جمعہ ۱۲ اگست ۲۰۲۲ برابر ۱۴ محرّم ۱۴۴۴ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
خط
 

خط کا ترجمہ:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بندئے خدا منصور ہاشمی خراسانی کی طرف سے ایک خط ان لوگوں کے نام کہ جو انکی مدد فرماتے ہیں؛ اما بعد۔۔۔

اے میرے ساتھیوں! میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں؛ جس نے تمہیں اوج گمراہی میں ہدایت اور گہری حیرتوں میں یقین تک پہنچایا اور جس نے ذلت کے گھیرے میں عزت اور نادانی کے گھیرے میں تمہیں علم عطا کیا، تمہیں ایسی راہ پر گامزن کیا کہ جس کی سچائی میں کوئی کجی نہیں ہے اور جس کی ہمواری کبھی ناہموار نہیں ہوگی، جب کہ لوگ آپ کے متعلق جل رہے ہیں اور گروہ در گروہ اندھیرے میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور اپنے ہاتھ، دل اور زبان سے اسکا شکر ادا کرو، ممکن ہے کہ وہ تمہیں صالح بنا دے اور تم میں سے شہداء کو چن لے۔

اے میرے ساتھیوں! اسلاف کی تاریخ پر ایک نظر ڈالو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو؛ جنہوں نے ایام اللہ کو بھلا دیا اور اس کی نعمتوں سے کفر اختیار کیا، پس ان کی گردنوں پر مصیبت کی تلوار آن پڑی ہے اور تباہی کا تیر ان کے سینے کی ہڈیوں میں اتر چکا ہے، وہ ایسے تباہ ہو گئے جیسے وہ دنیا میں کبھی تھے ہی نہیں! اب تم ان کی زمینوں میں آباد ہو چکے ہو اور ان کے ویرانے پر اپنا گھر بنا چکے ہو، لہٰذا تم ان کے نقش قدم پر اور انکے مطابق نہ چلو کیونکہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہو گا، تاکہ تم آئندہ کے لیے عبرت بن جاؤ، جس طرح وہ لوگ تمہارے لئے عبرت بن گئے ہیں!

کیا تم میں سے کسی نے کہ جس تک میری آواز پہنچی ہے اسے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، وہ سوچتے ہیں کہ انہیں انکے صرف دعوں پر ہی چھوڑ دیا جائے گا اور ان کا کبھی امتحان نہیں لیا جائے گا؟! جبکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ ان کا امتحان لیا جائے گا تاکہ جھوٹوں اور سچوں کی پہچان ہو سکے؛ کیونکہ باتیں بہت کی گئی ہیں اور کام بہت کم ہوا ہے۔ امان! سوچنے والے، خدا کو دھوکہ دینے کا نہ سوچیں؛ کیونکہ اُس نے زبردست دھوکے بازوں کو دھوکہ دیا اور انکا ٹھٹھا کیا ہے؛ جب وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے ارادوں سے بے خبر ہے اور ان کے ارادوں سے آگاہ نہیں ہے!

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! خدا کی مدد کے لئے اس سے منتیں کرانے سے بچو؛ کیونکہ اسے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تمہیں اس کی مدد کی ضرورت ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اگر وہ چاہے تو کنکری اور سنگریزوں سے اپنے لئے مدد لے سکتا ہے؟! پس اس سے سچ بولو اور اسکے ساتھ سچے رہو؛ کیونکہ آسمان والے اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں!

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! مجھے زمین کے پھولوں کے بارے میں بتاؤ، اگر ان میں گھاس اور کانٹے دار جھاڑیاں ہوں تو کیا وہ اس میں رشد کر سکتے ہیں؟! اسی طرح، تم بھی اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک کہ تم خواہشات اور تعلقات میں الجھے رہو؛ کیونکہ یہ سب کی توانائی لیں گے اور تمہارے وقت کو ضائع کریں گے۔

اے میرے ساتھیوں! جس طرح دودھ آلودہ برتنوں میں نہیں ڈالا جاتا، اسی طرح معرفت آلودہ دلوں میں داخل نہیں کی جاتی اور جس طرح جواہرات کوڑے میں نہیں ڈالے جاتے، اسی طرح ناپاک سینوں میں حکمت نہیں ڈالی جاتی ہے؛ تاکہ جن لوگوں نے اپنے دلوں سے بدگمانی نکال دی وہ معرفت حاصل کریں اور جن لوگوں نے اپنے دلوں سے شک نکال دئے ہیں وہ حکمت حاصل کریں اور جو بد اندیش اور جو شک کرنے والے ہیں وہ جہالت اور بے خبری میں پڑے رہتے ہیں۔

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! معرفت کے حصول کے لئے میری باتیں سنو اور حکمت حاصل کرنے کے لئے اس میں غور و فکر کرو؛ کیونکہ جس طرح باغبان پھل دار درخت کی پرورش کرتا ہے میں بھی تمہاری پرورش اسی طرح کر رہا ہوں؛ تاکہ میں تم سے ایک ایسا گروہ بنا سکوں کہ جو زمین پر خدا کے خلیفہ کے لئے کفایت کر سکے۔ درحقیقت تمہیں دنیا کے لئے نہیں بلکہ آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے؛ اس لئے آخرت کے لئے کام کرو اور اپنا دل دنیا سے نہ لگاؤ۔ تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جو دریا کے سفر پر ہے اور اسکی کشتی طوفان میں ڈوب چکی ہے چنانچہ اس نے خود کو تختے پر سوار کر لیا ہے تاکہ ایک نامعلوم جزیرے پر اتر سکے۔ پس جب وہ بیدار ہوا اور اس میں گھوما ٹہلا، تو اسے معلوم ہوا کہ یہ جزیرہ آباد نہیں ہے جہاں آدم خور جانور اور تھوڑا بہت کھانا اور پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اب مجھے بتاؤ کہ کیا وہ جزیرے سے محبت کرے گا، وہ اس میں حویلیاں بنائے گا -گویا وہ وہاں ہمیشہ رہے گا- یا وہ شخص وہاں پناہ تلاش کرنے اور جہاز بنانے اور خود کو بچانے کے لئے سامان فراہم کرنے کی کوشش کرے گا؟!

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا کی چکاچوند بڑھ چکی ہیں اور فتنہ و فساد پھیل چکا ہے۔ لوگ خدا کو بھول چکے ہیں اور خدانے بھی لوگوں کو بھلا دیا ہے۔ بربادی کے ایسے وقت میں دنیا کو وہی دگرگون کر سکتے ہیں کہ جنہیں دنیا دگرگون نہ کر سکتی ہو۔

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! جب لوگ دنیا میں مصروف ہو گئے ہیں تو تم ان سے امتیاز حاصل کرنے کے لئے آخرت میں مصروف ہو جاؤ۔ دنیا کا غم نہ کرو؛ کیونکہ دنیا تمہارا غم نہیں کرتی ہے۔ اسے ان لوگوں کے لئے چراگاہ بنا کر چھوڑ دو جو خدا کی آیات کو نہیں مانتے اور انسانیت اور حیوانیت میں فرق نہیں کرتے ہیں۔ وہ ان کے لئے ہیں اور یہ ان کے لئے ہے۔ اُن کی مثال اس بچے کی طرح ہے جو ساحل پر کھیلتا ہے اور ریت سے اپنے لئے عمارتیں تعمیر کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ باقی رہ جانے والا ہے، لیکن اچانک ایک لہر آتی ہے اور سب کو تباہ کر دیتی ہے۔ تو بچہ افسوس اور حسرت کے ساتھ ریت کی طرف دیکھتا ہے کہ اس نے کتنی بے سود تکلیفیں اٹھائی ہیں!

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جنہوں نے شیطان کو اپنا دوست بنا لیا ہے اور اس کے ایسے عادی ہو گئے ہیں کہ اس سے جدا نہیں ہو سکتے؟! آگاہ رہو کہ خدا کے علاوہ جو بھی چیز تمہیں خود میں مشغول رکھتی ہے وہ شیطان ہے۔ میں تمہارے لئے ایسی مثالیں اس لئے بیان کرتا ہوں تاکہ تم علم حاصل کرو اور اسے اپنے استعمال میں لا سکو، میں ایسی مثالیں اس لئے بیان نہیں کرتا کہ تم اس سے لطف اندوز ہو یا اس سے لوگوں پر برتری حاصل کرو، ان لوگوں کی طرح جنہوں نے علم کو دنیا کے لئے سیکھا تاکہ وہ اس علم کے ذریعہ جاہلوں پر رعب جمائیں اور ان کی املاک کو ناحق کھا جائیں؛ بلکہ عمل کے لیے علم حاصل کرو اور بغیر کسی توقع کے جاہلوں کو تعلیم دو تاکہ یہ تمہارے لئے خیر و برکت کا ذریعہ بن سکے، نمک کے دریا کی طرح نہیں کہ جس سے امید نہیں کی جاتی!

اے میرے ساتھیوں کے گروہ! عملی طور پر میری پیروی نہ کر کے کیا تم اپنے آپ کو صرف میرا ساتھی سمجھنے پر راضی ہو؟! میں تمہارے بھروسے پر کیسے قیام کروں جبکہ تم میں اس حد تک لغزشیں پائی جاتی ہیں؟! میرے سچے ساتھی کہاں ہیں؟ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے مسیح کی طرح دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس کے تمام تعلقات سے خود کو آزاد کر لیا؟ کہاں ہیں وہ جو موت کے ہمنشین تھے اور خدا کو اپنے سامنے دیکھتے تھے؟ وہ آگ کے ڈر سے ایسے روتے تھے جیسے کسی بچے کی ماں مر گئی ہو! وہ آسمان کو اس طرح دیکھتے تھے کہ جیسے آپ کو لگے کہ جیسے وہ فرشتوں کو انکے جگہوں پر دیکھ رہے ہیں! وہ خدا کی عبادت کرتے تھے اور بتوں کی پرستش سے پرہیز کرتے تھے۔ وہ اپنے قائد کی اطاعت کرتے تھے اور اس کی مدد میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے تھے۔ گویا وہ فولادی تختے کی مانند تھے یا بلند ہوتے پہاڑ کی مانند! جب وہ اپنی صفوں میں رہ کر دشمن پر حملہ کیا کرتے تھے گویا وہ گرد اور ریت کے طوفان کھڑا کر دیتے تھے! وہ اپنے روئیے کی نگرانی کرتے تھے اور ہر لفظ کا وقت جانتے تھے۔ وہ مکارم اخلاق سے آراستہ تھے اور بزرگ رذائل سے پاک تھے۔ وہ زمین پر نامعلوم اور گمنام تھے اور آسمان پر مشہور اور پر آواز تھے۔ ان پر دھول بیٹھی ہوئی تھی اور ان کے چہرے پیلے پڑ گئے تھے۔ آدھی رات میں وہ ایسے تھے جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے ہوں! وہ صبح کی نماز پڑھتے، مغفرت کی دعا کرتے، اور قرآن کی تلاوت کرتے صبح کر دیتے تھے، اور رات علم، جہاد اور لوگوں کی خدمت میں گزار دیا کرتے تھے۔ وہ نہ تھکتے تھے اور نہ ہچکچاتے تھے۔ خدا ان پر رحمت کرے۔ انہوں نے اپنے دن گزار لئے اور رخصت ہو گئے۔ ہمارے لئے اب تم بچے ہو۔ پس کوشش کرو کہ تم انکے نیک اور اچھے جانشین بن پاؤ، انکے لئے اور انکی اقتدا کرو، جان لو کہ تم جب تک ایسے نہیں بنوگے فرج کو نہیں دیکھ پاؤگے۔

خط کی شرح:

اگر یہ خط مُردوں پر پڑھا جائے تو بعید نہیں ہے کہ وہ زندہ ہو جائیں، لیکن آنجناب کے الفاظ جو آپ نے فرمایا «لوگ خدا کو بھول گئے اور خدا نے بھی ان لوگوں کو بھلا دیا ہے»، خدا وند متعال کا یہ فرمان ہے: ﴿نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ[۱]؛ «وہ خدا کو بھول گئے، تو وہ انہیں بھی بھول گیا» اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کو بھول گئے، تو خدا نے بھی انہیں انکے اوپر چھوڑ دیا، گویا وہ انہیں بھول گیا ہے، نہ یہ کہ انہیں حقیقتا بھلا دیا ہے؛ جیسا کہ خدا بھولنے والا نہیں ہے، جیسا کہ اسکا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا[۲]؛ «اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے» اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کی باتیں، اگرچہ بظاہر عجیب لگتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ہیں اور اس کے کلام سے الگ نہیں ہیں اور یہ باریک بین افراد کے لئے ایک نشانی ہے۔

↑[۱] . التوبہ/ ۶۷
↑[۲] . مریم/ ۶۴
اصلی زبان میں خط کا مطالعہ کرنے کے لۓ یہاں کلیک کریں۔
ھم آہنگی
اس متن کو اپنے دوستوں تک پہونچایں
ایمیل
ٹیلیگرام
فیسبک
ٹویٹر
اس متن کا نیچے دی ہوئ زبانوں میں بھی مطالعہ کر سکتے ہیں
اگر دوسری زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو اِس متن کا اُس زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ [ترجمے کا فارم]