جمعرات ۳۰ جون ۲۰۲۲ برابر ۳۰ ذو القعدہ ۱۴۴۳ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
قول
 

۱ . أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ الْهَاشِمِيَّ الْخُرَاسَانِيَّ يَقُولُ: لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إِمَامٍ عَادِلٍ مِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَعَلَهُ اللَّهُ لَهُمْ، وَذَلِكَ عَهْدٌ عَهِدَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ إِذِ ابْتَلَاهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ: ﴿قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ[۱]، فَمَنْ مَاتَ وَلَا يَعْرِفُ هَذَا الْإِمَامَ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً! أَلَا إِنَّهُ لَيْسَ أَبَا بَكْرٍ الْبَغْدَادِيَّ وَلَا مُحَمَّدعُمَرَ الْقَنْدَهَارِيَّ وَلَا فُلَانًا وَلَا فُلَانًا -فَمَا أَبْقَى رَجُلًا مِنْ أَئِمَّةِ الْقَوْمِ إِلَّا سَمَّاهُ- وَلَكِنَّهُ الْمَهْدِيُّ! ثُمَّ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ دِعْبِلِ بْنِ عَلِيٍّ الْخُزَاعِيِّ فَقَالَ: خُرُوجُ إِمَامٍ لَا مَحَالَةَ خَارِجٌ/ يَقُومُ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَالْبَرَكَاتِ/ يَمِيزُ فِينَا كُلَّ حَقٍّ وَبَاطِلٍ/ وَيَجْزِي عَلَى النَّعْمَاءِ وَالنَّقَمَاتِ/ فَيَا نَفْسُ طَيِّبِي ثُمَّ يَا نَفْسُ أَبْشِرِي/ فَغَيْرُ بَعِيدٍ مَا هُوَ آتٍ!

قول کا ترجمہ:

عیسیٰ ابن عبد الحمید جوزجانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا منصور ہاشمی خراسانی فرماتے ہیں: خدا کی طرف سے مقرر کردہ، ابراہیم علیہ السلام کی اولادوں میں سے ایک عادل امام کے علاوہ لوگوں کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے اور یہ وہ وعدہ ہے جسے خدا نے ان سے اس وقت کیا تھا جب اس نے انہیں چند الفاظ کے ذریعہ سے آزمایا تھا، جب انہوں نے اس آزمائش کو تمام کیا: «تو اس نے فرمایا: میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، ابراہیم نے کہا: اور میری اولاد سے بھی، ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا»، پس جو بھی اپنے اس امام کو پہچانے بغیر مر جائے گویا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے! ہوشیار رہو تمہارا امام ابوبکر بغدادی یا محمد عمر قندھاری یا فلاں، فلاں نہیں ہے -امام کا نام ذکر کئے بنا اس نے کسی بھی قوم میں امام نہیں بھیجا- بلکہ تمہارے امام مہدی ہیں! اس کے بعد انہوں نے دعبل ابن علی خزاعی کے اشعار پڑھے اور فرمایا: امام کا ظہور کہ جو حتما ظہور کریں گے/ جو خدا کے نام اور اسکے برکات سے قیام کریں گے/ جو ہمارے درمیان حق کو باطل سے جدا کریں گے/ جو اچھائیوں کو برائیوں سے الگ کریں گے/ پس اے نفس! مطمئن اور خوشحال رہو/ہر آنے والی چیز اب دور نہیں ہے!

۲ . أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ الطَّبَرِيُّ، قَالَ: كَانَ فِي الْمَحَلَّةِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَكَانَ لَهُ حُسْنُ خُلْقٍ وَحُسْنُ عِبَادَةٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ الْمَنْصُورُ يَوْمًا فَرَقَّ لَهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ حَسَنٌ وَهُوَ يُعْجِبُنِي، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ لَكَ مَعْرِفَةٌ، فَاذْهَبْ وَاطْلُبِ الْمَعْرِفَةَ! أَفَلَا يَسْتَحْيِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَعِيشَ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَا يَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِهِ حَتَّى يَمُوتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً؟!

قول کا ترجمہ:

عبداللہ بن حبیب طبری نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: ایک جگہ ایک بہترین مزاج اور بہترین عبادتیں انجام دینے والا عالم شخص رہتا تھا، تو ایک دن منصور کی نگاہ اس پر پڑی، تو اسکو اس پر ترس آیا، تو اس نے اس کے لئے تحریر فرمایا: اے محمد! آخرکار تو جس راستے پر ہے وہ اچھا راستہ ہے اور مجھے اسکی خوشی بھی ہے، لیکن تیرے پاس معرفت نہیں ہے، اس لیے جا اور معرفت حاصل کر! کیا تم میں سے کسی کو شرم نہیں آتی کہ وہ چالیس سال تک زندہ رہتا ہے اور اپنے وقت کے امام کو نہیں پہچانتا ہے اور یہاں تک کہ وہ جاہلیت کی موت مر جاتا ہے؟!

۳ . أَخْبَرَنَا جُبَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُجَنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَنْصُورَ يَقُولُ: مَنْ دَانَ اللَّهَ وَلَا يَعْرِفُ إِمَامًا مِنَ اللَّهِ يُعَلِّمُ كِتَابَهُ وَيُقِيمُ حُدُودَهُ فَدِيَانَتُهُ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ، وَهُوَ ضَالٌّ يَتِيهُ فِي الْأَرْضِ، كَمَثَلِ شَاةٍ ضَلَّتْ عَنْ رَاعِيهَا وَقَطِيعِهَا، فَتَاهَتْ فِي الْجِبَالِ يَوْمَهَا، فَلَمَّا أَنْ جَاءَهَا اللَّيْلُ بَصُرَتْ بِقَطِيعِ غَنَمٍ أُخْرَى، فَظَنَّتْ أَنَّهَا قَطِيعُهَا، فَجَاءَتْ إِلَيْهَا فَبَاتَتْ مَعَهَا فِي مَرْبَضِهَا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَتْ أَنْكَرَتْهَا، فَفَارَقَتْهَا مُتَحَيِّرَةً تَطْلُبُ رَاعِيَهَا وَقَطِيعَهَا، فَبَصُرَتْ بِقَطِيعِ غَنَمٍ أُخْرَى، فَعَمَدَتْ نَحْوَهَا وَحَنَتْ عَلَيْهَا فَرَءآهَا الرَّاعِيُ، فَأَنْكَرَهَا فَصَاحَ بِهَا: إِلْحَقِي بِقَطِيعِكِ أَيَّتُهَا الشَّاةُ الضَّالَّةُ الْمُتَحَيِّرَةُ! فَهُجِمَتْ ذَعِرَةً مُتَحَيِّرَةً، لَا رَاعِيَ لَهَا يُرْشِدَهَا إِلَى مَرْعَاهَا أَوْ يَرُدَّهَا إِلَى مَرْبَضِهَا، فَبَيْنَا هِيَ كَذَلِكَ إِذَا اغْتَنَمَ ذِئْبٌ ضَيْعَتَهَا فَأَكَلَهَا، وَكَذَلِكَ مَنْ لَا يَعْرِفُ إِمَامَهُ مِنَ اللَّهِ فَيَلْتَحِقُ يَوْمًا بِرَجُلٍ وَيَوْمًا بِرَجُلٍ، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَتْهُ شَقَاوَتُهُ يَوْمًا مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ فَأَهْلَكَتْهُ!

قول کا ترجمہ:

جبیر بن عطاء خجندی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا منصور فرماتے ہیں: جو شخص خدا کے دین کی پیروی کرتا ہے لیکن وہ خدا کے جانب سے بھیجے گئے اس امام کو نہیں پہچانتا جو لوگوں کو اسکی کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اسکے حدود کو لوگوں پر جاری کرتا ہے، تو اس شخص کی دین داری قبول نہیں کی جائے گی ایسا شخص گمراہ ہے جو صرف زمین پر بھٹک رہا ہے، بالکل اس بھیڑ کی مانند جو اپنے چرواہے اور اپنے ریوڑ سے بھٹک جاتا ہے، چنانچہ وہ بھیڑ اپنا دن پہاڑوں میں بھٹکتے ہوئے گزارتا ہے، اور پھر جب رات ہوتی ہے تو وہ بھیڑوں کے ایک اور ریوڑ کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ اس کا وہی پرانا ریوڑ ہے، چنانچہ وہ اس کے ساتھ ہو جاتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے تو وہ بھیڑ اس ریوڑ کو ناشناس پاتا ہے، پھر وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے اور پھر بھٹکنے لگتا ہے اور اپنے چرواہے اور اپنے ریوڑ کو تلاش کرتا ہے، پھر جیسے ہی اس کی نظر بھیڑوں کے دوسرے ریوڑ پر پڑتی ہے، اس کی طرف بڑھتا ہے اور اس کے قریب جاتا ہے، لیکن چرواہا جیسے ہی اسے دیکھتا ہے اور اس بھیڑ کو جیسے ہی ناشناس پاتا ہے اس پر چلّانے اور چیخنے لگتا ہے: اے آوارہ بھیڑ اپنے ریوڑ کے پاس جاؤ! چنانچہ وہ خوف اور حیرانی کے عالم میں بھاگتا ہے، جب کہ اس کے پاس کوئی چرواہا نہیں ہے جو اسے اس کی چراگاہ تک لے جائے یا اسے اس کے جھونڈ میں لوٹا دے، چنانچہ بھیڑیا اسکی اس حالت کو غنیمت جان کر اس پر حملہ کر دیتا ہے اور اسے اپنی خوراک بنا لیتا ہے بالکل اسی طرح جو خدا کی طرف سے معین کردہ اپنے امام کو نہیں جانتا، وہ ایک دن کسی سے مل جاتا ہے تو دوسرے دن کسی اور سے، یہاں تک کہ ایک دن اس کی بدبختی اس تک پہنچ جاتی ہے اور اسے تباہ کر دیتی ہے!

۴ . أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي سَيِّدِي الْمَنْصُورُ: يَا أَحْمَدُ! أَتَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، كَمَا أَعْرِفُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ! قَالَ: اعْرَفْهُ! فَإِنَّ الْحَيْرَةَ وَالذِّلَّةَ وَالْمَسْكَنَةَ وَالْخِزْيَ وَالضَّلَالَةَ وَالْهَلَاكَ لِمَنْ لَا يَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِهِ! ثُمَّ قَالَ: يَا أَحْمَدُ! أَتُطِيعُ إِمَامَ زَمَانِكَ؟ قُلْتُ: رُبَّمَا وَلَعَلَّ! قَالَ: أَطِعْهُ! فَإِنَّ مَنْ يَعْرِفُ الْإِمَامَ وَلَا يُطِيعُهُ كَمَنْ يَعْرِفُ السَّبِيلَ وَلَا يَسْلُكُهُ، فَمَا أَحْرَى بِهِ أَنْ يَكُونَ هَالِكًا! ثُمَّ قَالَ: يَا أَحْمَدُ! إِنَّ النَّاسَ أَمْوَاتٌ وَمَا حَيَاتُهُمْ إِلَّا الْمَعْرِفَةُ، وَالطَّاعَةُ مِيزَانُ الْمَعْرِفَةِ! يَا أَحْمَدُ! أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ مَنْ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ كُتِبَ فِي قَلْبِهِ: آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَأَنَّ مَنْ عَرَفَهُ وَلَمْ يُطِعْهُ كَانَ مِنَ الْخَاسِرِينَ؟! يَا أَحْمَدُ! إِنَّ مَنْ رَغِبَ عَنْ إِمَامِ زَمَانِهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ رَغِبَ إِلَيْهِ، ثُمَّ لَا يُبَالِي فِي أَيِّ وَادٍ هَلَكَ! يَا أَحْمَدُ! إِنَّ مَنْ يَنْتَظِرُ إِمَامَ زَمَانِهِ فِي غَيْبَتِهِ كَمَنْ يُجَاهِدُ بَيْنَ يَدَيْهِ عِنْدَ ظُهُورِهِ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ! يَا أَحْمَدُ! أَتَدْرِي كَيْفَ انْتِظَارُهُ؟! قُلْتُ: ذِكْرُهُ كَثِيرًا وَالدُّعَاءُ لَهُ! قَالَ: إِنَّ هَذَا لَصَالِحٌ، وَلَكِنَّ انْتِظَارَهُ الدَّعْوَةُ إِلَيْهِ وَالتَّمْكِينُ لَهُ فِي غَيْبَتِهِ! إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ[۲]، أَيْ فِي غَيْبَتِهِمْ؛ كَمَا قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ إِذَا حَصْحَصَ الْحَقُّ وَيُوسُفُ غَائِبٌ: ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ[۳] أَيْ فِي غَيْبَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ.

قول کا ترجمہ:

احمد بن عبدالرحمٰن طالقانی نے ہمیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے آقا، منصور نے فرمایا: اے احمد! کیا تو اپنے وقت کے امام کو پہچانتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بالکل اسی طرح جس طرح میں دن اور رات کو پہچانتا ہوں! انہوں نے فرمایا: اسے پہچان؛ کیونکہ حیرانی، ذلت، بیچارگی، خواری، گمراہی اور تباہی اس شخص کے لیے ہے جو اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانتا! پھر فرمایا: اے احمد! کیا تو اپنے وقت کے امام کی اطاعت کرتا ہے؟ میں نے کہا: شاید! انہوں نے فرمایا: اس کی اطاعت کر؛ کیونکہ جو امام کو پہچانتا ہے اور اس کی اطاعت نہیں کرتا وہ اس شخص کی مانند ہے جو راستہ جانتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا، تو ایسا انسان فنا ہونے کا کتنا حقدار ہے! پھر آپ نے فرمایا: اے احمد! لوگ مر چکے ہیں اور ان کی زندگی معرفت کے سوا کچھ بھی نہیں اور اطاعت معرفت کا (پیمانہ) ہے! اے احمد! کیا تو نہیں جانتا کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانتا اس کے دل میں لکھ دیا جاتا ہے: «خدا کی رحمت سے مایوس» اور جو اسے پہچانتا ہے مگر اسکی اطاعت نہیں کرتا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے؟! اے احمد! جو اپنے زمانے کے امام سے روگردانی کرتا ہے، خدا اسے اس انسان کی طرف متوجہ کردیتا ہے جسنے خود اسی سے روگردانی اختیار کر رکھی ہے، پھر اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس وادی میں تباہ ہو جائے! اے احمد! اپنے زمانے کے امام کی غیر موجودگی میں اسکے ظہور کا انتظار کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اسکے ظہور کے زمانے میں اسکے سامنے جہاد کریگا، بلکہ وہ اس سے بہتر ہے! اے احمد! کیا توجانتا ہے کہ اس کا انتظار کیسے کیا جائے؟ میں نے کہا: اسے بہت یاد کرنا اور اسکے لیے دعا کرنا! انہوں نے فرمایا: یقیناً یہ ایک لائق تحسین عمل ہے، لیکن اس کا انتظار کرنا اس کی طرف دعوت دینا اور اس کی غیر موجودگی میں اسکے ظہور کا زمینہ فراہم کرنا ہے! خداوند متعال کا فرمان ہے: «اور تاکہ خدا جان لے کہ کون اس کی اور اس کے نبیوں کی بن دیکھے مدد کرے گا» یعنی اس کی غیر موجودگی میں؛ جیسا کہ جب یوسف کی غیر موجودگی میں حقیقت آشکار ہوئی تو عزیز مصر کی زوجہ نے کہا: «میں نے یہ (اس لیے کیا) تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی ہے» یعنی یوسف علیہ السلام کی غیر موجودگی میں۔

↑[۱] . البقرہ/ ۱۲۴
↑[۲] . الحدید/ ۲۵
↑[۳] . یوسف/ ۵۲
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]