ تمہیں دھوکہ نہ دیں! پھر انہوں نے اپنی آواز کو نیچے کیا اور فرمایا: کبھی بھی یہ امت داوود کی طرح بنا خلیفہ کے نہیں رہے گی؛ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے: «جیسا کہ انسے پہلے والے کو بھی خلیفہ بنایا ہے» اور ان سے پہلے داوود کو خلیفہ بنایا ہے۔

۷ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقَيُّومِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْمَنْصُورِ: إِنَّ لِي جَارًا عَلَّامَةً قَدْ حَفِظَ أَلْفَ حَدِيثٍ بِإِسْنَادِهِ، وَلَا تَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا وَيُخْبِرُكَ بِهِ، وَيَعْلَمُ الْفِقْهَ وَاللُّغَةَ وَالتَّفْسِيرَ! فَقَالَ: أَيَعْلَمُ أَنَّ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ مِنَ الْجَاهِلِينَ!

ترجمہ:

عبد السلام ابن عبد القیوم نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے کہا: میرا پڑوسی بڑا پڑھا لکھا ہے اسے ایک ہزار حدیثیں اسکی سند کے ساتھ حفظ ہیں، آپ اس سے قرآن کے متعلق کچھ بھی سوال کر لیں وہ اسکا جواب دیگا وہ فقہ، لغت اور علم تفسیر سے بھی آشنا ہے! آپ نے فرمایا: کیا اسے یہ پتہ ہے کہ زمین پر خدا کا خلیفہ موجود ہے؟! میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پس وہ جاہلوں میں سے ہے!

۸ . أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ عُبَيْدٍ الْخُجَنْدِيُّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْمَنْصُورِ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَقَالَ: يَا هَاشِمُ! أَلَا تَرَى إِلَى هَؤُلَاءِ الضَّالِّينَ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ اللَّهَ لَمْ يُبَيِّنِ الْخِلَافَةَ فِي الْقُرْآنِ؟! أَتَرَاهُمْ يَجْهَلُونَ أَمْ يَتَجَاهَلُونَ؟! قُلْتُ: لَا أَدْرِي جُعِلْتُ فِدَاكَ، لَعَلَّهُمْ يَجْهَلُونَ، قَالَ: وَيْلَهُمْ، كَيْفَ يَجْهَلُونَ؟! وَقَدْ يَقْرَأُونَ فِي الْقُرْآنِ قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ، أَيُرِيدُونَ قَوْلًا أَبْيَنَ مِنْ هَذَا؟! أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُ قَدْ أَخْلَفَ وَعْدَهُ فَلَمْ يَسْتَخْلِفْ فِيهِمْ كَمَا اسْتَخْلَفَ فِي الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ؟! قُلْتُ: وَمَنِ اسْتَخْلَفَ فِي الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ؟ قَالَ: دَاوُودَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَلَا يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي الْقُرْآنِ إِذْ يَقُولُ: ﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ؟! فَاسْتَخْلَفَهُ وَأَمْثَالَهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ، قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ، إِنَّهُمْ أَضَلُّ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّ اللَّهَ قَدِ اسْتَخْلَفَ فِيهِمْ كُلَّ مَنْ بَايَعُوهُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخِلَافَةِ! قَالَ: وَيْلَهُمْ، وَهَلْ بَايَعُوا بَعْدَ الْحَسَنِ إِلَّا كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ؟! إِنَّمَا وَعَدَ اللَّهُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَعِدَهُمْ خَيْرًا ثُمَّ يُعْطِيَهُمْ شَرًّا، بَلْ يُنْجِزُ وَعْدَهُ وَيَسْتَخْلِفُ فِي كُلِّ قَرْنٍ رَجُلًا مِثْلَ دَاوُودَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ أَكْثَرُهُمْ إِيمَانًا وَعَمَلًا لِلصَّالِحَاتِ، فَهَلْ يَعْرِفُونَهُ لِيَخْتَارُوهُ؟! كَلَّا، بَلِ اللَّهُ يَعْرِفُهُ وَيَخْتَارُهُ، ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ[۹].

ترجمہ:

ہاشم ابن عبید خجندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں منصور کے پاس بیٹھا تھا، پس انہوں نے میری طرف رخ کیا اور فرمایا: اے ہاشم! وہ لوگ کہ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا نے قرآن میں خلافت کا تذکرہ نہیں کیا ہے کیا تم ان گمراہوں پر توجہ نہیں کرتے! تمہاری نظر میں واقعا یہ لوگ نہیں جانتے ہیں یا یہ اصلا جاننا ہی نہیں چاہتے ہیں؟! میں نے کہا: آ پ پر قربان ہو جاؤں، واقعا میں نہیں جانتا، شاید یہ لوگ نہ جانتے ہوں، آپ نے فرمایا: افسوس ہے ان لوگوں پر، کیسے یہ لوگ نہیں جانتے ہیں؟! جبکہ خدا کے کلام کو وہ لوگ قرآن میں پڑھتے ہیں کہ اس نے فرمایا ہے: «تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا»، کیا وہ لوگ اس سے اور بھی زیادہ واضح بیان کے انتظار میں ہیں؟! یا یہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے وعدہ خلافی کی ہے اور کسی کو بھی لوگوں کے درمیان خلیفہ بنا کر نہیں بھیجا ہے بالکل اسی طرح جیسے کسی کے ہونے سے پہلے ہی اس نے کسی کو خلیفہ بنا کر بھیج دیا ہو؟! میں نے پوچھا: اس نے کس کے درمیان انسے پہلے ہی خلیفہ بنا کر بھیج دیا؟ فرمایا: داوود علیہ السلام کیا وہ انہیں قرآن میں نہیں پاتے ہیں، خدا فرماتا ہے: «اے داوود! میں نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ چنا ہے»؟! پس پیغمبروں اور صدیقوں میں سے انہیں اور انکے جیسوں کو خلیفہ چنا، میں نے پوچھا: آپ پر فدا ہو جاؤں، وہ لوگ تو اس سے بھی زیادہ گمراہ ہیں! وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ جو بھی رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بعد کسی کے ہاتھ پر بہ عنوان خلیفہ بیعت کر لے وہی خدا کا خلیفہ ہے! انہوں نے فرمایا: افسوس ہے ان پر! حسن[۱۰] کے بعد بھی، ہر جابر اور سرکش کے سوا سب کی بیعت کی ہے؟! جبکہ خدا نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے خلیفہ بنائے گا جو ایمان لیکر آئے ہیں اور عمل صالح انجام دیتے ہیں۔ خدا انمیں سے نہیں ہے جو اچھائی کا وعدہ کرے اور انہیں برائی سے سامنا کرا دے، وہ وعدے کا وفا کرنے والا ہے ہر زمانے میں وہ داوود جیسوں کو خلیفہ مقرر کرتا ہے اور داوود وہ ہیں جو سب سے زیادہ با ایمان اور سب سے زیادہ نیک اعمال انجام دیتے ہیں، کیا وہ انہیں جانتے ہیں جو انکا انتخاب کریں؟! نہیں، بالکل بھی نہیں، خدا انہیں جانتا ہے اور وہی انہیں منتخب کرتا ہے، «جبکہ اکثر یہ نہیں جانتے ہیں»۔

۹ . أَخْبَرَنَا وَلِيدُ بْنُ مَحْمُودٍ السَّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: سَمِعَ الْمَنْصُورُ قَارِئًا يَقْرَأُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ[۱۱]، فَقَالَ: يَقْرَأُونَ الْقُرْآنَ وَلَا يَتَدَبَّرُونَهُ، كَأَنَّهُمْ بَبَّغَاوَاتٌ نَاطِقَةٌ! أَنَّى لَهُمْ أَنْ يُقِيمُوا الدِّينَ كُلَّهُ وَلَا يَتَفَرَّقُوا فِيهِ إِلَّا إِذَا كَانَ لَهُمْ إِمَامٌ وَاحِدٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُعَلِّمُهُمْ كُلَّهُ وَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ؟! قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ أَنَّ الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ يَكْفِيَانِهِمْ لِذَلِكَ، وَلَا حَاجَةَ لَهُمْ إِلَى مِثْلِ هَذَا الْإِمَامِ، قَالَ: وَيْلَهُمْ، أَلَيْسَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ وَالسُّنَّةُ مُنْذُ أَرْبَعَةِ عَشَرَ قَرْنًا يَخُوضُونَ فِيهِمَا لَيْلًا وَنَهَارًا؟! فَمَا لَهُمْ لَا يُقِيمُونَ الدِّينَ كُلَّهُ وَهُمْ فِيهِ مُتَفَرِّقُونَ؟! فَهَلْ يَفْقِدُونَ إِلَّا إِمَامًا وَاحِدًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُعَلِّمُهُمُ الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ كُلَّهُمَا وَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ؟! وَيْلَهُمْ، كَيْفَ يَقُولُونَ أَنَّ الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ كَافِيَانِ لِإِقَامَةِ الدِّينِ؟! وَمَا الدِّينُ إِلَّا الْقُرْآنُ وَالسُّنَّةُ، وَكَيْفَ يَقُولُونَ أَنَّهُمَا كَافِيَانِ لِرَفْعِ الْخِلَافِ؟! وَمَا الْخِلَافُ إِلَّا فِيهِمَا! ﴿أَفَلَا يَعْقِلُونَ[۱۲]؟! ﴿بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُونَ[۱۳]، وَمَا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا: ﴿إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ[۱۴]! كَلَّا، بَلْ لَا يَزَالُونَ يُضَيِّعُونَ الدِّينَ وَيَتَفَرَّقُونَ فِيهِ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عَلَى إِمَامٍ وَاحِدٍ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُعَلِّمُهُمْ وَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ، كَمَا اجْتَمَعُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ فِيهِمْ.

ترجمہ:

ولید بن محمود السجستانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور نے ایک قاری کو خدا کے ان کلمات کو پڑھتے ہوئے سنا: «اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا»، پھر انہوں نے فرمایا: وہ قرآن پڑھتے ہیں، لیکن اس میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں، یہ ایسے ہی ہیں جیسے بات کرنے والے طوطے! کہاں وہ تمام مذاہب کو بنا تفرقہ ڈالے قائم کر سکتے ہیں، مگر یہ کہ خدا کی طرف سے ایک امام ہو جو ان کو تمام مذاہب کی تعلیم دے اور ان کے درمیان جن باتوں میں اختلاف کرتے ہیں اسے حل کریں؟! میں نے کہا: میں آپ پر فدا ہو جاؤں، وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے قرآن و سنت ہی کافی ہیں اور انہیں ایسے امام کی ضرورت نہیں۔ فرمایا: ان پر افسوس ہے، کیا چودہ سو سال سے ان کے درمیان قرآن و سنت موجود نہیں ہیں اور کیا وہ دن رات ان میں ڈوبے نہیں رہتے ہیں؟! پس تمام دین کو قائم کیوں نہیں کر پا رہے ہیں اور کیوں اس میں اختلاف کا شکار ہو گئے ہیں؟! کیا انہیں خدا کی طرف سے ایک امام کے علاوہ کوئی اور نہیں ملتا جو انہیں تمام قرآن و سنت کی تعلیم دے سکے اور ان کے درمیان جن باتوں میں اختلاف ہے اسے حل کر سکے؟! ان پر افسوس ہے، یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے لیے دین قائم کرنے کے لیے قرآن و سنت ہی کافی ہیں؟! جب کہ مذہب قرآن و سنت کے سوا کچھ نہیں اور یہ کیسے کہتے ہیں کہ دونوں ہی جھگڑے کے حل کے لیے کافی ہیں؟! جبکہ جھگڑے انہیں دو کے ہی متعلق ہے! «تو کیا وہ عقل استعمال نہیں کرتے»؟! «وہ وہی کہتے ہیں جو ان کے آباؤ اجداد نے کہا تھا» اور ان کی دلیل اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ کہتے ہیں: «ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہمیں ان کی پیروی سے ہی ہدایت ملی»! ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ ہمیشہ دین کو تباہ کرتے رہیں گے اور اس بارے میں تقسیم ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ خدا کی طرف سے ایک امام پر وہ سب جمع ہو جائیں تاکہ وہ ان کو تعلیم دیں اور ان کے درمیان فیصلہ کریں جیسا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم جب انکے درمیان تھے تب لوگ ان پر جمع ہوئے۔

۱۰ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ الطَّبَرِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ حَبْلِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ[۱۵]، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَؤُلَاءُ؟ قُلْتُ: يَقُولُونَ إِنَّهُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ: الْقُرْآنُ كِتَابُ اللَّهِ، وَكَانَ حَبْلُهُ النَّبِيَّ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ لَمْ يَتَفَرَّقُوا مَا دَامَ النَّبِيُّ فِيهِمْ، فَلَمَّا مَاتَ تَفَرَّقُوا وَالْقُرْآنُ فِيهِمْ؟! فَكَانَ حَبْلُ اللَّهِ النَّبِيَّ مَا دَامَ فِيهِمْ، فَلَمَّا مَاتَ كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُبَيِّنُ لَهُمْ سُنَّتَهُ كَامِلَةً، وَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ حَبْلَ اللَّهِ خَلِيفَتُهُ فِي الْأَرْضِ، فَإِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ لَنْ تَتَفَرَّقُوا، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا لَنْ تَجْتَمِعُوا! أَلَا وَاللَّهِ قَدْ بَيَّنْتُ لَكُمْ بَيَانًا شَافِيًا، فَلَا تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ!

ترجمہ:

عبداللہ بن حبیب طبری نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے خدا کی رسی کے بارے میں پوچھا، خداوند متعال کا ارشاد گرامی ہے: «خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور گروہوں میں نہ بٹو»، تو انہوں نے فرمایا: یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن ہے، تو انہوں نے فرمایا: قرآن خدا کی کتاب ہے اور خدا کی رسی نبی ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب پیغمبر ان میں تھے، وہ لوگ گروہوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے، چنانچہ جب ان کی وفات ہوئی تو وہ گروہوں میں بٹ گئے جبکہ قرآن ان کے درمیان تھا؟! پس خدا کی رسی اس وقت تک نبی تھے جب تک وہ ان کے درمیان تھے، چنانچہ جب ان کی وفات ہوئی تو وہ ان کے خاندان کے آدمی تھے جنہوں نے ان کو سنت رسول پوری طرح سکھائی اور قیامت تک ہمیشہ اسی طرح رہے گی۔ پھر فرمایا: بے شک اللہ کی رسی زمین پر اس کا خلیفہ ہے، اس لیے اگر تم اس سے متمسک رہو گے تو کبھی تقسیم نہیں ہو گے، اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو کبھی متحد نہیں ہو گے! آگاہ رہو کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے تمہیں شفاء بخش باتیں سمجھا دی ہیں، لہٰذا قیامت کے دن یہ نہ کہنا کہ ہم اس سے بے خبر تھے!

۱۱ . أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الْبَارِئِ الْقَنْدَهَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ[۱۶]، فَقَالَ: الْحَبْلُ مِنَ اللَّهِ كِتَابُهُ وَالْحَبْلُ مِنَ النَّاسِ خَلِيفَتُهُ، قُلْتُ: أَمَّا كِتَابُهُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَلَكِنْ مَنْ خَلِيفَتُهُ؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ يُبَيِّنُ لِلنَّاسِ كِتَابَهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»؟! قُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ لَقَوْلٌ قَوِيٌّ، وَلَكِنَّ الْمُفَسِّرِينَ لَا يَقُولُونَ بِهَذَا! قَالَ: أَفَتَعْبُدُ الْمُفَسِّرِينَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِلَيْهِمْ تُحْشَرُ فَيُعَذِّبُونَكَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَيُغْنُونَ عَنْكَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَقُلْ بِالْحَقِّ وَدَعْ أَقْوَالَ الْمُفَسِّرِينَ!

ترجمہ:

ابو بکر بن عبد الباری قندھاری نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا، وہ فرماتا ہے: «وہ جہاں بھی پائے جائیں گے ذلت ان پر چھا جائے گی، سوائے اللہ کی طرف سے اور لوگوں کی طرف سے ایک ریسمان کے ساتھ»، تو آپ نے فرمایا: خدا کی طرف سے ایک ریسمان، اس کی کتاب اور لوگوں کی طرف سے ایک ریسمان، اسکا خلیفہ ہے۔ میں نے کہا: میں اس کی کتاب کو جانتا ہوں، لیکن اس کا خلیفہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: وہ اہل بیت میں سے ایک شخص ہے جو قیامت تک لوگوں کے سامنے اسکی کتاب کی وضاحت کرتا ہے، کیا تم نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا: «میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم ان سے متمسک رہو گے تو تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ جنمیں سے ہر ایک دوسرے پر فضیلت رکھتی ہے: کتاب خدا وہ ریسمان ہے جو آسمان سے زمین تلک کھینچی گئی ہے اور میرے اہل بیت اور دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے»[۱۷]؟! میں نے کہا: خدا کی قسم یہ ایک قوی قول ہے، لیکن مفسرین اسے نہیں مانتے! فرمایا: کیا تم مفسرین کی عبادت کرتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں،پھر آپ نے فرمایا: تو تم ان کے ساتھ ہو گئے ہو اور وہ تمہیں عذاب دیں گے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا وہ تمہارے بدلے خدا کا عذاب اٹھائیں گے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے فرمایا: تو حق پر ایمان لاؤ اور مفسرین کے اقوال کو چھوڑ دو!

۱۲ . أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهِرَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ[۱۸]، فَقَالَ: مَا أَبْيَنَ ذَلِكَ! لَا يَخْلُو قَوْمٌ مِمَّنْ يَهْدِيهِمْ بِأَمْرِ اللَّهِ، قُلْتُ: وَمَا الْقَوْمُ؟ قَالَ: الْقَرْنُ -يَعْنِي أَهْلَ زَمَانٍ وَاحِدٍ.

ترجمہ:

محمّد ابن عبد الرحمٰن ھروی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور سے میں نے خدا کی اس آیت کے متعلق سوال کیا: «آپ تو محض تنبیہ کرنے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک رہنما ہوا کرتا ہے»، آپ نے فرمایا: کتنی واضح آیت ہے! کوئی بھی قوم امر خدا کی طرف ہدایت کرنے والوں سے خالی نہیں رہ سکتی، میں نے سوال کیا: قوم سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: زمانہ۔ یعنی ایک زمانے کے لوگ۔

۱۳ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ[۱۹]، فَقَالَ: هُمْ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَالْعَدْلِ، ثُمَّ قَالَ: لَا يَزَالُ فِي الْخَلْقِ رَجُلٌ يَهْدِي بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُ، إِنْ يُطِيعُوهُ يُفْلِحُوا، وَإِنْ يَعْصُوهُ يَهْلِكُوا! وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَبَيِّنٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ!

ترجمہ:

عبد اللہ بن محمّد بلخی نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں: منصور سے میں نے خدا کی اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ جسمیں ارشاد ہوتا ہے: «اور جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک جماعت ایسی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق عدل کرتی ہے»، پس آپ نے فرمایا: وہ لوگ ہدایت و عدالت کے امام ہیں، پھر آپ نے فرمایا: ہمیشہ لوگوں کے درمیان ایک ایسا مرد ضرور ہوتا ہے جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اور انکے درمیان عدالت سے کام لیتا ہے، اگر لوگ اسکی اطاعت کریں، کامیاب ہو جائیں گے اور اگر لوگ اسکی نافرمانی کریں گے ہلاک ہو جائیں گے! خدا کی قسم یہ بات واضح اور روشن ہے جبکہ اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں!

۱۴ . أَخْبَرَنَا جُبَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُجَنْدِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ[۲۰]، فَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ صَادِقٍ مَفْرُوضٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَكُونُوا مَعَهُ، لَا يَتَقَدَّمُوا عَلَيْهِ وَلَا يَتَأَخَّرُوا، فَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ مَعَ صَادِقِ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ عَاصِيًا لِرَبِّهِ، وَهَذَا مَقْصُودُ أُولِي الْأَلْبَابِ إِذْ يَقُولُونَ: رَبَّنَا ﴿وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ[۲۱]!

ترجمہ:

جبیر بن عطاء خجندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس کلام کے بارے میں پوچھا: «اے ایمان والو! خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ»، پھر آپ نے فرمایا: زمین کبھی بھی ان سچوں سے کہ جنکی اطاعت واجب ہے خالی نہیں رہے گی، ان سے آگے نہ بڑھو اور انہیں پیچھے نہ چھوڑ دو، پس جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اپنے وقت کے سچوں کے ساتھ نہ ہو تو وہ اپنے رب کی نافرمانی میں مر گیا، اور عقلمندوں کا یہی ارادہ ہے، وہ کہتے ہیں: پروردگارا! «ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے»!

۱۵ . أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدَّامْغَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ أُولِي الْأَلْبَابِ: ﴿وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ، فَقَالَ: إِنَّ الزَّمَانَ لَا يَخْلُو مِنْ إِمَامِ بِرٍّ مَنْ تُوُفِّيَ مَعَهُ فَقَدْ أَفْلَحَ، فَلَازِمُوا إِمَامَ الْبِرِّ فِي زَمَانِكُمْ تُفْلِحُوا! قُلْتُ: وَمَنْ إِمَامُ الْبِرِّ فِي زَمَانِنَا؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ، قُلْتُ: كَيْفَ نُلَازِمُهُ وَلَا نَعْرِفُهُ؟! قَالَ: إِذَا أَحَسَّ مِنْكُمُ الْمُلَازَمَةَ عَرَّفَكُمْ نَفْسَهُ، كَمَا غَابَ عَنْكُمْ إِذَا أَحَسَّ مِنْكُمُ الْمُفَارَقَةَ!

ترجمہ:

علی بن اسماعیل دمغنی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے ان عقلمندوں کے قول کے بارے میں پوچھا کہ جو کہتے ہیں: «اور ہمیں صالحین کے ساتھ موت دے»، تو انہوں نے کہا: کوئی بھی زمانہ ایسے نیک امام سے خالی نہیں ہے کہ جنکے ساتھ کوئی مرے تو کامیاب ہو جائے، تو اپنے وقت کے نیک امام کے ساتھی بن جاؤ تاکہ کامیاب ہو جاؤ! میں نے کہا: ہمارے زمانے میں نیک امام کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: محمّد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے خاندان کا ایک آدمی جسے مہدی کہتے ہیں، میں نے کہا: جب ہم انہیں نہیں جانتے تو ہم ان کے ساتھی کیسے ہو سکتے ہیں؟! آپ نے فرمایا: جب بھی وہ تم میں بندگی محسوس کرے گا تو تم سے اپنا تعارف کرائے گا، جس طرح جب اس نے تم میں فرق محسوس کیا تو تم سے چھپ گیا۔

۱۶ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ الشَّكُورِ بْنُ زُلْمَيَ الْوَرْدَكِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا[۲۲]، فَقَالَ: فَاسْأَلْ خَبِيرًا بِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فِي النَّاسِ رَجُلًا خَبِيرًا بِاللَّهِ كُتِبَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَسْأَلُوهُ لِيُخْبِرَهُمْ عَنِ اللَّهِ، فَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ وَلَمْ يَعْرِفِ الرَّجُلَ فَقَدْ مَاتَ فِي جَهْلٍ وَضَلَالٍ، قُلْتُ: أَنَّى لَهُمْ أَنْ يَعْرِفُوهُ؟! قَالَ: لَوْ تَمَسَّكُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَمَنْ عَرَفُوهُ مِنْ خُلَفَائِهِ فِي الْأَرْضِ لَمْ يَخْفَ عَلَيْهِمْ، لَكِنَّهُمْ أَعْرَضُوا، فَـ﴿طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۖ وَأُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ[۲۳].

ترجمہ:

عبد الشکور ابن زلمی وردکی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: منصور سے میں نے خدا کے اس کلام کے بارے میں پوچھا، اس نے فرمایا: «جو اس سے آگاہ ہیں ان سے پوچھو»، پھر انہوں نے فرمایا: (یعنی) اس سے آگاہ افراد سے دریافت کرو، پھر فرمایا: لوگوں میں ہمیشہ خدا سے آشنا افراد موجود ہیں، لوگوں پر واجب ہے لوگ اس سے سوال کریں تاکہ وہ خدا سے آگاہ ہو سکیں، جو انہیں پہچانے بغیر مر جائے، وہ جاہلیت اور گمراہی کی موت مرا ہے، میں نے کہا: انکو پہچاننا کیسے ممکن ہے؟! آپ نے فرمایا: کتاب خدا اور اسکے خلیفہ کو جو پہچانتے ہیں اور جو ان سے تمسک اختیار کر چکے ہیں انسے یہ پوشیدہ نہیں رہتے ہیں، لیکن جو ان سے روگردانی کر چکے ہیں، «خدا نے انکے دل، کان اور انکی آنکھوں پر مہر لگا دیا ہے اور وہ غافلین میں سے ہیں»۔

۱۷ . أَخْبَرَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ شَيْئًا لَا يَسَعُ النَّاسَ الْقِيَامُ بِهِ، وَقَدْ أَنْزَلَ فِيهِ: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ[۲۴]، فَلَا يَخْلُو زَمَانٌ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الذِّكْرِ يَسْأَلُهُ النَّاسُ عَمَّا لَا يَعْلَمُونَ فَيُجِيبُهُمْ بِالصَّوَابِ، وَلَئِنْ قُلْتَ لِهَؤُلَاءِ الْجُهَّالِ: اعْرِفُوا هَذَا الرَّجُلَ وَاسْأَلُوهُ لَيَقُولُنَّ: «إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْتَدِعُونَ»! قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ أَنَّ الْعُلَمَاءَ كُلَّهُمْ أَهْلُ الذِّكْرِ، فَقَالَ: أَكُلُّهُمْ يُصِيبُونَ فِي الْجَوَابِ إِذَا سُئِلُوا؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: لَا يَأْمُرُ اللَّهُ بِسُؤَالِ قَوْمٍ قَدْ لَا يُصِيبُونَ فِي الْجَوَابِ!

ترجمہ:

ابو ابراہیم سمرقندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے کتاب میں وہ چیزیں نازل نہیں کی ہیں جس کو لوگ انجام دینے پر قادر نہ ہوں، اور اس میں اللہ نے نازل فرمایا: «اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو»، کوئی بھی زمانہ اہل ذکر سے خالی نہیں ہے، لوگ ان سے وہ باتیں پوچھتے ہیں جو وہ نہیں جانتے ہیں اور وہ اسکا صحیح جواب دیتے ہیں اور اگر تم ان جاہلوں سے کہو کہ اس آدمی کو پہچانو اور اس سے پوچھو تو وہ کہیں گے کہ تم تو اہل بدعت کے سوا کچھ نہیں ہو! میں نے کہا: میں آپ پر فدا ہو جاؤں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ تمام علماء اہل ذکر ہیں، تو آپ نے فرمایا: کیا سب کے سب پوچھنے پر صحیح جواب دیتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: خدا اس گروہ سے پوچھنے کا حکم نہیں دیتا جو صحیح جواب نہ دے سکے۔

۱۸ . أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْزَوَارِيُّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي مَسْجِدٍ وَكَانَ مَعَنَا رِجَالٌ مِنَ السَّلَفِيَّةِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْدَثَ لَكُمْ ذِكْرًا فَاتَّبِعُوهُ، وَلَا تَتَّبِعُوا السَّلَفَ، فَإِنَّ السَّلَفَ لَمْ يَتَّبِعُوا السَّلَفَ، وَلَكِنِ اتَّبَعُوا ذِكْرَهُمْ، وَإِنَّ مَنْ وَقَفَ عَلَى سَلَفٍ وَلَمْ يَتَّبِعْ مَا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ مِنْ ذِكْرٍ فَقَدْ قَطَعَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ، ﴿أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ[۲۵]! قَالَ رَجُلٌ مِنَ السَّلَفِيَّةِ: أَلَيْسَ كُلُّ مُحْدَثٍ بِدْعَةً؟! فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ وَقَالَ: الْبِدْعَةُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ فِي الدِّينِ، وَالذِّكْرُ مَا أَحْدَثَ اللَّهُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ[۲۶]، قَالَ الرَّجُلُ: وَمَا ذِكْرٌ مُحْدَثٌ؟! قَالَ: إِمَامٌ يُحْدِثُهُ اللَّهُ فِي كُلِّ قَرْنٍ يَهْدِي بِأَمْرِهِ، لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَيُحِقَّ الْقَوْلَ عَلَى الْكَافِرِينَ، قَالَ الرَّجُلُ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، إِنْ هَذَا إِلَّا بِدْعَةٌ! قَالَ: وَيْحَكَ، أَتَأْبَى إِلَّا أَنْ تُضَاهِئَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا؟! قَالُوا: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ[۲۷]! وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ مُسْلِمًا يَقُولُ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ بِهِ يَا مَعْشَرَ السَّلَفِيَّةِ!

ترجمہ:

صالح بن محمّد سبزواری نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہم عبد صالح (یعنی منصور) کے ساتھ ایک مسجد میں تھے اور ہمارے ساتھ سلفیت کے لوگ بھی تھے، تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک بات یاد دلائی ہے، پس اسکی پیروی کرو اور سلفیت کی پیروی نہ کرو؛ کیونکہ سلف نے سلف کی پیروی نہیں کی ہے، بلکہ انہوں نے ان کے ذکر کی پیروی کی ہے اور بہر حال جو شخص سلف پر توقف کرتا ہے اور اس ذکر کی پیروی نہیں کرتا جو خدا نے اسے یاد دلایا ہے اور جس چیز کو خدا نے کبھی نظر انداز نہ کرنے کا حکم دیا ہے اگر اسے نظر انداز کر لے تو وہ گمراہ ہو چکا ہے، «وہ ایسے ہیں جیسے انہیں دور سے پکارا جاتا ہو»! ایک سلفی آدمی نے کہا: کیا ایسا نہیں ہے کہ جو کچھ نیا ہے وہ بدعت ہے؟! تو آنجناب اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بدعت وہ چیز ہے جسے لوگوں نے دین میں تازہ وارد کیا ہے اور ذکر وہ ہے جس کی تجدید خدا نے کی ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی جس میں کہا گیا ہے: «ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی تازہ نصیحت آتی ہے یہ لوگ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں»۔ اس آدمی نے کہا: نیا ذکر کیا ہے؟! اس نے کہا: وہ امام جسے خدا ہر صدی میں بھیجتا ہے جو اس کے حکم پر راہنمائی کرتا ہے، تاکہ ہر زندہ کو ڈرایا جائے اور کافروں کو کلمہ کی ہدایت کرے۔ اس شخص نے کہا: ہم نے ابتدائی صدیوں میں یہ نہیں سنا، یہ بدعت کے سوا کچھ بھی نہیں! اس نے کہا: تم پر افسوس ہے! جو کافر ہوئے کیا تم انکے علاوہ بات نہیں کرنا چاہتے؟! انہوں نے فرمایا: «یہ بات ہم نے پہلے کے دین میں نہیں سنی، یہ محض من گھڑت بات ہے»۔ خدا کی قسم میں نے یہ گمان بھی نہیں کیا تھا کہ مسلمان اس بات کو کہے، جب میں نے سنا سلفی گروہ کو یہ کہتے ہوئے!

۱۹ . أَخْبَرَنَا ذَاكِرُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَعَلِيُّ بْنُ دَاوُودَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: كُنَّا جَمَاعَةً عِنْدَ الْمَنْصُورِ وَهُوَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ وَيَقُولُ بِهَمْسٍ: مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ! مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ! مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ! ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْنَا وَقَالَ: اكْتُبُوا! فَأَخَذْنَا نَكْتُبُ، فَقَالَ: مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا: «مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ خَلِيفَةٍ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ»، وَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُ جَعَلَ فِي الْأُمَمِ مِنْ قَبْلِهَا، وَمَا كَانَ لِيُبَدِّلَ سُنَّتَهُ إِلَّا إِذَا أَخْبَرَ عَنْ تَبْدِيلٍ، وَقَدْ أَخْبَرَ عَنْ خَتْمِ النُّبُوَّةِ، وَلَمْ يُخْبِرْ عَنْ خَتْمِ الْخِلَافَةِ، بَلْ قَالَ فِي الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ: ﴿لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ، فَقَدْ بَقِيَتْ سُنَّتُهُ فِي اسْتِخْلَافِ رِجَالٍ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَابِتَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا ذَكَّرْتُ بِهَا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَسُوهَا يُطَالِبُونَنِي بِالْبَيِّنَةِ، وَمَا الْبَيِّنَةُ إِلَّا عَلَيْهِمْ؛ لِأَنَّهُمْ يَدَّعُونَ تَبْدِيلَ سُنَّةٍ يُقِرُّونَ بِثُبُوتِهَا فِي الْأُمَمِ السَّابِقَةِ، وَأَنَا أُنْكِرُهُ، وَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَلَيْسَتْ عَلَى الْمُنْكِرِ! ثُمَّ إِنِّي قَدْ جِئْتُهُمْ بِبَيِّنَةٍ، وَهِيَ مَا أَتْلُو عَلَيْهِمْ مِنَ الْقُرْآنِ، فَيُحَاجُّونَنِي بِفِعْلِ آبَائِهِمْ! يَقُولُونَ: «أَنْتَ أَفْقَهُ أَمِ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ؟!»، وَهُمْ يَرْوُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَلَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ»، وَيَقُولُونَ: «هَذِهِ بِدْعَةٌ»، وَمَا الْبِدْعَةُ إِلَّا مَا أَحْدَثَ آبَاؤُهُمْ فِي السَّقِيفَةِ، إِذْ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ كَمَا نَسَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ، فَقَالُوا: «مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ»، ثُمَّ بَايَعُوا أَبَا بَكْرٍ وَهُمْ يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِمُبَايَعَتِهِ، فَقَالَ عُمَرُ لَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ: «كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ فَلْتَةً وَقَى اللَّهُ شَرَّهَا، فَمَنْ عَادَ إِلَى مِثْلِهَا فَلَا بَيْعَةَ لَهُ»، فَعَادَ إِلَى مِثْلِهَا كُلُّ عَائِدٍ فَبَايَعُوهُ وَقَالُوا: «هَكَذَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ»! فَاتَّبَعُوا عُمَرَ فِيمَا أَخْطَأَ وَلَمْ يَتَّبِعُوهُ فِيمَا أَصَابَ! فَإِذَا ذَكَّرْتُهُمْ بِهَذَا لِيَتُوبُوا وَيُصْلِحُوا تَأْخُذُهُمُ الْحَمِيَّةُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ، يَقُولُونَ: «يَا وَيْلَتَى! أَتُخَطِّئُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ؟!» وَهُمْ يَعْلَمُونَ أَنَّهُمَا لَمْ يَكُونَا إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا نَبِيَّيْنِ مِنْ بَعْدِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا كَانَا رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ أَصَابَا فِي شَيْءٍ وَأَخْطَئَا فِي شَيْءٍ، وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَتَّبِعَهُمَا فِيمَا أَخْطَئَا فِيهِ، وَقَدْ خَالَفَهُمَا الصَّحَابَةُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ، وَأَفْتَى الْفُقَهَاءُ بِخِلَافِ مَا أَفْتَيَا بِهِ فِي مَسَائِلَ كَثِيرَةٍ، فَلَمْ يُنْكِرْ هَؤُلَاءِ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يَقُولُوا: «يَا وَيْلَتَى! خَطَّأُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ»! حَتَّى إِذَا جَمَعْتُ لَهُمْ مَا فَرَّقُوهَا عَلَيْهِمْ وَجِئْتُهُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً كَبُرَتْ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا: «هَذَا دِينٌ جَدِيدٌ»! وَمَا هُوَ بِدِينٍ جَدِيدٍ، بَلْ هُوَ الدِّينُ الْأَوَّلُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدُوا بِالْجَدِيدِ مَا يَرْوُونَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ فِيهِمْ رِجَالًا يُجَدِّدُونَ لَهُمْ دِينَهُمْ، فَقَدْ جَدَّدْتُ لَهُمْ دِينَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا انْدَرَسَ، وَلَا أَمْلِكُ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَمَا أَنَا عَلَيْهِمْ بِحَفِيظٍ!

ترجمہ:

ذاکر ابن معروف، علی ابن داود، عبد اللہ ابن حبیب اور بھی دیگر افراد نے ہمیں خبر دی: وہ فرماتے ہیں: ہم سب منصور کے پاس تھے جب وہ مضطرب ہو کر زمین کو چھو رہے تھے اور بڑے ہی آہستہ سے کہ رہے تھے: جس طرح سے خدا کو پہچاننے کا حق تھا انہوں نے اس طرح سے خدا کو نہیں جانا! جس طرح سے خدا کو پہچاننے کا حق تھا انہوں نے اس طرح سے خدا کو نہیں جانا! جس طرح سے خدا کو پہچاننے کا حق تھا انہوں نے اس طرح سے خدا کو نہیں جانا! پھر انہوں نے اپنے سر کو ہماری طرف اٹھایا اور فرمایا: لکھو! پس ہم لوگوں نے بھی لکھنا شروع کیا، آپ نے فرمایا: جس طرح سے خدا کو پہچاننے کا حق تھا انہوں نے اس طرح سے خدا کو نہیں جانا! جب وہ کہتے ہیں کہ خدا نے اس امت میں کسی کو خلیفہ نہیں چنا، جب کہ وہ واقف ہیں کہ اس نے پہلے کی امتوں میں بھی خلیفہ بھیجا ہے اور وہ اپنی سنت کو ہرگز تبدیل نہیں کرتا ہے، مگر یہ کہ وہ خود اس تبدیلی کی خبر دے جب کہ اس نے ختم نبوت کی خبر تو دی ہے مگر اس نے ختم خلافت کی کوئی خبر نہیں دی ہے، بلکہ اس نے ان لوگوں کے لئے کہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں انکے لئے اس نے فرمایا: «انہیں حتما زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا، جیسا کہ ان سے پہلے والوں کو خلیفہ منتخب فرمایا ہے»، پس پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بعد اہل ایمان اور نیک اعمال انجام دینے والوں کو خلیفہ بنانے کی اسکی سنت تا قیامت اپنی قوتوں کے ساتھ باقی رہے گی، لیکن ان لوگوں کو کہ جنہوں نے اسے فراموش کر دیا ہے انکو ہم یاد کرائیں گے، وہ ہم سے دلیل مانگتے ہیں، جبکہ دلیل انہیں دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ سنت کی تبدیلی کا دعوی کرتے ہیں کہ جبکہ وہ یہ قبول کرتے ہیں کہ پہلے کی امت اسے قبول کرتی تھی اور یہ اسکے تغییر کے قائل ہیں، وہ جانتے ہیں کہ دلیل مدعی پر لازم ہے، منکر پر نہیں! بہ ہر حال میں انکے لئے دلیلیں لیکر آیا ہوں اور وہ دلیلیں قرآن کی آیتیں ہیں کہ جنہیں میں انکے لئے پڑھونگا، لیکن وہ لوگ میرے جواب میں اپنے اجداد کے کاموں پر دلیل پیش کرتے ہیں! وہ کہتے ہیں: «تم زیادہ سمجھدار ہو یا تابعین اور صحابہ زیادہ سمجھدار تھے»؟! جبکہ وہ خود رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے ایک روایت نقل کرتے ہیں: «بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں»[۲۸] اور کہتے ہیں: «یہ بدعت ہے»، جبکہ بدعت وہ چیز تھی جسے انکے بزرگوں نے سقیفہ میں انجام دیا[۲۹]، جب وہ اس چیز کا کچھ حصّہ بھول گۓ جو انھیں یاد دلایا گیا تھا، جیسا کہ انسے پہلے والے لوگ بھول گۓ تھے[۳۰]، اور کہا: «ہم میں سے ایک امیر ہو اور تم میں سے ایک امیر»[۳۱]، اور پھر ابو بکر کے ہاتھوں بیعت کی، جب کہ وہ سب خوب واقف تھے کہ خدا نے انہیں، انکی بیعت کا امر نہیں فرمایا ہے، جب زمانہ بیت گیا تب عمر نے کہا: «ابو بکر سے بیعت ایک جلدی کا اور نا پسندیدہ کام تھا»[۳۲] کہ جسکے شر سے خدا نے محفوظ رکھا، پس اب ہر کوئی جو انکے جیسے امور کی تکرار کرے انکے لئے کوئی بیعت نہیں ہے»[۳۳]، لیکن ہر تکرار کرنے والے نے انکی طرح تکرار کی اور لوگوں نے بھی انکی بیعت کی اور کہا: «ابو بکر سے بیعت بھی بالکل اسی طرح تھی»! پس ان لوگوں نے عمر کی اس غلطی میں اسکی پیروی کی اور در اصل جس کام کو کرنے کے لئے کہا اسمیں اسکی پیروی نہیں کی! پس میں یہ سب باتیں جیسے ہی انہیں بتاتا ہوں وہ توبہ اور اصلاح کی جگہ وہ خود کو تعصب کے حوالے کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں: «ہائے افسوس! کیا تم یہ کہ رہے ہو کہ عمر اور ابو بکر نے غلطی کی ہے؟!»، جبکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ دونوں نہ تو خدا تھے اور نہ ہی پیغمبر، بلکہ یہ دو صالح افراد تھے کہ جو کبھی صحیح عمل انجام دیتے تھے اور کبھی عمل میں غلطی کے شکار ہو جایا کرتے تھے، اور کسی مومن پر یہ ہرگز لازم نہیں ہے کہ وہ انکی غلطیوں میں انکی پیروی کرے؛ کیونکہ صحابہ نے بہت سارے امور میں انکی مخالفت کی ہے، فقہا نے بہت سارے مسائل میں انکے خلاف فتویٰ دیا ہے اور ان لوگوں نے بھی انکے لئے یہ عیب نہیں مانا اور یہ نہیں کہا: «ہائے افسوس! ابو بکر و عمر کو خاطی شمار کر لیا»! ان باتوں کو جب میں نے انہیں تفصیل سے بتایا تو یہ باتیں ان پر گراں گزریں اور کہا: «یہ نیا دین ہے»! جب کہ یہ کوئی نیا دین نہیں ہے، بلکہ یہ وہی پہلا دین ہے، مگر یہ کہ نئے سے انکی مراد ایسی چیز ہو کہ جسکے متعلق رسول صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے روایت نقل ہوئی ہے کہ خدا انکے درمیان ایک ایسا انسان مبعوث کرے گا کہ جو انکے دین کو انپر تازہ کرے گا[۳۴]؛ پس میں نے بھی انکے اس دھوندھلے دین کو ان پر تازہ کیا ہے خدا کے مقابل انکے لئے میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور میں انکا نگہبان بھی نہیں ہوں۔

۲۰ . أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ رَجُلٍ عَادِلٍ مِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلنَّاسِ إِمَامًا، وَهَذَا عَهْدٌ عَهِدَهُ اللَّهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذِ ابْتَلَاهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ: ﴿قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ[۳۵]، فَمَاذَا يُنْكِرُ هَؤُلَاءِ الْجُهَّالُ الضُّلَّالُ الْمَفْتُونُونَ؟! أَيُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ أَكْثَرُ الْمُسْلِمِينَ قَدْ ضَلُّوا؟! ﴿وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ[۳۶]، وَهُمْ يَرْوُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: «لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ»[۳۷]! فَمَاذَا يُنْكِرُونَ بَعْدَ قَوْلِ اللَّهِ وَقَوْلِ رَسُولِهِ؟! أَيُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ أَكْثَرُ الصَّحَابَةِ قَدْ أَخْطَأَوُا؟! وَقَدْ أَخْطَأَ أَكْثَرُهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ، إِذْ يُصْعِدُونَ وَلَا يَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوهُمْ فِي أُخْرَاهُمْ فَأَثَابَهُمْ غَمًّا بِغَمٍّ وَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ[۳۸]، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ، إِذْ أَعْجَبَتْهُمْ كَثْرَتُهُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْهُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، وَهُمْ يَرْوُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي فَيُنَحَّوْنَ عَنِ الْحَوْضِ فَلَأَقُولَنَّ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى»[۳۹]، فَمَاذَا يُنْكِرُونَ بَعْدَ قَوْلِ اللَّهِ وَقَوْلِ رَسُولِهِ؟! أَمِ اتَّخَذُوا الصَّحَابَةَ وَالتَّابِعِينَ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، كَمَا اتَّخَذَ الْيَهُودُ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ؟! ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ[۴۰]!

ترجمہ:

عیسیٰ ابن عبد الحمید جوزجانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ منصور فرماتے ہیں: کبھی بھی زمین عادل مرد سے کہ جو نسل ابراہیم علیہ السلام سے ہوگا اور جسے خدا نے لوگوں کا امام بنا کر بھیجا ہوگا خالی نہیں رہے گی اور یہ ایسا وعدہ ہے کہ جسے خدا نے ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا ہے، جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، «ارشاد ہوا: میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، وہ کہتے ہیں: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا»، پس یہ منحرف اور دیوانے جاہل لوگ کس چیز کا انکار کرتے ہیں؟! اکثر مسلمان گمراہ ہو چکے ہیں کیا وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں؟ «جبکہ ان سے پہلے ان کے اکثر گذشتگان گمراہ ہو چکے ہیں» اور وہ لوگ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول نے ان سے فرمایا: «تم لوگ قدم بہ قدم اپنے بزرگوں کی راہ پر چلوگے»! پس اب وہ خدا اور اسکے پیغمبر کے اقوال کے باوجود کس چیز کا انکار کر رہے ہیں؟! اکثر صحابہ نے خطا کی ہے کیا وہ اس چیز کا انکار کرتے ہیں؟! جبکہ ان میں سے اکثر نے احد کے ہی دن غلطی کر دی تھی، جب وہ پہاڑوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور احد کی طرف دیکھ تک نہیں رہے تھے جبکہ انکے پیچھے سے پیغمبر انہیں آواز دے رہے تھے، اللہ نے انہیں غم کی پاداش میں غم دیا[۴۱] اور فرمایا: «دونوں فرقوں کے مقابلے کے روز تم میں سے جو لوگ پیٹھ پھیر گئے تھے بلا شبہ ان کی اپنی بعض کرتوتوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا» اور حنین کے دن جب تمہاری کثرت نے تمہیں غرور میں مبتلا کر دیا تھا مگر وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے[۴۲] اور وہ خود رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: «قیامت کے دن جب میرے اصحاب کا گروہ میرے پاس آئے گا، انہیں حوض کے اطراف میں بھیج دیا جائے گا، پھر میں کہونگا: پروردگار! میرے اصحاب! پھر خدا ان سے فرمائے گا: آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا کارنامہ انجام دیا ہے! یہ لوگ اپنے ماضی کی طرف لوٹ گئے تھے»! پس خدا اور اسکے پیغمبر کے اقوال کے بعد بھی تم کس چیز کا انکار کر رہے ہو؟! خدائے حقیقی کے علاوہ کیا انہوں نے اصحاب اور تابعین کو اپنا خدا بنا لیا ہے، جیسا کہ یہودیوں نے اپنے عالموں اور راہبوں کو بنایا ہے[۴۳]؟! «جبکہ انہیں صرف خدائے واحد کی پرستش کا حکم ہوا ہے، اسکے سوا کوئی خدا نہیں ہے، کسی کو اسکا شریک قرار دیا جائے وہ اس بات سے منزہ ہے»!

۲۱ . أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَتْلَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ[۴۴]، فَقَالَ: شَهَادَةُ اللَّهِ كِتَابُهُ، وَإِنَّ بَيْنَ الرَّسُولِ وَأُمَّتِهِ شَهِيدَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، وَهُوَ خَلِيفَةُ اللَّهِ فِيهِمْ بَعْدَ الرَّسُولِ، وَلَا تَعْدِمُهُمَا أُمَّتُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، قُلْتُ: جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، فَقَدْ أَظْهَرْتَ لِي مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا يُخْفُونَهُ! قَالَ: لَا يُخْفُونَهُ، وَلَكِنْ لَا يَتَدَبَّرُونَهُ، أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا! فَأَخَذَنِي الْبُكَاءُ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟! قُلْتُ: آسَفُ عَلَى النَّاسِ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَسْمَعُوا قَوْلَكَ، وَإِنَّهُ الْحِكْمَةُ وَفَصْلُ الْخِطَابِ، وَلَوْ سَمِعُوهُ لَاهْتَدَوْا، فَقَالَ: لَا تَأْسَفْ عَلَيْهِمْ، ﴿وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ[۴۵]!

ترجمہ:

یونس بن عبداللہ ختلانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس کلام کے متعلق سوال کیا، اسکا فرمان ہے: «اور کافر کہتے ہیں: کہ آپ رسول نہیں ہیں، کہدیجئے: میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں»، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی گواہی اس کی کتاب ہے اور یقیناً پیغمبر اور ان کی امت کے درمیان دو گواہ موجود ہوتے ہیں: جن میں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے وہ جن کے پاس کتاب کا علم ہے اور وہی انکے درمیان پیغمبر کے بعد خدا کے خلیفہ ہیں اور انکی امت ان دونوں سے کبھی خالی نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ قیامت آجائے گی ، میں نےکہا: خدا مجھے آپ پر قربان کر دے؛ کیونکہ خدا کی کتاب میں سے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں آپ نے مجھ پر آشکار کر دیا! انہوں نے فرمایا: وہ اسے چھپاتے نہیں ہیں ، بلکہ وہ اس میں غور نہیں کرتے ہیں، یا انکے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں[۴۶]! اس وقت میں رونے لگا ، تو انہوں نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟! میں نے کہا: مجھے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے؛کیونکہ انہوں نے آپ کی بات نہیں سنی ہے ، جبکہ یہ حکمت اور فصل الخطاب ہے اور اگر وہ ان باتوں کو سن لیں تو ہدایت پا جائیں گے، آپ نے فرمایا: ان پر افسوس نہ کرو؛ «اور اگر اللہ ان میں بھلائی کا مادہ دیکھ لیتا تو انہیں سننے کی توفیق دیتا اور اگر انہیں سنوا دیتا تو وہ بے رخی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے»!

۲۲ . أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْقَاسِمِ وَوَلِيدُ بْنُ مَحْمُودٍ وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: كُنَّا جَمَاعَةً عِنْدَ الْمَنْصُورِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا وَقَالَ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ شَهِيدَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، وَلَا يَكْفِيهِمْ أَحَدُهُمَا دُونَ الْآخَرِ، وَهَذَا قَوْلُ اللَّهِ: ﴿قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَيَّنْتُ؟! فَدَاخَلَنَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ لَمَّا قَالَ هَذَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا وَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ، لِيَكُونَا شَهِيدَيْنِ بَيْنَ الرَّسُولِ وَأُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَةِ الرَّسُولِ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهَذَا قَوْلُهُ: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ نَظْرَةً أُخْرَى فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ وَفَّيْتُ؟! فَأَخَذْنَا نَرْتَعِدُ مِنْ هَيْبَتِهِ لَمَّا قَالَ هَذَا كَأَنَّهُ لَيْسَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا!

ترجمہ:

حسن بن قاسم، ولید بن محمود، صالح بن محمد اور دوسرے لوگوں نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہم کچھ لوگ منصور کے پاس تھے، تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: بے شک اللہ کے لیے لوگوں پر دو گواہ ہیں: ایک کتاب خدا اور دوسرے وہ جنکے پاس کتاب کا علم ہے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک انہیں دوسرے سے بے نیاز نہیں کرتا اور یہ خدا کا ہی قول ہے اس نے فرمایا: «کہدیجئے: میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں»، پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: خدایا! کیا میں نے سمجھا دیا؟! خوفِ الٰہی کے بعد ہمارے پاس کوئی ایسی چیز وارد ہوئی کہ خدا ہی جانتا ہے کہ جب انہوں نے یہ کہا ، تو پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک زمین خدا کی کتاب سے اور ان سے جنکے پاس کتاب کا علم ہے ، خالی نہیں رہے گی ، جب تک کہ نبی اور ان کی امت کے درمیان قیامت تک کے لئے دو گواہ ہوں اور جنکے پاس کتاب کا علم ہے وہ پیغمبر کی عترت اور اہل بیت میں سے ہیں اور یہ انہیں کا کلام ہے ، آپ نے یہ فرمایا: «میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک خدا کی کتاب اور دوسرے میرے اہل بیت، اگر تم نے ان سے تمسک اختیار کیا تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض پر مجھ سے آملیں گے»، پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: خدایا! کیا میں نے پوری ادائیگی کی؟! جب انہوں نے یہ فرمایا ان کی ہیبت سے ہم کانپنے لگے، گویا وہ اس دنیا میں نہیں تھے!

۲۳ . أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ[۴۷]، فَقَالَ: مَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَيَخْلُفُهُ فِي كُلِّ قَرْنٍ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهِ، وَيَتْلُوهُ يَخْلُفُهُ، أَلَا تَرَى قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ۝ وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا[۴۸] أَيْ جَاءَ بَعْدَهَا؟! فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْيُؤْمِنْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلْيَتَّبِعْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلْيَكُنْ مَعَ الشَّاهِدِ مِنْ أَهْلِهِ، كَمَا قَالَ الْحَوَارِيُّونَ: ﴿رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ[۴۹]!

ترجمہ:

احمد بن عبدالرحمٰن طالقانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا، کہ اسکا ارشاد گرامی ہے: «بھلا وہ شخص افترا کر سکتا ہے جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہو» تو انہوں نے فرمایا: جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے وہ محمّد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ہیں اور انکے بعد ہر زمانے میں انکے اہل میں سے ایک واضح دلیل آتی رہی ہے، کیا تم نے خدا وند متعال کے اس کلام کو نہیں سنا ہے، اسکا فرمان ہے: «قسم ہے سورج اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آتا ہے» یعنی اس کے بعد آتا ہے؟! پس جو شخص آگ سے چھٹکارا پانا اور جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ خدا کی نازل کردہ چیزوں پر ایمان لائے اور محمّد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی پیروی کرے اور ان کی قوم میں سے ایک گواہ کے ساتھ رہے جیسا کہ حواریون نے کہا: خدایا! «ہم اس پر ایمان لائے جو تونے نازل کیا اور تیرے پیغمبر کی پیروی کی، لہٰذا تو ہمیں گواہوں کے ساتھ محشور فرما»۔

۲۴ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَخْتِيَارَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ[۵۰]، فَقَالَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ رَجُلٍ يَتَّبِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ شَيْءٍ، وَهُوَ الدَّاعِي إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ:

عبد الحمید بن بختیار سمرقندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں پوچھا، کہ اسکا ارشاد ہے: «کہدیجئے: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار، پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں»، آپ نے فرمایا: زمین اس سے خالی نہیں ہے جو ہر چیز میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی پیروی کرے، اور وہی ہے جو رسول صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بعد بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہے۔

۲۵ . أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشِّيرَازِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ[۵۱]، فَقَالَ: لَا يَزَالُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا رَجُلٌ طَاعَتُهُ مُفْتَرَضَةٌ عَلَيْهِمْ كَطَاعَةِ اللَّهِ وَالرَّسُولِ، مَنْ أَطَاعَهُ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَالرَّسُولَ، وَمَنْ عَصَاهُ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَالرَّسُولَ، وَهُوَ مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ وَالرَّسُولُ، وَلَيْسَ مَنْ وَلَّاهُ النَّاسُ بِأَهْوَائِهِمْ، قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ أَنَّ كُلَّ مَنْ وَلِيَ أَمْرَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ مِنْ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ، قَالَ: صَدَقُوا! قُلْتُ: كَيْفَ صَدَقُوا وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ؟! قَالَ: كُلُّ مَنْ وَلِيَ أَمْرَهُمْ دُونَ الَّذِي وَلَّاهُ اللَّهُ وَالرَّسُولُ فَلَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، بَلْ هُوَ مِنَ الْفَاسِقِينَ، وَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِطَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَمْ يَأْمُرْ بِطَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ مِنَ الْفَاسِقِينَ! ﴿أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ۚ لَا يَسْتَوُونَ[۵۲]! ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّمَا أُولُوا الْأَمْرِ مَالِكُوهُ، وَهُمُ الَّذِينَ وَلَّاهُمُ اللَّهُ وَالرَّسُولُ، وَأَمَّا مَنْ يَقُومُ بِهِ مِنْ دُونِهِمْ فَهُوَ غَاصِبُهُ، وَلَيْسَ الْغَاصِبُ مِنَ الْمَالِكِينَ، ﴿لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ[۵۳]! قُلْتُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَقَدْ زَوَّدْتَنِي بِحِكْمَتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ لَمْ أَسْمَعْ بِهِمَا قَطُّ أَبَدًا! قَالَ: ﴿ذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِنْ رَبِّكَ[۵۴]! ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ بَعْدَ شُهُورٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَدَّثْتُ بِحِكْمَتَيْكَ رَجُلًا فِي إِيرَانَ، فَقَالَ: لَعَنَهُ اللَّهُ! مَا أَعْلَمَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ! قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي عِنْدَ أَهْلِ إِيرَانَ كَمَا كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عِنْدَ أَهْلِ الشَّامِ؟! خَدَعَهُمْ بَنُو أُمَيَّةَ بِالْبُهْتَانِ حَتَّى لَعَنُوهُ بِغَيْرِ ذَنْبٍ نَحْوَ سِتِّينَ سَنَةً!

ترجمہ:

محمّد بن ابراہیم شیرازی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ اس نے فرمایا: «اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو»، پھر آپ نے فرمایا: ایمان والوں میں ہمیشہ ایک ایسا ہوتا ہے، جس کی اطاعت اللہ اور رسول کی اطاعت کی طرح واجب ہے، جو اس کی اطاعت کرتا ہے، گویا اس نے اللہ اور پیغمبر کی اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی گویا اس نے خدا اور رسول کی نافرمانی کی، اور صاحبان امر وہ ہیں جنہیں خدا اور رسول نے مقرر کیا ہے، نہ کہ انہیں لوگوں نے اپنی خواہشات سے مقرر کیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ مومنوں میں سے جو ان کے امور اپنے ذمہ لے گا وہ صاحبان امرمیں سے ہے، آپ نے فرمایا: وہ صحیح ہیں! میں نے کہا: وہ سچ کیسے کہتے ہیں، جب کہ آپ نے وہی کہا جو آپ نے کہا؟! آپ نے جواب میں فرمایا: خدا و پیغمبر کے مقرر کردہ شخص کے علاوہ جو کوئی بھی لوگوں کے امور کو اپنے ذمہ لے وہ مومن میں سے نہیں ہے، بلکہ وہ فاسقوں میں سے ہے اور خدا نے مومنوں میں سے صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور فاسق صاحبان امر کی اطاعت سے منع فرمایا ہے! «بھلا جو مومن ہو وہ فاسق کی طرح ہو سکتا ہے؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے»! پھر آپ نے فرمایا: میں تمہارے لئے اور اضافہ کروں؟ میں نے کہا: ہاں! آپ نے فرمایا: صاحبان امر، انکے مالک ہیں اور یہ حضرات وہ ہیں جنہیں خدا اور پیغمبر نے مقرر و معین فرمایا ہے اور جو کوئی انکے علاوہ کسی اور کا ہاتھ تھامے، اس نے انکا حق غصب کیا ہے اور غاصب کبھی مالک نہیں شمار کئے جاتے ہیں، «کاش وہ سمجھ پاتے»! میں نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے؛ کیونکہ آپ نے مجھے دو ایسی حکمتیں دیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔ آپ نے فرمایا: «یہ تمہارے رب کی طرف سے دو دلیلیں ہیں»! چند مہینوں بعد میں پھر ان کے پاس حاضر ہوا، تو میں نے کہا: میں نے آپ کی دو حکمتیں ایران میں ایک شخص سے بتائیں، تو انہوں نے کہا: خدا اس پر لعنت کرے! خدا کی کتاب کی کتنی جانکاری ہے! انہوں نے کہا: اے محمّد! کیا تم نہیں جانتے کہ میں اہل ایران کے نزدیک ایسا ہی ہوں جیسا کہ علی ابن ابی طالب شام کے لوگوں کے نزدیک تھے؟! امویوں نے انہیں بہتان سے دھوکہ دیا، یہاں تک کہ انہوں نے تقریباً ساٹھ سال تک بغیر گناہ کے ان پر لعنت بھیجی۔

۲۶ . أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهِرَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ[۵۵]، فَقَالَ: كِفْلَانِ مِنْ رَحْمَتِهِ هُمَا الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ، وَالنُّورُ إِمَامٌ يُبَيِّنُهُمَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمُ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ إِمَامًا يُبَيِّنُهُمَا لَكُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.

ترجمہ:

محمّد بن عبد الرّحمٰن ھروی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں پوچھا، وہ فرماتا ہے: «اے ایمان والوں! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور تمہیں وہ نور عنایت فرمائے گا جس سے تم راہ طے کر سکو گے»، آپ نے فرمایا: اسکی رحمت کا دو حصہ کتاب اور سنت ہیں اور نور، امام ہیں جو قیامت تک ان دونوں کو لوگوں پر روشن کرتے ہیں۔ خدا سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تاکہ وہ تمہیں کتاب اور سنت کی تعلیم دے اور تمہارے لئے ایک امام مقرر کرے جو قیامت تک ان دونوں کو تم پر روشن کرے۔

۲۷ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقَيُّومِ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْمَنْصُورَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ[۵۶]، فَقَالَ: هَادِيهَا، وَنُورُ اللَّهِ هُدَاهُ، وَهُوَ ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ[۵۷]، وَهِيَ بُيُوتُ الْأَنْبِيَاءِ، ﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۝ رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ[۵۸]، وَهُمْ أَهْلُ بُيُوتِ الْأَنْبِيَاءِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ أَنَّهُمْ يُسَبِّحُونَ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ؟ فَهُمْ أَهْلُهَا، وَلَا يَخْرُجُ هُدَى اللَّهِ مِنْ بُيُوتِ الْأَنْبِيَاءِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَابْتَغُوهُ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَبْتَغُوهُ عِنْدَ غَيْرِهِمْ فَتَضِلُّوا.

ترجمہ:

عبدالسلام بن عبد القیوم بلخی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے منصور سے اللہ تعالیٰ کے اس کلام کے متعلق سوال کیا، اسکا فرمان ہے: «اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے»، آپ نے فرمایا: انکے ہادی ہیں اور خدا کا نور ان کی ہدایت ہے اور وہ «ایسے گھروں میں ہیں جن کی تعظیم کا اللہ نے اذن دیا ہے اور ان میں اس کا نام لینے کا بھی» اور وہ پیغمبروں کے گھر ہیں، «وہ ان گھروں میں صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت ، ذکر خدا سے غافل نہیں کرتی» اور یہ لوگ پیغمبر کے اہل بیت ہیں، کیا تم نے نہیں دیکھا اس نے فرمایا کہ وہ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں؟ پس وہ ان کے اہل ہیں اور خدا کی ہدایت انبیاء کے گھروں سے نہیں نکلتی یہاں تک کہ قیامت آجائے، لہٰذا ہدایت اہل بیت سے حاصل کرو اور ہدایت دوسروں میں تلاش نہ کرو تم گمراہ ہو جاؤ گے!

↑[۱] . البقرہ/ ۳۰
↑[۲] . ابو بکر بغدادی کا مطلب داعش کا ایک خلیفہ ہے۔
↑[۳] . الاسراء/ ۱۰۸
↑[۴] . ابو بکر بغدادی کا مطلب داعش کا ایک خلیفہ ہے۔
↑[۵] . ص/ ۲۶
↑[۶] . النور/ ۵۵
↑[۷] . البقرہ/ ۲۴۷
↑[۸] . بزرگان کی کونسل، ماہرین کی کونسل
↑[۹] . الانعام/ ۱۱۱
↑[۱۰] . مراد حسن بن علی بن ابی طالب ہیں.
↑[۱۱] . الشوری/ ۱۳
↑[۱۲] . یس/ ۶۸
↑[۱۳] . المومنون/ ۸۱
↑[۱۴] . الزخرف/ ۲۲
↑[۱۵] . آل عمران/ ۱۰۳
↑[۱۶] . آل عمران/ ۱۱۲
↑[۱۷] . ایک متواتر حدیث جس کو تیس سے زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہے۔ رجوع کریں: اسلام کی طرف واپسی، ص۹۱۔
↑[۱۸] . الرّعد/ ۷
↑[۱۹] . الاعراف/ ۱۸۱
↑[۲۰] . التوبہ/ ۱۱۹
↑[۲۱] . آل عمران/ ۱۹۳
↑[۲۲] . الفرقان/ ۵۹
↑[۲۳] . النحل/ ۱۰۸
↑[۲۴] . النحل/ ۴۳؛ الانبیاء/ ۷
↑[۲۵] . فصلت/ ۴۴
↑[۲۶] . الانبیاء/ ۲
↑[۲۷] . ص/ ۷
↑[۲۸] . کتانی نے اسے متواتر احادیث میں سے شمار کیا ہے؛ کیونکہ سولہ صحابہ نے اسے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے نقل کیا ہے ابن مندہ نے اپنے تذکرہ میں کہا ہےکہ چوبیس صحابہ نے اسے نقل کیا ہے اور ان چوبیس صحابہ کے نام کو بھی ذکر فرمایا ہے اور شرح کتاب المواہب الدنیہ میں ذکر ہوا ہے: حافظ نے اس حدیث کو مشہور اور بعض نے اسے متواتر قبول کیا ہے؛ کیونکہ یہ حدیث چوبیس طریقوں سے وارد ہوئی ہے اور کتاب شرح التقریب سیوطی مں ذکر ہوا ہے کہ یہ حدیث تیس صحابہ کے ذریعہ سے ذکر ہوئی ہے (ملاحظہ فرمائیں: نظم المتناثر من الحديث المتواتر للکتاني، ص۳۴).
↑[۲۹] . مراد سقیفہ بنی ساعدہ ہے کہ جہاں مہاجرین اور انصار کے لوگ پیغمبر کی رحلت کے بعد وہاں جمع ہوئے تاکہ لوگوں کے لئے ایک خلیفہ منتخب کر سکیں۔
↑[۳۰] . خدا کی اس آیت کی طرف اشارہ جس میں اس نے یہود و نصارا کے لئے فرمایا ہے: ﴿نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ (المائدہ/ ۱۳ و ۱۴)؛ «انہوں نے ان چیزوں میں سے کچھ کو جسے انھیں یاد کرایا گیا تھا بھلا دیا».
↑[۳۱] . یہ انصار کی مہاجرین سے گفتگو تھی کہ جب مہاجرین نے خود کو انصار سے زیادہ حکومت کے لائق مانا (ملاحظہ ہو: كتاب الردّة للواقدي، ص۳۸؛ مصنف عبد الرزاق، ج۶، ص۹۳؛ السيرة النبوية لابن ہشام، ج۲، ص۶۶۰؛ الطبقات الكبرى لابن سعد، ج۲، ص۱۷۳ و ۲۰۶، ج۳، ص۱۳۳، ۱۳۵، ۴۲۸ و ۴۶۲؛ مصنف ابن أبي شيبة، ج۲، ص۱۱۸، ج۷، ص۴۳۱؛ مسند أحمد، ج۱، ص۴۵۳، ج۶، ص۳۰۹؛ صحيح البخاري، ج۵، ص۶، ج۸، ص۱۶۸؛ أنساب الأشراف للبلاذري، ج۱، ص۵۸۰-۵۸۴؛ سنن النسائي، ج۲، ص۷۴؛ تاريخ الطبري، ج۳، ص۲۰۲-۲۱۹ اور بہت سارے دوسرے منابع).
↑[۳۲] . «فلتة»
↑[۳۳] . انہیں کی دوسری روایتوں میں آیا ہے: «پس جو بھی اس طرح دوبارہ کرے اسے مار دو». ملاحظہ ہو: مصنف عبد الرزاق، ج۶، ص۹۲ و ۹۴؛ السيرة النبوية لابن ہشام، ج۲، ص۶۵۸؛ مصنف ابن أبي شيبة، ج۷، ص۴۳۱؛ مسند أحمد، ج۱، ص۴۵۱؛ صحيح البخاري، ج۸، ص۱۶۸؛ أنساب الأشراف للبلاذري، ج۱، ص۵۸۴؛ مسند البزار، ج۱، ص۲۹۹؛ تاريخ اليعقوبي، ج۲، ص۱۵۸؛ السنن الكبرى للنسائي، ج۶، ص۴۰۸ و ۴۱۰؛ البدء والتاريخ للمقدسي، ج۵، ص۱۹۰.
↑[۳۴] . پیغمبر کی ایک روایت کی طرف اشارہ کہ جس میں ذکر ہوا ہے: «إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا» (سنن أبي داود، ج۴، ص۱۰۹؛ المعجم الأوسط للطبراني، ج۶، ص۳۲۳؛ المستدرك على الصحيحين للحاكم، ج۴، ص۵۶۷؛ معرفة السنن والآثار للبيہقي، ج۱، ص۲۰۸)؛ «خدا اس امت کے لئے ہر سو سال میں ایک کو مبعوث کرتا ہے تاکہ وہ ان پر انکے دین کو تازہ کرے».
↑[۳۵] . البقرہ/ ۱۲۴
↑[۳۶] . الصافات/ ۷۱
↑[۳۷] . رجوع کریں: صحيح البخاري، ج۹، ص۱۰۳؛ صحيح مسلم، ج۴، ص۲۰۵۴.
↑[۳۸] . آل عمران/ ۱۵۵
↑[۳۹] . رجوع کریں: صحيح البخاري، ج۸، ص۱۲۰؛ صحيح مسلم، ج۴، ص۱۸۰۰.
↑[۴۰] . التوبہ/ ۳۱
↑[۴۱] . سورہ آل عمران کی آیت ۱۵۳ کی طرف اشارہ ہے
↑[۴۲] . سورہ توبہ کی آیت ۲۵ کی طرف اشارہ ہے
↑[۴۳] . خدا کی اس آیت کی طرف اشارہ کہ جو اس نے ان لوگوں کے متعلق فرمایا ہے: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ (التوبہ/ ۳۱)؛ «اپنے عالموں اور اپنے راہبوں کو اپنا خدا مان لیا ہے».
↑[۴۴] . الرعد/ ۴۳
↑[۴۵] . الانفال/ ۲۳
↑[۴۶] . خدا کے کلام کی طرف اشارہ ہے، کہ جسمیں خدا نے فرمایا: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد/ ۲۴)؛ «کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا دلوں پر تالے ہیں؟!»۔
↑[۴۷] . ہود/ ۱۷
↑[۴۸] . الشمس/ ۱ و ۲
↑[۴۹] . آل عمران/ ۵۳
↑[۵۰] . یوسف/ ۱۰۸
↑[۵۱] . النساء/ ۵۹
↑[۵۲] . السجدہ/ ۱۸
↑[۵۳] . التوبہ/ ۸۱
↑[۵۴] . القصص/ ۳۲
↑[۵۵] . الحدید/ ۲۸
↑[۵۶] . النور/ ۳۵
↑[۵۷] . النور/ ۳۶
↑[۵۸] . النور/ ۳۶-۳۷
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]