اتوار ۱۱ جنوری ۲۰۲۶ برابر ۲۲ رجب ۱۴۴۷ ہجری قمری ہے
منصور ہاشمی خراسانی
حضرت علّامہ منصور ہاشمی خراسانی حفظہ اللہ تعالی کے دفتر کے معلوماتی مرکز (ویب سایٹ) کا اردو زبان میں آغاز ہو گیا ہے۔
loading

یقینا ادراکاتِ عقل کسی بھی انسان کے اندر وسیع نہیں ہیں بلکہ انسان کے علم کی مقدار سے وابستہ ہیں۔ عقل مختلف مراتب کی حامل ہے کبھی وہم، جس میں احتمال کا پلّہ ہلکا ہوتا ہے کبھی شک، جس میں احتمال کا پلّہ برابر ہوتا ہے کبھی ظن جس میں احتمال کا پلّہ بھاری ہوتا ہے اور یقین میں خلاف کا احتمال ہی نہیں ہوتا ہے۔ اس کے با وجود اگر چہ یہ تمام باتیں عقل ہی سے نمودار ہوتی ہیں لیکن ان میں صرف یقین ہی معیار شناخت ہے کیونکہ وہم و شک وظن اپنے ہی خلاف احتمال کے ساتھ متعارض ہوا کرتے ہیں۔ اور اس وصف کے ساتھ شناخت کے لئے ایک معیار کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ احتمالات کی موجودگی میں کسی ایک احتمال کو صحیح سمجھا جائے۔ وہ معیار وہی یقین ہے جس میں خلاف کا احتمال نہیں پایا جاتا ہے۔ اس وصف کے ساتھ اس کی حجیت ذاتی اور بدیہی ہے۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی شناخت کی بنیاد صرف یقین ہے جو شناخت یقین کی طرف نہیں لے جاتی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے جیسا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا[1]؛ «گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا» اور یہ اس حالت میں ہے کہ جب یقین کے بعد انسان کا قوی ترین ادراک ظن ہے تو جب ظن معیار شناخت نہیں ہو سکتا تو دوسرے ادراکات ظن سے بھی زیادہ ضعیف ہیں۔ لہٰذا تبعاً دوسرے ادراکات حجّت شمار نہیں کئے جا سکتے ہیں۔

بداہت عقل

علم کا پہلا معیار اور معرفت کی بنیاد عقل ہے۔ عقل کی حجّیت یقینی طور پر یہی ہے۔ کیونکہ جز کا تصوّر اس کی تصدیق کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس کی تصدیق تصوّر سے جدا نہیں ہے۔ بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ حجّیت خود ایک عقلی مقولہ ہے۔ اور جز کے معنی کبھی بھی عقل کے لئے کاشف حقیقت نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا یہ بالکل وہی بات ہو گئی کہ عقل کے لئے حجّیت کا ثابت ہونا ایسے ہے جیسے حجّیت سے زیادہ واضح ہونا چاہئے اور اس چیز کی حجّیت کو ثابت کرنا حجّیت عقل کے ثبوت کا محتاج ہوگا۔ جیسے شریعت اگر حجّیت عقل کو ثابت کرنا چاہتی ہے تو پہلے اس کو اپنی حجّیت کو ثابت کرنا پڑیگا کیونکہ شرع کی حجّیت عقل کی حجّیت سے زیادہ روشن نہیں ہے۔ ایسی حالت میں شرع کے حجّیت کے اثبات کے لئے عقل کے علاوہ کوئی دوسرا سہارانہیں اور شرع کی حجّیت کو خود اسی سے ثابت کرنا بے معنی ہے۔ ہاں عقل ہی شرع کی حجّیت کو ثابت کرتی ہے اسی وجہ سے عقل جب معیار شناخت ہوگی تو طبیعتا شریعت کو اپنے دامن میں لے لیگی۔ لہٰذا شریعت کو معیار شناخت قرار دینا عقل کے مقابلے میں ضرور ی نہیں ہے۔ یہ عام کے مقابلے میں خاص کو لانا یا ملزوم کے مقابلے میں لازم کو لانا صرف تاکید کے لئے ہے۔ جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا ہے: ﴿أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا[2]؛ «کیا آپ کو خیال ہے کہ ان کی اکثریت کچھ سنتی اور سمجھتی ہے؟ ہر گز نہیں! یہ سب جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گم راہ ہیں» اور فرمایا ہے: ﴿وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ[3]؛ «اور پھر کہیں گے کہ اگر ہم بات سن لیتے اور سمجھتے ہوتے تو آج جہنم والوں میں نہ ہوتے» اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ[4]؛ «کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ ان کے پاس ایسے دل ہوتے جو سمجھ سکتے اور ایسے کان ہوتے جو سن سکتے۔ اس لئے کہ درحقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر پائے جاتے ہیں»،

↑[۱] . یونس/ ۳۶
↑[۲] . الفرقان/ ۴۴
↑[۳] . الملک/ ۱۰
↑[۴] . الحج/ ۴۶