ہفتہ ۱۰ جنوری ۲۰۲۶ برابر ۲۱ رجب ۱۴۴۷ ہجری قمری ہے

منصور ہاشمی خراسانی

حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading
عقل کے مراتب اور اس کے ادراکات

ادراکاتِ عقل کسی بھی انسان کے اندر وسیع نہیں ہیں بلکہ انسان کے علم کی مقدار سے وابستہ ہیں۔ عقل مختلف مراتب کی حامل ہے کبھی وہم، جس میں احتمال کا پلّہ ہلکا ہوتا ہے کبھی شک، جس میں احتمال کا پلّہ برابر ہوتا ہے کبھی ظن جس میں احتمال کا پلّہ بھاری ہوتا ہے اور یقین میں خلاف کا احتمال ہی نہیں ہوتا ہے۔ اس کے با وجود اگر چہ یہ تمام باتیں عقل ہی سے نمودار ہوتی ہیں لیکن ان میں صرف یقین ہی معیار شناخت ہے کیونکہ وہم و شک وظن اپنے ہی خلاف احتمال کے ساتھ متعارض ہوا کرتے ہیں۔ اور اس وصف کے ساتھ شناخت کے لئے ایک معیار کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ احتمالات کی موجودگی میں کسی ایک احتمال کو صحیح سمجھا جائے۔ وہ معیار وہی یقین ہے جس میں خلاف کا احتمال نہیں پایا جاتا ہے۔ اس وصف کے ساتھ اس کی حجیت ذاتی اور بدیہی ہے۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی شناخت کی بنیاد صرف یقین ہے جو شناخت یقین کی طرف نہیں لے جاتی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ [اسلام کی طرف واپسی، ص۱۲]

بداہت عقل

علم کا پہلا معیار اور معرفت کی بنیاد عقل ہے۔ عقل کی حجّیت یقینی طور پر یہی ہے۔ کیونکہ جز کا تصوّر اس کی تصدیق کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس کی تصدیق تصوّر سے جدا نہیں ہے۔ بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ حجّیت خود ایک عقلی مقولہ ہے۔ اور جز کے معنی کبھی بھی عقل کے لئے کاشف حقیقت نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا یہ بالکل وہی بات ہو گئی کہ عقل کے لئے حجّیت کا ثابت ہونا ایسے ہے جیسے حجّیت سے زیادہ واضح ہونا چاہئے اور اس چیز کی حجّیت کو ثابت کرنا حجّیت عقل کے ثبوت کا محتاج ہوگا۔ جیسے شریعت اگر حجّیت عقل کو ثابت کرنا چاہتی ہے تو پہلے اس کو اپنی حجّیت کو ثابت کرنا پڑیگا کیونکہ شرع کی حجّیت عقل کی حجّیت سے زیادہ روشن نہیں ہے۔ ایسی حالت میں شرع کے حجّیت کے اثبات کے لئے عقل کے علاوہ کوئی دوسرا سہارانہیں اور شرع کی حجّیت کو خود اسی سے ثابت کرنا بے معنی ہے۔ ہاں عقل ہی شرع کی حجّیت کو ثابت کرتی ہے اسی وجہ سے عقل جب معیار شناخت ہوگی تو طبیعتا شریعت کو اپنے دامن میں لے لیگی۔ لہٰذا شریعت کو معیار شناخت قرار دینا عقل کے مقابلے میں ضرور ی نہیں ہے۔ یہ عام کے مقابلے میں خاص کو لانا یا ملزوم کے مقابلے میں لازم کو لانا صرف تاکید کے لئے ہے۔ [اسلام کی طرف واپسی، ص۱۲]

سلفی مسلمان

عقل سے انحراف، خدا سے انحراف کا لازمہ ہے؛ کیونکہ عقل خدا کی مخلوق ہے اور وہ صرف وسیلہ ہے جو انسان کے اندر کسی چیز کی شناخت کیلئے قرار دی گئی ہے۔ اسی وصف کے ساتھ عقل کی ضدیت انسان کے ارادہ اور فعل کی ضدیت کے معنی میں ہے! ایسے افراد جو عقل کو شریعت کا رقیب سمجھتے ہیں وہ اس بڑی حقیقت سے غافل ہیں کہ عقل اور شریعت ایک سر چشمے سے لئے گئے ہیں دونوں خدائے واحد کی مخلوق ہیں! کیا خدا کی خلقت میں اختلاف ہے؟ کیا اس کی کچھ مخلوقات دوسری مخلوقات کی نقیض کرتی ہیں؟ تو یہ بات واضح ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے؛ کیونکہ افعال خداوند حکمت سے خالی نہیں ہیں۔ کوئی بھی دوسرے کی نقیض نہیں کرتے؛ جیسا کہ قرآن مجید میں خدا کا فرمان ہے: ﴿مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ؛ «خدا کی خلقت میں کوئی نقیض نہیں دیکھو گے»۔ دوسرے الفاظ میں، جس نے شریعت کو بھیجا ہے وہی ہے جس نے عقل کو پیدا کیا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ عقل اور شرع کا تناقض محال ہے۔ جو لوگ عقل اور شرع کو تضاد سمجھتے ہیں، نادانستہ طور پر الحاد کی طرف توجہ کر لی ہے اور وہ عقل کے خالق کو شریعت کے خالق سے الگ سمجھتے ہیں۔ عقل و شریعت کے تنازع کا عقیدہ شرک آمیز ہے جو عقیدۂ توحید کے مقابلے میں وجود میں آیا ہے۔ کیونکہ عالم میں دو قسم کا وجود اور تکوین کی ضدیت کا تشریع کے ساتھ پایا جانا صرف الحادی نظریے پر موقوف ہے! اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ شرع عقل کے موافق ہے اور واضح طور پر اس کی تصدیق کرتی ہے۔ [اسلام کی طرف واپسی، ص۱۶]

منکرین حجیت عقل کے شبہات

وہ لوگ جو عقل کو حجت نہیں مانتے ان کی نظر میں عقل کے ادراکات محدود ہیں۔ جب عقل کے ادراکات محدود ہیں تو عقل معیار شناخت نہیں ہو سکتی ہے حالانکہ ان کے نزدیک عقل کے ادراکات کی محدودیت ان کے غلط ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔ عقل کی محدودیت حجّیت کیلئے مانع نہیں ہے۔ حجّیت تو ہے، مگر ادراکات الٰہی کے مقابلے میں عقل کی حجّیت کم ہے۔ کیونکہ عقل ایسی مخلوق ہے جو ذاتی محدود ہے۔ اس بنا پر عقل ہر چیز نہیں جان سکتی۔ لیکن جو چیز جان لیتی ہے وہ صحیح جان لیتی ہے اور یہی اس کی حجّت بننے کیلئے کافی ہے۔ جیسے آنکھ ساری چیز کو نہیں دیکھتی ہے لیکن جو چیز دیکھ لیتی ہے وہ صحیح دیکھ لیتی ہے۔ کان ہر چیز نہیں سنتا لیکن جو چیز سن لیتا ہے وہ صحیح سنتاہے۔ اور یہی آنکھ اورکان کے حجّت ہونے کے لئے کافی ہے۔ [اسلام کی طرف واپسی، ص۱۷]

منکرین حجیت عقل کے شبہات

کامل معرفت صرف اللہ کو ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی شناخت کامل کا حامل نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے جو اس نے شریعت بھیجی ہے وہ کامل ہے لیکن شریعت کا کامل ہونا شریعت کو عقل سے متعارض نہیں کرتا ہے کیونکہ عقل جن چیزوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہے شریعت ان کے خلاف نہیں ہے کیونکہ عقل تو وہاں کچھ کہتی نہیں جہاں شریعت کی مخالفت ہو۔ جیسے جنت دوزخ جو غیبی ماہیت ہے عقل ان کے بارے میں خاموش ہے لیکن شرع ان کے بارے میں بتاتی ہے۔ تو اس طرح شرع کی باتیں عقل کے خلاف شمارنہیں کی جائیں گی۔ اور کچھ عبادتیں بھی ایسی ہیں جو صرف اعتبار کی حامل ہیں تبعاً ان کے بارے میں بھی عقل خاموش ہے۔ لیکن شرع انکے بارے میں بیان کرتی ہے۔ اس دلیل کے ساتھ شرع کی بات عقل کے خلاف نہیں کہی جائے گی۔ خصوصی طور پر اس توجہ کے ساتھ کہ چونکہ عقل شرع کی حجّیت کو درک کرتی ہے۔ اس طرح سے ان ممکن وقائع کے اعتبار عملی اور اخبار قطعی کو قبول کرتی ہے۔ [اسلام کی طرف واپسی، ص۱۷]

آنجناب کی جانب سے ایک خط، انکے ایک ساتھی کے نام کہ جس میں آپ انہیں نصیحت فرماتے ہیں اور انہیں دنیا پرستی سے روکتے ہیں۔

سوئے ہوئے بہت سارے اٹھ نہیں پائے، گئے ہوئے واپس نہ آپائے اور بہت سارے بیمار کہ جنہیں شفا نہیں مل پائ ہے۔ اسی طرح آج جو بھی زندہ ہے اسے مرنا ہے اور جو بھی کھاتا پیتا ہے اسے ایک دن خود مٹی کی خوراک بن جانا ہے۔۔۔ موت سے غافل نہ ہونا؛ کیونکہ موت تم سے غافل نہیں ہے۔ خود کو مرنے کے لئے آمادہ رکھو؛ کیوں کہ نہیں پتہ موت تم پر کب آن پڑے۔ بڑی بڑی خواہشوں کو ترک کرو اور اپنے خواہشات نفس کے پیچھے پیچھے مت دوڑو۔ حصول دنیا پر خوشحال اور ترک دنیا پر غمگین نہ ہو۔ [خط ۲]

آنجناب کی جانب سے ایک خط، انکے ایک ساتھی کے نام کہ جس میں آپ انہیں نصیحت فرماتے ہیں اور انہیں دنیا پرستی سے روکتے ہیں۔

اپنی مہار کو شیطان کے ہاتھوں سے لے کر زمین پر موجود خلیفہ خدا کے حوالے کر دو؛ کیونکہ شیطان تمہیں آگ کی طرف لے جائےگا اور زمین پر موجود خدا کا خلیفہ تمہیں بہشت کی طرف ہدایت کریگا۔۔۔ مھدی کے ناصر و مددگار وہ افراد نہیں ہیں جو خدا کی معصیت کرتے ہیں، انکے ناصر وہ لوگ ہیں جو چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں؛ اپنی راتیں نمازوں میں گزار دیتے ہیں اور اپنا دن تعلیم و تعلم میں ۔ ایسے افراد خدا کے کئے ہوئے وعدوں پر ایمان رکھتے ہیں اور روز جزا سے ڈرتے ہیں؛ جب وہ خدا کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے کردار کا مشاہدہ کریں گے۔ [خط ۲]

آنجناب کی جانب سے ایک خط، انکے ایک ساتھی کے نام کہ جس میں آپ انہیں نصیحت فرماتے ہیں اور انہیں دنیا پرستی سے روکتے ہیں۔

ناصران مھدی انبیائے خدا کے اخلاق کے مطابق بناۓ گۓ ہیں اور اس کے اولیاء کے اخلاق کے مطابق ہیں۔ حق جیسے کہ ان پر آشکار ہوگیا ہو وہ حق کو قبول کر لیتے ہیں اور باطل نے جیسے کہ انہیں رسوا کر دیا ہو اسے ترک کر دیتے ہیں۔ ناصران مھدی نہ متعصب ہوتے ہیں اور نہ ہٹ دھرم، یہ افراد نہ بد زبان ہوتے ہیں اور نہ ہی بکواس باتیں کرنے والے۔ یہ لوگ خدا سے جھوٹ منسوب نہیں کرتے ہیں اور وہ لوگ جو خدا سے جھوٹ منسوب کرتے ہیں ان سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ نمازوں کو انکے وقت پر ادا کرتے ہیں اور اپنے مال سے ضرورت مندوں کی مدد فرماتے ہیں۔ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں پر جفا کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اپنے والدین کا احترام کرتے ہیں اور انکی بری اخلاقی عادتوں پر صبر کرتے ہیں۔ اپنی دوستی کے بہانے وہ اپنے دوستوں کی بے احترامی نہیں کرتے ہیں اور اپنی دشمنی کے بہانے اپنے دشمنوں پر ستم نہیں کرتے ہیں۔ جاہلوں کے ساتھ مدارات سے پیش آتے ہیں اور ناسمجھوں کے ساتھ بحث نہیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ زیادہ بات کرتے ہیں نہ زیادہ ہنستے ہیں نہ زیادہ سوتے ہیں اور نہ زیادہ کھاتے ہیں۔ اپنی شہوت کی مہار اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں اور اپنے پاک دامنی کے پلڑے کو کبھی ہلکا ہونے نہیں دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ ڈرپوک ہیں اور نہ ہی بے حیا، یہ نہ خود نمائی کرتے ہیں اور نہ زیادہ گوئی سے کام لیتے ہیں۔ ایسے افراد فاسقوں سے نہ کبھی دوستی کرتے ہیں اور نہ ہی ظالمین کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ فائدہ بخش کاموں کو انجام دیتے ہیں اور اپنے وقت کو برباد نہیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ کتاب خدا سے مانوس اور حلال و حرام سے آشنا ہیں۔ علماء کی تعلیمات کے منکر نہیں ہیں اور انکی تعلیمات سے کوئی بیر نہیں رکھتے ہیں بلکہ انکی ضرورتوں کو پوری کرتے ہیں اور انکی مدد کے لئے آگے بڑھتے ہیں ۔ جب انہیں مھدی کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ اسکی مدد کے لئے یک جا جمع ہو جاتے ہیں۔ [خط ۲]

آنجناب کی جانب سے ایک خط، انکے ایک ساتھی کے نام کہ جس میں آپ انہیں نصیحت فرماتے ہیں اور انہیں دنیا پرستی سے روکتے ہیں۔

تمہیں کیا لگتا ہے، جو میری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے میری مدد کے لئے دوڑے چلے آتے ہیں کیا وہ یہ امید رکھ کر آتے ہیں کہ وہ میرے ذریعے اپنی دنیا بنا لیں گے ؟ ایسا نہیں ہو سکتا! کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ میرے پاس دنیا ہے ہی نہیں کہ میں اس میں سے انہیں کچھ دے دوں۔ انہیں میرے ساتھ شب بیداری اور دن کی بھاگ دوڑ کے سوا کچھ نہیں ملنے والا ہے، لیکن انہیں بہشت ضرور حاصل ہوگی کہ جس کے نیچے نہریں جاری ہونگی وہ لوگ اس آگ سے بچے رہیں گے کہ جسکا ایندھن انسان ہوگا۔ کیا تم یہ سوچتے ہو کہ جو لوگ مجھ سے بھاگتے ہیں اور میرے دشمن تک مدد پہنچاتے ہیں ایسے لوگ آخرت میں کامیابی کی امید رکھتے ہیں؟ ایسا نہیں ہو سکتا! کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ دنیادار افراد کی چاپلوسی کرتے ہیں قدرتمند اور دولتمند افراد کی خدمت میں لگے رہتے ہیں، آخرت میں انکی قسمت جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہ ہوگی۔ لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ اپنا راستہ خود اختیار کریں کیونکہ انہیں اس انتخاب کا کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ [خط ۲]

آنجناب کی جانب سے ایک خط، انکے ایک ساتھی کے نام کہ جس میں آپ انہیں نصیحت فرماتے ہیں اور انہیں دنیا پرستی سے روکتے ہیں۔

آل محمد کے قرض کو ادا کرنے کے لئے ہم آج اس راستے پر نکلے ہیں۔ خدا کی قسم ہم اس راستے میں استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں، اس راستے میں ہمیں نہ ملامت کا خوف ہے نہ ہی ملامت گری کا ڈر ہے۔ اس اقدام کا مقصد ظھور مہدی کے لئے زمینہ سازی کرنا ہے۔ اس اقدام سے ہمارا مقصد مھدی کی حکومت کو ممکن بنانا ہے۔ لہذا آج جو بھی ہمارے ساتھ رہے گا وہ کل بھی ہمارے ساتھ رہے گا اور کل ہم اس کے کنارے کھڑے ہونگے جنکے لئے آج ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ لہذا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو۔ خدا آپ سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے؛کیونکہ آپ ہی لوگ خدا کے نیک بندے ہیں؛ وہ لوگ جو زمین پر کمزور شمار کئے جاتے ہیں خدا انہیں اپنے لطف و کرم سے اس دنیا کو انکی میراث قرار دے دیتا ہے۔ وہ انسان جو تمہیں بہترین راستے کی طرف ہدایت کر رہا ہے جو تمہیں بہترین روش سے آشنا کرا رہا ہے جو تمہیں بہترین مقاصد کی طرف دعوت دے رہا ہے اسکی مدد کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو بجائے اسکے کہ تم اس سے اپنی اجرت طلب کرو اور اپنے متعلق کوئی دعویٰ کرو۔ [خط ۲]

آنجناب کا ایک خطبہ جس میں وہ امام مہدی کی غیبت کے نتائج سے ڈرا رہے ہیں اور امام مہدی کے ظہور کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔

قول کا ترجمہ: کیا تم کو لگتا ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں تمہیں انصاف اور خوشحالی نظر آۓ گی؟ یا تمہیں لگتا ہے کہ انکی غیر موجودگی میں تم محفوظ اور خوش رہو گے؟! خدا کی قسم ایسا نہیں ہے، مجدد خدا کی قسم ایسا نہیں ہے؛ بلکہ اس آرزو کو اپنے ساتھ قبر میں لے جاؤ گے، جیسا کہ تم سے پہلے والے لوگ اپنے ساتھ قبر میں لے گۓ! اسی لۓ اللہ نے امام مہدی کے غیبت میں رہنے میں کوئ خیر نہیں رکھی ہے اور انکے علاوہ کسی اور کی حکومت می برکت نہیں رکھی ہے! [قول ۱]

آنجناب کا ایک خطبہ جس میں وہ امام مہدی کی غیبت کے نتائج سے ڈرا رہے ہیں اور امام مہدی کے ظہور کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔

قول کا ترجمہ: میں تم سے سچ کہ رہا ہوں: اسکی غیبت میں تمھارا پیٹ تمھاری پشت سے چپک جاۓ گا اور تم گھانس پھونس پر سو جاؤ گے! تم صبح و شام غصے میں رہو گے اور مرنے کی آرزو کروگے! تمھارے گھر ویران اور تمھارے بازار بند ہو جایئں گے! کانٹے دار کھیت اگ جایئں گے اور پھل دار درخت خشک ہو جایئں گے! مویشیوں کے جھنڈ منتشر ہو جایئں گے اور کوئ ان کو جمع کرنا نہیں چاہے گا! تمھارے سروں میں جویئں پڑ جایئں گی اور تمھارے ہاتھ خاک آلود ہو جایئں گے! تمھارے شہر تباہ اور تمھارے گاؤں ویران ہو جایئں گے! تمھاری گلیوں سے کوئ نہیں گزرے گا اور تمھارے دروازوں پر کوئ دستک نہیں دے گا! تمھارے نالوں میں پانی نہیں ہوگا اور تمھارے کنوؤں میں سانپ گھونسلا بنا لیں گے! تمھارے چوراہوں پر بھیڑۓ گھومتے پھریں گے اور تمھاری بلڈگوں پر الو آہیں بھریں گے! تمھاری کھڑکیوں پر مکڑیاں جالا بن لیں گی اور تمھاری حوضوں پر مینڈک گایئں گے! تم اندھیری وادیوں میں رہو گے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ لو گے!تم چٹانوں کی دراڑوں میں چھپ جاؤ گے اور صحرا کے پرندوں کے ھمنشین بن جاؤ گے! تمھاری زمینوں سے دھنواں آسمان کی طرف اٹھے گا اور اسکی آگ نہ بجھ سکے گی! تمھارے دشمن تم پر غلبہ پا لیں گے اور مغرب و مشرق کے شیاطین تمھیں کھا جایئں گے! وہ تمھارے بچوں کی فریاد نہیں سنیں گے اور تمھارے بزرگوں پر رحم نہیں کریں گے! وہ تمھاری جایئداد تقسیم کر لیں گے اور تمھاری ناموس کے لۓ قرعہ ڈالیں گے! وہ تمھارے مردوں کو نہیں دفنایئں گے بلکہ اپنے کتوں کو دفن کریں گے! [قول ۱]

آنجناب کا ایک خطبہ جس میں وہ امام مہدی کی غیبت کے نتائج سے ڈرا رہے ہیں اور امام مہدی کے ظہور کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔

قول کا ترجمہ: ھان، اے لوگوں! ان لمحوں پر جو کچھ منحصر ہے ، جلدی مت کرو! وقت تنزلی کے نزدیک ہو گیا ہے اور وعدوں کا وقت قریب آ گیا ہے۔ عنقریب غیبت کے لمحے جنکو تم تسکین سمجھتے ہو بہار کے اونٹوں کی طرح مدہوش ہو جایئں گے اور ان کے نوکیلے دانت تمھاری آنکھوں میں دھنس جایئں گے! قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضے میں میرا جسم و جان ہے میں جو کچھ کہ رہا ہوں وہ شاعری نہیں ہے اور گفتگو میں مبالغہ آرائ نہیں ہے۔ عنقریب جب زمانے کی دیغ ابلے گی اور وقت کا دریا چڑھے گا اور فتنے کی چکی کو پھیر دے گا اور افرا تفری کی چٹانوں کا رخ موڑ دے گا۔ خطرہ! خطرہ! آگاہ رہو کہ تم میں سے کوئ بھی بخشا نہیں جاۓ گا! وہ تم میں سے ہر غیر سماجی کو بھی لے آیئں گے اور مکھن اور چاچھ نکال لیں گے۔ جب فتنہ زمین پر اترتا ہے تو وہ کھڑا ہوتا ہے اور بیٹھے بیٹھے کاٹتا ہے۔ خطرہ! خطرہ! آج جب کہ تمہیں ایک موقع ملا ہے اپنے دین کو لے لو اور چلے جاؤ! اگر تمہیں میرے پاس حق مل جاۓ تو میری طرف آؤ اگرچہ برف پر چار ہاتھ پاؤں ہوں؛ کیونکہ میں تمہیں امام مہدی کی طرف دعوت دونگا اور اگر تم مجھے نہیں چاہتے اور تم میری طرف آنا پسند نہیں کرتے تو جہاں تک مجھ سے دور جا سکتے ہو چلے جاؤ اگرچہ تم فرار نہیں کر سکتے؛ کیونکہ خدا کی قسم اگر تم آسمان کے ستاروں کے پیچھے چھپ جاؤ تب بھی وہ تمہیں ڈھونڈھ لایئں گے اور تمہیں رسوا کر دیں گے؛ کیونکہ یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا تم نے سوچا ہے بلکہ یہ ایک بڑی مصیبت ہے جو ضعیف کو بےتاب اور جوانوں کی نیندیں اڑا دیتی ہے۔ [قول ۱]

ان لوگوں کے بارے میں کہ جو آنجناب کی قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے، اور مھدی کی طرف آنجناب کی دعوت کا مزاق اڑاتے ہیں۔

قول کا ترجمہ: سورج کے بنا وہ کس طرح سویرا دیکھیں گے؟بنا پانی کے زمین کس طرح ہریالی دیکھے گی؟! تا ابد ان کی شام باقی رہے گی اور ان کی زمین بنجر بنی رہے گی۔ چونکہ خلیفۂ خدا ان پر غالب نہیں ہیں اور احکام خدا ان کے درمیان جاری نہیں ہوں گے۔ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور جو اس کے لئے کسی شریک کے قائل ہیں، انہیں چھوڑو۔ وہ لوگ ہماری باتوں کا مزاق اڑائیں اور اپنے اسی کھیل تماشے میں سرگرم رہیں؛ وہ لوگ خود کش افراد کی طرح پشیمان ہونگے اور نجاست خور حیوان کی طرح الٹیاں کریں گے۔ اور پھر اس وقت وہ لوگ میری تلاش میں دریاؤں میں غوطے لگائیں گے اور پہاڑوں کو سر کر جائیں گے؛ اس وقت وہ لوگ مجھے پہاڑوں کی دراڑوں میں تلاش کریں گے اور بیابان کے چرواہوں سے میرا پتہ پوچھیں گے تاکہ میں ان سے وہ ساری باتیں دوبارہ کہوں جسے وہ آج سننے پر آمادہ نہیں ہیں اور انہیں ان راستوں کی پھر سے نشاندہی کراؤں جسے وہ آج مجھ سے قبول نہیں کر رہے ہیں۔ [قول ۲]

آنجناب کی طرف سے ایک پیغام ان جوانوں کے لئے کے لئے جو مہدی کے دوستدار ہیں اور ان سے ہدایت چاہتے ہیں۔

قول کا ترجمہ: جب تمام لوگ دائیں اور بائیں تاک رہے ہوں تب آپ ایک درمیانی راستہ اختیار کریں، اور جب تمام لوگ زید اور عمرو کی طرف بھاگ رہے ہوں تو آپ مہدی کی جانب اپنے قدموں کو بڑھائیں۔ خدا کو شدت سے یاد کریں اور جنت کو اپنی قیمت قرار دیں، نماز کو اسکے اول وقت میں ادا کریں اور زکات انکے حقداروں تک پہنچائیں، اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کریں کیوں کہ آپ کا ا اور انکا ساتھ زیادہ نہیں رہنے والا ہے، لوگوں کو اچھائی کی طرف دعوت دیں اور انہیں برائی سے دور کریں اپنے کاموں کو آسان کریں جو چھوڑنے لائق ہے انہیں چھوڑ دیں اور جو لے چلنے لائق ہے اسے اٹھا لیں اور مہدی کی طرف کوچ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں؛ کیونکہ جب بھی مجھے کافی تعداد میں ہمراہ مل جائیں گے میں انکی طرف کوچ کر جاؤنگا، چاہے میرے اور انکے درمیان سات سمندر ہی کیوں نہ ہوں۔ کون ہے جو مجھے دس ہزار لوگوں کی ضمانت دے تاکہ ظہور مہدی کے لئے میں انکے لئے ضامن ہو جاؤں؟! زمین گندی اور زمان ایک پھوڑے کی مانند ناپاک ہو چکا ہےکہ جسنے اپنا منھ کھول رکھا ہے، لیکن عاقبت پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے۔ [قول ۴]

مقدّمہ

حضرت علاّمہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے اسباق کہ ان کا مقصد لوگوں کی آبیاری کرنا اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینا اور ان کا محور و اساس قرآن و سنّت اور ان کا موضوع اسلامی عقائد و احکام و اخلاقیات ہے اور ہم نے ان میں سے ایک ایسی چیز کا انتخاب کیا ہے جو زیادہ اہم اور متعلّقہ ہے اور ہم نے اسے اسطرح مرتّب کیا ہے کہ صاحب تحقیق و مطالعہ کے لۓ آسان ہو اور ہم نے ان کے لۓ اقتباسات اور کچھ ضروری وضاحتوں سمیت تبصرے لکھے ہیں۔ [اسباق کا مقدّمہ]

مقدّمہ

اسباق کا ہر باب ایک اعتقادی، فقہی یا اخلاقی مسئلے کے بارے میں ہے اور تین فصلوں پر مشتمل ہے:

• فصل یکم قرآن کی آیات کا اظہار ہے جو مذکورہ مسائل سے متعلّق ہیں، اور جن میں حضرت علّامہ حفظہ اللہ تعالیٰ کی قیمتی تفسیریں، ان کے روشن خطابات سے آیات کے معانی اس طرح اخذ کیے گئے ہیں کہ جو دلوں کو سکون دیتے اور لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جاتے ہیں، وضاحت کرتا ہے۔

• فصل دوم میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی وہ صحیح احادیث بیان کی گئی ہیں جو مذکورہ مسئلے سے متعلق دلائل اور ان کے نتائج کو واضح کرتی ہیں، اور جن میں حضرت علّامہ حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دقیق نکات اور مفید وضاحتیں شامل ہیں، جو احادیث کے معانی، راویوں کی حالت اور علما کے نظریات کی وضاحت کرتی ہیں۔

• فصل سوم میں اہل بیت علیہم السلام کی وہ صحیح احادیث بیان کی گئی ہیں جو مذکورہ مسئلے سے متعلق شواہد اور ان کے متعلّقہ پہلوؤں کو بیان کرتی ہیں، اور اس میں وہی چیزیں شامل ہیں جو فصل دوم میں مذکور ہیں۔ [اسباق کا مقدّمہ]

مقدّمہ

قاعدہ حضرت علاّمہ حفظہ اللہ تعالی کے نزدیک خبر متواتر کا حجّت ہونا اور خبر واحد کا حجّت نہ ہونا ہے خبر متواتر اس کے نزدیک وہ ہے جو ہر طبقے کے چار سے زیادہ مردوں نے بیان کی ہو، اس شرط کے ساتھ کے وہ ایک دوسرے کے نزدیک نہ ہوں اور معنی میں اختلاف نہ رکھتے ہوں اور جو کچھ انھوں نے بیان کیا ہے وہ خدا کی کتاب یا پیغمبر صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ثابت شدہ روایت یا عقل سلیم سے متصادم نہ ہو۔ اسی طرح وہ چیز جو ہر طبقے کے چار مردوں نے بیان کی ہے وہ خبر متواتر کے حکم میں ہے یعنی وہ ایک نتیجہ ہے اس شرط کے ساتھ کے وہ پچھلی تین شرائط کے علاوہ وہ عادل ہوں اور یہی بات چار مردوں سے زیادہ نہ ہونے پر راویوں کی حالت کا جائزہ لینا ضروری بناتی ہے۔ لیکن ان کی حالت کا جائزہ جب بھی وہ اس تعداد سے کم یا زیادہ ہوں تو یہ وہی کام ہے جو علاّمہ حفظہ اللہ تعالی ذمّہ داری سے انجام دیتے ہیں کیونکہ اکثر مسلمان کسی ایک ثقہ یا اخلاص کی خبر کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں اور جو کچھ پانچ آدمیوں نے بیان کیا ہے اسکو متواتر نہیں سمجھتے۔ لہذا حضرت علاّمہ حفظہ اللہ تعالی ثقہ یا حقّانیت کے راویوں نے جو کچھ بیان کیا ہے اسے اختیار کرتے ہیں تاکہ انکے اوپر حجّت ہو اور وہ ہدایت پایئں۔ [اسباق کا مقدّمہ]

مقدّمہ

البتّہ احادیث کی سند کے لۓ علاّمہ حفظہ اللہ تعالی کی شرط یہ ہے کہ ان کے معنی کو خدا کی کتاب، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ و سلّم سے ثابت شدہ اور عقل سلیم کے مطابق ڈھالنے کے بعد ان کے راویوں کی روایت ان لوگوں پر ثقہ یا دیانت دارانہ ہے جو ان کے مذہب والے ہیں، ان کے مخالف نہیں؛ جیسا کہ جابر ابن یزید جعفی نے حالیہ تشریح میں بیان کیا ہے اورفرمایا ہے: «معیار، شخص کی حالت اسکے ساتھیوں کے نزدیک ہے (یعنی اسکے مذہب والے) کیونکہ وہ اس کی حالت سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی راۓ جب بھی اسکے ساتھیوں کے قول کے خلاف ہو، تو حجّت نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اس سے بہت دور ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اسکے مذہب کی ناپسندیدگی کی بناء پر وہ اسے برا بھلا کہیں اس کا ثبوت پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا کام ہے جو آپ نے یہودیوں سے فرمایا: ’عبد اللہ بن سلام تم میں سے کیسا آدمی ہے؟‘ تو انہوں نے کہا: ’ہم میں اچھّا اور ہم میں اچھّے کا بیٹا، اور ہمارا سرور اور ہمارے سرور کا بیٹا اور ہمارا عالم اور ہمارے عالم کا بیٹا‘ تو انھوں نے اس کے بارے میں جو کہا اسے قبول کر لیا؛ کیونکہ وہ اسکے ساتھی تھے، اور پھر جب انھیں اطّلاع ملی کہ وہ مسلمان ہو گیا تو انھوں نے بہتان تراشی شروع کر دی اور کہنے لگے: ’ہم میں سب سے برا اور ہم میں سب سے برے کا بیٹا‘ لیکن اسکے بعد کے جب وہ مذہب میں اسکے مخالف ہو گۓ تو انکی باتوں کو اسکے بارے میں قبول نہیں کیا اور اگر مذہب میں مخالفین کی بات قبول کر لی جاۓ تو حدیث میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا کیونکہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کو برا بھلا کہتا ہے؛ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیعہ اہل سنّت کی روایت پر عمل نہیں کرتے سواۓ اسکے جو وہ اپنے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دیکھتے ہو کہ اہل سنّت شیعوں کی روایت کو حیرانی اور طنز کے علاوہ نہیں دیکھتے اور وہ دونوں ہی راستے کو درمیان سے کھو چکے ہیں، لیکن ہم ہر اس چیز کو قبول کرتے ہیں جو مسلمان خدا کی کتاب کے مطابق بیان کرتے ہیں جب بھی اپنے ساتھیوں کے نزدیک سچ کہنے میں مشہور ہونگے کسی بھی مذاہب کے ساتھ بغیر تعصّب رکھے ہونگے»۔ [اسباق کا مقدّمہ]

مقدّمہ

حضرت علاّمہ حفظہ اللہ تعالی کے لۓ جو معیار ہے وہ اسلام ہے اور راوی کی اپنے قبیلے کے ساتھ امانت یا دیانت کی شرط ہے، نا کہ اسکے مذہب یا مخالفین کی کمزوریاں بغیر کسی قابل قبول وجہ کے۔ تو اگر راوی اہل سنّت میں سے ہے تو اسکی حالت کا معیار اہل سنّت کے ساتھ ہے اور اسکی حالت شیعوں کے نزدیک معیار نہیں ہے اور اگر راوی شیعہ ہے تو اسکی حالت کا معیار شیعوں کے پاس ہے اور اسکی حالت اہل سنّت کے نزدیک معیار نہیں ہے اور شیعہ اور سنّی روایات میں کوئ فرق نہیں ہے جب وہ مذکورہ بالا تین اصولوں سے ہم آہنگ ہوں اور انکے راوی اپنے مذہب میں اپنی امانتداری یا دیانت داری کے لۓ جانے جاتے ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضرت علاّمہ حفظہ اللہ تعالی شیعوں کی روایتوں کو اہل سنّت کی روایات کی طرح اختیار کرتے ہیں اور کسی کی بھی روایت کو اسکے مذہب کی وجہ سے نہیں چھوڑتے جب کہ اسکا مذہب دین کی ضرورت کے خلاف نہ ہو، اس طریقے سے جو اسے اسلام سے خارج کر دے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ منافق ہے اور منافق کسی بھی طرح سے قابل اعتماد نہیں ہے حالانکہ تمام لوگ اسے ثقہ سمجھتے ہوں۔ [اسباق کا مقدّمہ]

جناب منصور کے نزدیک عقل اور شریعت دونوں کا ماخذ ایک ہے اور دونوں ہی خداۓ حکیم کی خلقت ہیں اسلۓ دونوں میں کوئ تضاد نہیں ہے؛ جیسا کہ اللہ نے خود فرمایا ہے: ﴿مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ؛ «خدا کی خلقت میں کوئ فرق نہیں دیکھو گے» اور اس صفت کے ساتھ، عقل کی پیروی کا مطلب شریعت کی پیروی نہ کرنا اور اس پر اولویت دینا نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس شریعت کی پیروی کے معنی میں بھی ہے؛ کیونکہ شریعت نے ماخذ کی وحدت اور عقل کے ساتھ اس کی مکمّل مطابقت کے سبب عقل کی پیروی کا حکم دیا ہے اور اسکی طرف بلایا ہے؛ جیسا کہ مثال کے طور پر فرمایا ہے: ﴿لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ؛ «امّید کی جاتی ہے کہ تم عقل کو کام میں لاؤ» اور فرمایا ہے: ﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ؛ «کیا تم عقل کو کام میں نہیں لاؤگے؟!» اس بناء پر جناب منصور عقل کو شریعت پر اولویت نہیں دیتے اور اس بات کے معتقد نہیں ہیں کہ تم شریعت کی جگہ عقل کی پیروی کرو، بلکہ وہ عقل کو شریعت کے موافق سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تم دونوں کی پیروی کرو۔ [سوال و جواب ۲]

یہ عقل کو معیار شناخت سمجھتے ہیں اور اس حیثیت سے کہا جا سکتا ہے کہ عقل کو شرع پر اولویت دیتے ہیں، لیکن یہ اس وجہ سے ہے کہ شریعت عقل کے وسیلے سے پہچانی جاتی ہے اور شریعت کی شناخت خود اسکے وسیلے سے ممکن نہیں ہے؛ کیونکہ واضح ہے کہ اعتبار قرآن کو پہچاننے کے لۓ قرآن، سنّت کے اعتبار کی شناخت کے لۓ سنّت سے استناد نہیں کیا جا سکتا اور اسطرح کا کام مناسب نہیں ہے۔ اس وجہ سے، شریعت کے اعتبار کو پہچاننے کے لۓ عقل کے استناد کے علاوہ کوئ اور چارہ نہیں ہے اور اسی وجہ سے، عقل کو شریعت پر ایک قسم کی ضروری اور فطری ترجیح حاصل ہے اور شریعت بھی اس اولویت کو رسمی طور پر پہچانتی ہے، لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ شریعت کے تمام احکامات جیسے نماز کے احکام، روزہ، حج، اور زکات مستقل طور پر عقل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں؛ اسلۓ کہ اس قسم کے احکامات خداوند عالم کے ایجادات میں سے ہیں کہ عقل ان کے اسباب و علل کو شمار نہیں کر سکتی اور ناگزیر اس کا خود خداوند عالم سے سننا ضروری سمجھتی ہے۔ اس وجہ سے شناخت کے لۓ عقل کا معیار ہونا اس کا شریعت سے بےنیاز ہونے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ شریعت کی تمام چیزوں کی شناخت کے لۓ ذریعہ ہونے کے معنی میں ہے کہ جو بلاشبہ اسکے ذاتی اور بدیہی اعتبار سے ممکن ہے۔ [سوال و جواب ۲]

سلف کے متعلق جناب کی باتوں کا ما حصل یہ ہے پہلی بات تو یہ کہ سلف کا آئندہ آنے والوں کے بنسبت زیادہ عالم اور فاضل ہونا قطعی نہیں ہے اور یہ بات عقلی اور شرعی طور پر بھی ثابت نہیں ہو سکتی ہے یہ بات صرف اور صرف ایک احتمال ہے، اور یہ احتمال انکی تقلید کے جواز پر بطور دلیل کافی نہیں ہے اور دوسرا اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ سلف، آئندہ آنے والوں سے زیادہ عالم ہیں، تب بھی یہ قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ انکا علم صحیح اور کامل طور پر آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا ہے کہ جس بات پر انکی تقلید جائز اور واجب ہو جائے اور سلف کو آئندہ آنے والوں کی نسبت سے زیادہ فاضل مان بھی لیا جائے تو انکا یہ فضل، آخرت میں انکے زیادہ اجر ہونے کے بنا پر ہوگا کہ جو اب بھی اس دنیا میں انکی تقلید کے جواز پر دلیل کے طور پر کافی نہیں ہے۔ اس لئے، جناب منصور ہاشمی خراسانی کے نظریے کے مطابق، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سلف کو چھوڑ کر کتاب خدا اور پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی یقینی سنت پر عمل کریں؛ بالکل اسی طرح جس طرح خود سلف اسی بات کی کوشش کرتے تھے اور وہ اپنے سلف کی اتباع نہیں کیا کرتے تھے اور نہ اپنے سے بعد میں آنے والوں سے یہ کہا کرتے تھے کہ انکی اتباع کی جائے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کسی با خبر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ [سوال و جواب ۳]

ظہور مہدی کے سچے زمینہ ساز خراسان کی ایک جماعت ہے کہ جو سیاہ پرچم کے ساتھ طلب مہدی کے لئے باہر نکل پڑی ہے اور مکمل خلوص کے ساتھ، تمام شرک اور شکوک سے دور ہو کر لوگوں کو اسکی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس جماعت کے رہبر منصور، ایک صالح عالم ہیں کہ جو اپنے لئے ایک بھی نا مناسب لفظ ادا نہیں کرتے ہیں۔ وہ خود کے لئے مہدی ہونے کا یا پسر مہدی ہونے کا، انکے نائب ہونے کا یا انکی طرف سے بھیجے ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ اپنے عمل سے لوگوں کو انکی طرف دعوت دیتے ہیں درحقیقت وہ انکے ظہور کے لئے زمینہ سازی کرتے ہیں اور ہر انسان جسکے لئے خدا نے خیر چاہا ہو وہ لاکھ مشکلات کے باوجود بھی انکی طرف کھیچا چلا آتا ہے اگر چہ وہ کتنی ہی مشکلات میں کیوں نہ ہو۔ [سوال و جواب ۴ ضمیمے]

امام مہدی علیہ السلام کے نائب یا انکے فرزند یا انکی طرف سے کسی بھیجے ہوئے شخص کا وجود عقلا اور شرعا محال نہیں ہے؛ کیونکہ ایک قول کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کا وجود دنیا میں موجود دیگر انسانوں کی ہی طرح ہے لہذا دوسروں کی طرح انکے لئے بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے کام کی انجام دھی کے لئے کسی کو اپنا نائب منتخب کریں یا کسی اور کو اس کام کے کرنے کے لئے بھیجیں یا وہ اپنی نسل کو بڑھاوا دینے کی خاطر کسی کو اپنی ہمسری میں لے آئیں، لیکن اس بات کے مد نظر کہ کسی کا کسی اور کے لئے نائب یا فرزند ہونا یا کسی کا بھیجا ہونا خلاف اصل ہے، لہذا مدعی کے لئے لازم ہے کہ وہ معتبر شرعی دلیلوں کے ذریعہ سے اپنی بات کو ثابت کرے، اور یہ بات واضح ہے کہ خواب یا خبر واحد کبھی بھی معتبر شرعی دلیل کے طور پر نہیں شمار کی جاتی ہے؛ کیونکہ قرآن و سنت میں کہیں بھی کسی ایسی بات کا ذکر نہیں ہے کہ جو خواب کو دیگر دلیل نہ ہونے کی صورت میں اسے ہی بطور دلیل قبول کر لینے یا خود خواب کو دلیل بنا لینے کے جواز پر دلیل ہو اور کبھی قاضی سے بھی یہ بات قبول نہیں کی جاتی ہے کہ خواب کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ کسی دلیل کے خلاف یا کسی دلیل کے بنا ہی کوئی حکم سنا دے۔ اس بنا پر وہ چیز کہ جسکی حجیت عقلا اور شرعا ثابت نہیں ہے اسکا معتقد نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس پر عمل کرنا چاہئے اگر چہ کہ اس کے مطابق خواب ہی کیوں نہ دیکھا ہو۔ یہ بات صریحی طور پر اہل بیت علیہم السلام سے منسوب روایتوں میں ذکر ہوئی ہے: جیسا کہ فرماتے ہیں: «دین خداوند خواب میں دیکھے جانے والے ہر ایک چیز سے بہتر ہے»۔ سوائے اس کے کہ معصوم کوئی خواب دیکھے؛ جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جو خواب میں دیکھا۔۔۔ یا کوئی غیر معصوم خواب دیکھے اور کوئی معصوم اس خواب کی تعبیر بتائے مثلا ایک خواب فرعون نے دیکھا اور اس خواب کی تعبیر جناب یوسف علیہ السلام نے بتائی۔۔۔ اس بنا پر وہ خواب کہ جو عام لوگ دیکھتے ہیں یا اسکی تعبیر کرتے ہیں اسکا کوئی اعتبار نہیں ہے اور یہ اکثر موجب ظن قرار پاتے ہیں بالکل اسی طرح سے جس طرح خبر واحد موجب ظن ہوتی ہے۔ لہذا ان چیزوں کو دین سے مربوط چیزوں میں گھسیٹ لانا جائز نہیں ہے؛ جیسا کہ خود خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے: «بیشک ظن حق کو کسی بھی چیز سے بے نیاز نہیں کرتا»۔ [سوال و جواب ۴]

متواتر احادیث کو چھوڑ کر احادیث کا مشتبہ ہونا صرف «منصور ہاشمی خراسانی» کا نظریہ نہیں ہے، بلکہ سلفیوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر تمام اسلامی فرقوں کے عام مسلمان علماء کا ہے اور یہ ایک واضح اور وجدانی حقیقت ہے اس حد تک کہ بعض مسلم علماء کے نزدیک جیسے کہ نووی (م:۶۷۶ھ) سے صحیح مسلم کی شرح میں ہے کہ «اس چیز کا انکار محسوس کے مدّ مقابل لج بازی کے سوا کچھ نہیں ہے» کیونکہ واحد احادیث فطری طور پر اسطرح ہیں کہ ان میں غلطی، تحریف اور جھوٹ کا امکان ہے اور اس امکان کے باوجود ان کے جاری ہونے کا کوئ یقین نہیں ہے۔ [تنقید اور جائزہ ۱]

شبہ کا حجّت نہ ہونا قرآن کریم میں خدا کا واضح بیان ہے، جو اس نے بارہا تاکید کے ساتھ فرمایا ہے: ﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا؛ «یقینا حق پر شک کافی نہیں ہے» اور واضح ہے کہ خدا کا یہ واضح بیان عقلی اصول کی رہنمائی ہے؛ کیونکہ عقل بھی حقیقت کو جاننے کا واحد معیار یقین کو سمجھتی ہے اور شبہ، شک، اور وہم کو ان میں تضاد کے امکان کی وجہ سے حقیقت جاننے کے لۓ کافی نہیں سمجھتی، اور یہ واضح ہے کہ عقلی فیصلے قابل تفویض نہیں ہیں؛ جیسا کہ خدا کا واضح بیان، پانی کے اختصاص کے بارے میں ہے؛ اس معنی میں کہ اس کے فیصلہ کن اور واضح لہجے اور سیاق و سباق کے مطابق فطرت پر اسکے مضمرات کو دیکھتے ہوۓ، یہ شک کرتا ہے مختص کو برداشت نہیں کرتا؛ اس حقیقت کے علاوہ کہ کسی ایک خبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شبہات کی تقسیم اکثریت کی ایک بڑی تعداد کو مختص کرنا ہے، جسے یکسان سمجھا جاتا ہے؛ اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوۓ کہ بہت سے لیکن زیادہ تر شبہات ایک خبر کی وجہ سے ہوتے ہیں اور پےدر پے خبریں شک کا باعث نہیں بنتیں اور غیر خبر سے پیدا ہونے والے شبہات بھی اقلیت میں ہیں۔ لہذا عقلی اور مذہبی اعتبار سے کسی ایک خبر کو دوسرے شبہات سے خارج کرنا ممکن نہیں۔ [تنقید اور جائزہ ۱]

حضرت منصور ہاشمی خراسانی اجتہاد کا مطلب مشتبہ دلائل سے فیصلے کو ناکافی سمجھتے ہیں، اور یہ واضح طور پر اسلام میں شبہ کے کافی نہ ہونے پر مبنی ہے؛ کیونکہ جب اسلام میں شبہ کافی نہیں ہے تو اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا کہ اسکا ماخذ تقلید ہے یا اجتہاد ہے، بلکہ اسکا ماخذ جو بھی ہو کافی نہیں ہے۔ [تنقید اور جائزہ ۱]

مندرجہ بالا معنوں میں تقلید اور اجتہاد کا کافی نہ ہونا، اس لحاظ سے کہ وہ مفید شبہات ہیں، اس کے لۓ مذہبی فرائض کے زوال کا مطالعہ یا یقین کو حاصل کرنے کی ذمّہ داری کی ضرورت ہے، البتّہ چونکہ دینی فرائض کا زوال ممکن نہیں ہے اس لۓ ان کے لۓ حصول یقین کی ضرورت متعیّن ہے اور ان کے لۓ یقین حاصل کرنا دو طریقوں سے ممکن ہے: خدا کی کتاب اور اسکے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی یقینی سنّت کہ جو آنحضرت اور انکے خلیفہ کی مسلسل اخبار سے ظاہر ہوتی ہے۔ [تنقید اور جائزہ ۱]

خوش قسمتی سے، اسلام کے بہت سے ضروری اور بنیادی احکام، جیسے نماز، روزہ، زکات اور حج کے ارکان، جن کی وضاحت حضرت منصور ہاشمی خراسانی نے اپنی کتاب کے ایک حصّے میں کی ہے، یہ خدا کی کتاب اورا سکے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی یکی بعد دیگر خبروں کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے اور اس تفصیل سے ان پر عمل کرنا مجازی ہے، لیکن اسلام کے دیگر احکام پر یقین کرنے اور ان سے بریّ الذّمّہ ہونے کے لۓ زمین پر خدا کے خلیفہ کی طرف رجوع کرنے کے سوا کوئ چارہ نہیں ہے اور یہ کام حضرت منصور ہاشمی خراسانی کے نزدیک ممکن ہے؛ کیونکہ اس کی طرف رجوع کرنے میں رکاوٹ، لوگوں کے ذریعہ ابتدائ شرائط فراہم کرنے کی غلطی کے سوا کچھ نہیں ہے اور فطری طور پر اس رکاوٹ کو دور کرنے کا مطلب لوگوں کے ذریعہ اسکی طرف رجوع کرنے کے لۓ ابتدائ شرائط کو فراہم کرنا ہے اور وہ انکے لۓ ممکن ہے اور اگر اس کام کے لۓ ان میں سے کافی لوگوں کا جمع ہونا ضروری ہے اور وہ ان میں سے کافی لوگوں کو جمع نہیں کر پاتے تو اسمیں حضرت منصور ہاشمی خراسانی کا کوئ قصؤر نہیں ہے بلکہ خود لوگوں کا قصور ہے اور ان لوگوں کا ہے جو لوگوں کو اس کام سے روکتے ہیں۔ [تنقید اور جائزہ ۱]

منصور ہاشمی خراسانی کی تحریر کردہ کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کا جائزہ

ایک اور بنیادی اور اہم موضوع جس پر منصور ہاشمی خراسانی نے اپنی جداگانہ اور چیلنجنگ کتاب «اسلام کی طرف واپسی» میں تبصرہ کیا ہے وہ اسلامی حکومت کا موضوع ہے۔ اس کے نقطہ نظر سے لوگوں پر حکمرانی صرف خدا کے لۓ ہے اور اس کے سوا کسی کو ان پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے اور وہ نائب یا اصطلاح میں «خلیفہ» مقرّر کر کے ان پر اپنی حاکمیت استعمال کرتا ہے۔ البتّہ اسلامی حکومت کی تشکیل اور اسکے سیاسی جواز کی بنیاد خدا کی خاص اور قطعی اجازت ہے جو کہ عالم اسلام میں موجودہ حکمرانوں میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں ہے اور اسی لۓ ان میں سے کسی کی بھی حکومت فی الحال اسلامی حکومت نہیں سمجھی جائگی۔ وہ اسلامی حکومت کی ضرورت کے لۓ خدا کی طرف سے ایک خاص اور قطعی حاکم کی تقرّری کو اسلام اور دیگر ابراہیمی مذاہب کے لۓ واضح اور ضروری مسائل میں سے ایک سمجھتا ہے اور اس بارے میں بحث و مباحثہ کوئ معنی نہیں رکھتا۔ بلا شبہ مصنّف تمام اسلامی فرقوں کے تمام مسلم علماء کے بر عکس عوام کو ایسے حکمران تک رسائ کا حامل سمجھتا ہے اور اسکا خیال ہے کہ ایسے حکمران تک ان کی رسائ نہ ہونے کی وجہ ان کے تصوّر کے بر خلاف خدا کی حکمت نہیں ہے بلکہ شرائط فراہم کرنے میں انکی غلطی ہے اور جب بھی وہ یہ شرائط بطور عادّی حاصل کر لینگے خلیفہ خداوند تک رسائ کا احساس ہوتا رہے گا۔ تاہم، ان کی اس حاکم تک رسائ کی کمی اس کے علاوہ کسی حکمران کے لۓ عذر نہیں ہے کیونکہ ایک طرف خدا کے مقرّر کردہ حاکم تک ان کی رسائ کے امکان کے پیش نظر کسی دوسرے حاکم کے اختیار کی ضرورت نہیں ہے اور دوسری طرف اس حاکم تک ان کی رسائ نہ ہونا انکی اپنی غلطی ہے؛ اور اس وجہ سے وہ کسی دوسرے حکمران کے اختیار میں ہوتے ہوۓ ایک عذر کی طرح استعمال نہیں کۓ جا سکتے اگرچہ ان کے پاس کوئ اختیار نہیں ہے۔ اسطرح اسلامی حکومت زمین پر خدا کے خلیفہ کی حکومت سے ہی ممکن ہے اور زمین پر خدا کے خلیفہ کی حکومت عوام کے ارادے اور اختیار سے ہی ممکن ہے۔ [مقالہ ۱]

منصور ہاشمی خراسانی کی تحریر کردہ کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کا جائزہ

خراسانی کتاب «اسلام کی طرف واپسی» میں ایک اور جگہ اسلام کے قیام کو اسکی خالص اور مکمّل شکل میں مفید اور کارآمد سمجھتا ہے اور اسکا خیال ہے کہ اسلام کے کسی حصّے کو اکیلے یا کسی اور باہری چیز کے ساتھ قائم کرنا مفید اور کار آمد نہیں ہے بلکہ نقصان دہ اور خطرناک بھی ہو سکتا ہے اور یہ اکثر مسلمانوں کے اس تصوّر کے خلاف ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا ایک حصّہ قائم کرنا بھی مطلوب اور مؤثّر ہے۔ وہ اسلام کو ایک «مشین» سے تشبیہ دیتا ہے کہ اگر مشین کا ایک «جز» کام نہ کرے تو دوسرے اجزاء اپنی کار کردگی کھو دینگے اور پوری «مشین» نا کام ہو جائگی۔ لہذا مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ وہ مکمّل اسلام کو اس کی خالص شکل میں قائم کریں اور یہ زمین پر خدا کے خلیفہ کی تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ [مقالہ ۱]

منصور ہاشمی خراسانی کی تحریر کردہ کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کا جائزہ

اس کتاب میں ایک اور بنیادی اور چیلنج کرنے والا مسلہ یہ ہے کہ مصنّف اسلامی حدود اور سزاؤں کے نفاذ کو اسلام کے تمام عمومی اور سیاسی احکام کے نفاذ سے مشروط سمجھتا ہے اس کا خیال ہے کہ ان حدود اور سزاؤں کی قانون سازی زمین پر خلیفہ الہی کی حکمرانی کے مطابق، وقت اور جگہ کے مطابق کی جاتی ہے جس میں اسلام کے تمام احکام بنا رکاوٹ نافذ ہوتے ہیں۔ اسلۓ ان حدود اور سزاؤں کا دوسرے وقت اور جگہ پر نفاذ منصفانہ اور متناسب نہیں ہے؛ خاص طور پر اس بات پر غور کریں کہ مصنّف کے نقطہ نظر سے اسلام کے احکام ایک دوسرے سے وابستہ اور پیوستہ ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے متاثّر ہوتے ہیں۔ [مقالہ ۱]

منصور ہاشمی خراسانی کی تحریر کردہ کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کا جائزہ

منصور ہاشمی خراسانی نے کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کے ایک اور حصّے میں مسلمانوں کے اختلافات، غیر خدا کی حاکمیت، غیر اسلامی قوموں اور ثقافتوں کے ساتھ گھل مل جانا، مذاہب کا ظہور اور انکی ایک دوسرے سے دشمنی، اخلاقی گراوٹ اور دشمنوں کی ممانعت کو خالص اور کامل اسلام کے قیام کی راہ میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے اب تک سب سے بڑی رکاوٹ بتایا ہے اور ہر ایک کے بارے میں تاریخی اور تفصیلی روضیاتی اور اعلی مذہبی نقطہ نظر سے بات کی ہے۔ وہ اسی طرح حدیث پرستی کو بھی خالص اور مکمّل اسلام کے قیام کی راہ میں مسلمانوں کے ذریعہ رکاوٹ مانتا ہے؛ کیونکہ اسکی نظر میں حدیث کا مطلب سنّت پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ایک مشتبہ خبر ہے اسلام میں شبہ کے معتبر نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کوئ اعتبار نہیں ہے اور اسکی سند حکم یا عقیدہ کے استنباط کے لۓ کافی نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ حدیث سے پیدا ہونے والے شبہات کو دوسرے شبہات سے خارج کرنے کی کوئ وجہ نہیں ہے کیونکہ شبہ کا معتبر نہ ہونا عقلی احکام میں سے ہے اور عقلی احکام استثنی کو قبول نہیں کرتے۔ لہذا صرف متواتر احادیث صحیح ہیں جن کے متعدّد راوی ہوں اور وجہ یقین ہوں اور یہ تب ہے جبکہ ایسی حدیث بہت کم ہے اور دستیاب نہیں ہے۔ تاہم مصنّف کے نقطہ نظر سے اس مخمصے کا حل یہ نہیں ہے کہ کسی غیر متواتر حدیث کا حوالہ دیا جاۓ بلکہ زمین پر خدا کے خلیفہ کی طرف رجوع کیا جاۓ اور اگر اسوقت اسکی طرف رجوع کرنا ممکن نہ ہو تو یہ مقدّمات فراہم کرنے میں عوام کی غلطی ہے لہذا ان کے لۓ کوئ عذر نہیں ہے یعنی غیر متواتر حدیث کی طرف رجوع نہ کریں۔ [مقالہ ۱]

منصور ہاشمی خراسانی کی تحریر کردہ کتاب «اسلام کی طرف واپسی» کا جائزہ

ہاشمی خراسانی کا خیال ہے کہ لوگوں نے زمین پر خدا کے خلیفہ تک پہونچنے کے لۓ ضروری انتظامات کرنے میں اپنی غلطی سے اپنے آپ کو بےبس کر لیا ہے اور انکی یہ بےبسی خدا کی جانب سے نہیں ہے تاکہ اسکے فضل سے متصادم ہوں۔ تاہم اسکا خیال ہے کہ ان لوگوں کا اس بےبسی سے نکلنا ممکن ہے، کیونکہ زمین پر خدا کے خلیفہ تک انکی رسائ، جب خلیفہ خداوند کی حفاظت کی ضمانت لوگوں کی طرف سے دی جاۓ، ممکن ہے؛ جیسا کہ جب تک ان پر اسکی حاکمیت ہے جب بھی لوگوں کی طرف سے خدا کے خلیفہ کی مدد اور اطاعت اور حفاظت کی ضمانت دی جاۓ تو اس بےبسی سے نکلنا ممکن ہے۔ [مقالہ ۱]

کتاب ڈاؤنلوڈ اور سوفٹ ایر