جمعہ ۱۲ اگست ۲۰۲۲ برابر ۱۴ محرّم ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
خط
 

خط کا ترجمہ:

اے لوگوں! خدا سے ڈرو؛ کیونکہ تم نے خدا کی رہنمائی کے بغیر اس کی عبادت کی ہے اور تم نامعلوم راستوں پر چل پڑے ہو، وقت کی تبدیلی کے ساتھ تمہاری بھی رنگت اتر چکی ہے، دنیا کے فتنوں کی کشمکش میں تم ٹوٹ چکے ہو اور اب تم ان کی پیروی کر رہے ہو، جن کی پیروی کے لئے اللہ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے؛ پس تمہارے اولیاء نے تمہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں ڈال دیا ہے اور انہوں نے تمہارے لئے دین میں ان چیزوں کو داخل کر دیا ہے کہ جس کی اللہ نے اجازت ہی نہیں دی ہے۔ جیسا کہ خدا کا فرمان ہے: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ[۱]؛ «کیا ان کے پاس ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے دین کا ایسا دستور فراہم کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟ اور اگر فیصلہ کن وعدہ نہ ہوتا تو انکے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا اور ظالموں کے لئے یقینا دردناک عذاب ہے»۔

یہ سچ ہے کہ ڈرانے والے نے ڈرایا اور حق پہچانا گیا اور باطل رسوا ہوا، لیکن حق سے آشنا اکثر لوگ اسے قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ البتہ اگر حق پہچاننا اور اسے قبول کرنا ان کے مزاج سے مطابقت رکھتا تو وہ کسی کی دنیا کو یوں خطرے میں نہیں ڈالتے اور سب کے سب حق پہچانتے اور اسے قبول بھی کرتے اور اس پر دو گروہ کبھی آپس میں اختلاف بھی نہ کرتے، لیکن سچائی لوگوں کی دیرینہ پسند کے خلاف ہے اور ان کے بے بنیاد عقائد مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہیں، جو ٹوٹ کر گرجائے گی اور انکے دنیاوی اموال کو خطرے میں ڈال دے گی، یہیں سے سچائی کی پہچان کم ہو جاتی ہے اور اسکی قبولیت کی طاقت مدھم پڑ جاتی ہے۔

جب حق ظاہر ہوتا ہے تو امیر اپنی دولت سے پریشان ہوتے ہیں، طاقتور اپنی طاقت سے خوفزدہ ہوتے ہیں، مشہور اپنی شہرت کے لالچ میں ہوتے ہیں، محتاجوں کو اپنے مالک سے انکا حق ملتا ہے اور تقلید کرنے والے اپنے مرجع تقلید سے سوال پوچھتے ہیں! اس لئے ہمیشہ غریب اور مظلوم اور گمنام اور آزاد مفکر اور علماء موجود ہیں جو حق کی اطاعت اور اسکی پیروی کرتے ہیں؛ کیوں کہ ان کے پاس نہ دولت ہے کہ جس کی انہیں فکر ہو، نہ انکے پاس قدرت ہے جس سے وہ خوفزدہ ہوں، نہ انکے پاس شہرت ہے جو ان کو لالچی بنائے، نہ انکے پاس انکے ارباب ہیں جو ان کا محاسبہ کریں اور نہ انکا کوئی مرجع ہے جو فتویٰ کے نام پر اپنے عقائد ان پر تھوپے! جب اسلام کا ظہور ہوا، تو مکہ کے غریبوں نے اس کی اطاعت کی اور مکہ کے امیروں نے اس کا انکار کیا؛ مکہ کے مظلوموں نے اس کی مدد کی اور مکہ کے طاقتور اس کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ مکہ کے گمنام لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مکہ کی مشہور شخصیات نے اس سے روگردانی کی؛ مکہ کے آزاد مفکرین نے اس کی پیروی کی اور مکہ کے رشتہ داروں نے اپنے لوگوں کے بزرگوں کی پیروی کی۔ مکہ کے محققین نے اس پر تحقیق کی اور مقلدین اہل مکہ نے اپنے آباء و اجداد کی تقلید کی۔

درحقیقت، اسلام کا آغاز عجیب و غریب طریقے سے ہوا تھا اور اب وہ اپنی شروعاتی غربت کی طرف پھر سے لوٹ چکا ہے؛ مگر یہ کہ آخر کی غربت، شروعاتی غربت سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ شروعاتی غربت میں لوگ پتھر اور لکڑی کے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور آخر کی غربت میں لوگ گوشت اور خون کے بتوں کی پوجا کرتے ہیں!

↑[۱] . الشوری/ ۲۱
اصلی زبان میں خط کا مطالعہ کرنے کے لۓ یہاں کلیک کریں۔
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]